ہوم   > کھیل

بال ٹمپرنگ کا اعتراف ،آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا نیا کپتان کون؟

SAMAA | - Posted: Mar 27, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Mar 27, 2018 | Last Updated: 2 years ago

اسٹیون اسمیتھ کے بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کا تاج کس کے سر سجے گا؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق پانچ ممکنہ اور طاقت ور نام سامنے آگئے۔

بال ٹمپرنگ کے اعتراف کے بعد کپتانی کے عہدے سے فارغ ہونے والے اسٹیون اسمیتھ کے متبادل کیلئے کینگرو کرکٹ بورڈ کے حوالے سے 5 نام خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی اور مزید سزا کیلئے تیار اسٹیون اسمیتھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں بال ٹمپرنگ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا، جس کا اعتراف خود اسٹیون کی طرف سے بھی کیا گیا۔

ٹم پین :
سات سال بعد کرکٹ کی دنیا میں واپس آنے والے 33 سالہ ٹم پین کو خطرناک ایشز سیریز میں شامل کرنے پر سب حیران اور سکتے میں تھے۔ ٹھنڈے دماغ والے ٹم پین اسٹیون اسمیتھ کی جگہ کپتانی کے فرائض انجام دینے والے بہترین امیدوار ہیں۔ آسٹریلوی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز ٹم پین نے انگلینڈ کے خلاف ایشز ٹیسٹ میں شرکت کے ساتھ ہی 7 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی،، یہ ان کا گزشتہ 7سال بعد پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔انہوں نے آخری مرتبہ اکتوبر 2010ء میں بھارت کے خلا ف ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ اس قبل آسٹریلوی سلیکٹرز نے ٹیم پین کو ریگولر کپتان میتھیو ویڈ پر ترجیح دیتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے ٹیم میں منتخب کیا تھا۔ پین نے اکتوبر 2010ء سے 23 نومبر 2017ء کے دوران مجموعی طور پر 78 ٹیسٹ مس کئے، اس طرح وہ سابق ہم وطن کھلاڑی بریڈ ہوج کے ہم پلہ ہوگئے ہیں۔

مچل مارش:
آسٹریلوی آل راؤنڈر 26 سالہ مچل مارش صرف بال ہی نہیں بلے کے ساتھ بھی آج کل اچھی فارم میں ہیں، زیادہ عرصے تک کپتانی کیلئے مچل مارش بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ کافی عرصہ تک فٹنس مسائل کا شکار رہنے والے مچل نے صحت یابی کے بعد اپنے ریکارڈ کو بہتر بنایا ہے۔ سابق نیشنل کوچ جیوف کے بیٹے ہونے کی بنا پر مچل کے اندر اچھے وکٹ کیپر کے بھی چراثیم پائے جاتے ہیں۔

عثمان خواجہ :
آسٹریلیا کے پہلے مسلمان کرکٹر آسٹریلوی ٹیم میں ایک خوشگوار اضافہ ہیں، عثمان خواجہ کو تحمل مزاجی کے ساتھ بلے بازی کا واضع تجربہ ہے۔ اکتیس سالہ عثمان پیدا تو پاکستان میں ہوئے تاہم کھیل اور کرکٹ کیلئے انہوں نے آسٹریلیا کا انتخاب کیا۔ تاہم دورہ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے دوران خراب فیلڈنگ اور بار بار کیچ چھوڑنے پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں دو اہم مواقع پر آسان کیچز ڈراپ کرنے کی وجہ سے آسٹریلیا کو میچ میں شکست ہوئی تھی۔

پیٹ کیومنز

چوبیس سالہ نوجوان آسٹریلوی کھلاڑی پیٹ کیومنز اپنے ہم عمر لوگوں میں خاصی اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کسی غیر معمولی صورت حال میں ایک فاسٹ بولر کو ٹیم کا کپتان بنایا جائے، کیوں کہ اس صورت میں بولر پر ٹیم کی ذمہ داری ڈالنے سے دگنا بوجھ بڑھ جاتا ہے، تاہم اگر کینگرو کرکٹ بورڈ واقعہ ٹیم کی کپتانی کیلئے کسی فریش اور جوان چہرے کو سامنے لانا چاہتے ہیں تو پیٹ کیومنز ایک بہترین انتخاب ہے۔

مائیکل کلارک :
مائیکل کلارک اسٹیون اسمیتھ سے پہلے کپتانی کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ سال 2015 میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے اور موجودہ کومنٹیٹر مائیکل کلارک نے نازک صورت حال میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ کرکٹ میں واپسی کیلئے تیار ہیں۔ کلارک کا کہنا تھا کہ اگر درست افراد ان سے ان کی واپسی کا پوچھیں گے اور واپس آنے کا بولیں گے تو وہ اس بات پر سوچ سکتے ہیں۔ 36 سالہ کلارک نے سال دو ہزار پندرہ میں ورلڈ کپ فائنل کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ کلارک کا کرکٹ کیرئر شاندار کامیابیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کلارک نے 244 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے آٹھ سنچریوں اور57 نصف سنچریوں کی مدد سے7907 رنز بنائے۔ انہوں نے 73 ون ڈے میں قیادت کی جن میں سے49 جیتے۔

آسٹریلیوی کپتان 2007 ء کا عالمی کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ کلارک 2011 کے عالمی کپ کی آسٹریلوی ٹیم کا بھی حصہ تھے جو کوارٹرفائنل میں بھارت سے ہار گئی تھی۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف بال ٹمپرنگ کے اعتراف کے بعد آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ نے میچ کے دوران مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرا ٹیسٹ میچ بال ٹیمپرنگ کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گیا تھا، جب کیپ ٹاؤن میں جاری سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم کے کھلاڑی بین کرافٹ بال کا حلیہ بگاڑتے ہوئے پکڑے گئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube