کرکٹ میں گرگٹ۔۔۔

October 25, 2017

پاکستان میں کرکٹ کو جس طرح کی پذیرائی حاصل ہے اس طرح کسی اور کھیل کو نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ پیسہ بھی اسی کھیل میں موجود ہے چاہے وہ لیگ کرکٹ ہو یا انٹرنیشنل کرکٹ مگر افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صرف کھیلنے سے اتنا پیسہ مل جاتا ہے کہ جو کہ کسی پاکستان میں ڈاکٹر یا انجینئر کو شاید ہی ملتا ہو۔ خیر پاکستان میں فکسنگ اور پھر اس کے بعد سزا ملنے کا سلسلہ 90 کی دہائی میں منظرعام پر آیاجب2ڈبلیوز کی تباہ کن بولنگ کے چرچے دنیا بھر میں تھے مگر اس کے علاوہ ٹیم کی وجہ شہرت ایک اور بھی تھی جو کہ گروپنگ کی شکل میں سامنے آئی مگر اس کے علاوہ ایک اور وجہ میچ فکسنگ کے لا تعداد الزامات بھی تھے۔ خیر جب الزامات بہت زیادہ ہو گئے تو جسٹس قیوم سے تحقیقات کرائی گئیں اور تمام برائی کی جڑ سلیم ملک کو قرار دے کر تاحیات کرکٹ پر پابندی لگا دی اور وسیم اکرم کو کچھ لاکھ جرمانہ ہوا اور دیگر کو علامتی سزائیں دے کر کیس ختم کردیاگیا۔

2010 پاکستان کا انگلینڈ کا ٹورکسی کو نہیں بھولتا جس میں سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامرپر اسپاٹ فکسنگ کا الزام لگا اور جرم ثابت ہونےکہ بعد سلمان کو دس سال، آصف کو سات سال، اور عامر پر پانچ سال کیلئے پابندی لگا دی گئی۔اس کہ بعد نومبر2011میں تینوں کھلاڑیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔

اس کہ بعد پی ایس ایل2میں ایک نیا اسکینڈل سامنے آگیا جس کہ بعد ایکشن لے کر پی اسی ایل کی مینجمنٹ نے شرجیل خان ، محمد عرفان،خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کو معطل کرکے وطن واپس بھجوادیا گیا جبکہ ناصر جمشید کو بھی معطل کردیا گیا جو کہ ایک اچھا قدم تھا۔

پھراب سری لنکا کی سیریز میں پاکستان کی پرفارمنس بہت بہتر جارہی تھی  تو ایسے میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش بھی ہو گئی تاہم سرفراز احمد نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ کیاجبکہ انہوں نے لاہورمیں ڈائریکٹر سیکیورٹی کرنل اعظم کوبھی پیشکش سےمتعلق بتایاتھا۔ذرائع نے بتایا کہ واقعے کے بعد دبئی میں مشکوک افراد کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور پاکستان ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کو غیر متعلقہ لوگوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سرفراز ایک نہایت سمجھ دار انسان اور کھلاڑی ہیں تبھی انہوں نے یہ فیصلہ کیا مگر اگر وہ بورڈ کو آگاہ نہیں کرتے تو شاید ان کے ساتھ بھی وہی ہوتا جو شرجیل کے ساتھ ہوا۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی مسئلے کا حل ہے۔دنیابھرمیں بہت سے ایسے کھیلوں کے لیگ میچز کھیلےجاتےہیں جیسے کہ فٹبال جن میں کھلاڑیوں کو لاکھوں ڈالر ملتے ہیں اور ایک تاثر یہ بھی دیا جاتا ہے ان کھیلوں میں کھلاڑیوں کو پیسہ دیا ہے کہ وہ فکسنگ جیسی لعنت سے دور رہیں مگر پھر اس کہ بعد کرکٹ میں ملک کی بدنامی کرنے والے کھلاڑیوں کا یہ اقدام نہایت افسوس ناک ہے مگرکھلاڑیوں پر تھوڑی سی پابندی شاید مسئلے کا حل نہیں اور یہی بات پاکستانی لیجنڈ جاوید میانداد نے بھی سماء کے پروگرام میں کہی کہ ان پلیئرز کو ایسی سزا دی جائے کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں مگر میرے نظریے میں ان بکیز کو جو ان کھلاڑیوں سے رابطہ کرکے انہیں مجبور کرتے ہیں ایسے کسی اقدام کے لیے انہیں بھی ایسی سزا دی جائے کہ رہتی دنیا تک لوگ اسے یاد رکھیں۔

بکیز کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے بکیز ان کرکٹرز کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں جو ذرا سا بھی اپنا رجحان فکسنگ کی طرف بڑھائیں تو پھرایسے بکیز قانون کی گرفت میں کیوں نہیں آتے اور پھر ایک سوال اور بھی اٹھتا ہے کہ حالیہ انکشافات کے مطابق ایک بال نہ کھیلنے کے بیٹسمین20لاکھ تک لیتا ہے جو کہ بہت ہی حیران کن ہے کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر پیسے کی گردش ہے تو اس کالے دھندے کے کرتا دھرتاؤں کے خلاف سخت ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔