نئے جرمن سفیرکیلئے لفظ ’’پاکستان‘‘ بچپن سے ہی پسندیدہ ترین کیوں تھا؟

August 5, 2019

پاکستانیوں کو جرمن سفیر مارٹن کوبلر ہمیشہ یاد رہیں گے جو تعیناتی کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو پاکستان کا مثبت امیج دکھانے میں پیش پیش رہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کوبلر کی طرح نئے جرمن سفیر بھی  یہاں کے دلدادہ ہیں۔

نئے تعینات ہونے والے جرمن سفیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو بیان میں لفظ پاکستان کو بچن سے ہی اپنا پسندیدہ قرار دیا جس کی وجہ نہایت دلچسپ ہے۔

ویڈیو بیان میں نئے جرمن سفیر برنارڈ شلاگلہک نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں جرمنی کا نیا سفیر ہوں اور حال ہی میں مارٹن کوبلر کے جانشین کے طور پر آیا ہوں جنہوں نے یہاں بہت اچھا وقت گزارا ہے۔ ان کے بعد یہ میرے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری ہے۔

برنارڈ شاگلہک کے مطابق جب میں اسلام آباد ائر پورٹ پہنچا تو مجھے ایک کھیل یاد آیا جو میں اپنے بچپن میں کھیلا کرتا تھا، اس کھیل کا نام تھا ’’ماں میں کتنی دور تک سفر کرسکتا ہوں‘‘۔ اس کھیل کا تعلق اصل میں ممالک کے نام سے تھا اوراس وقت ’’پاکستان ‘‘ کا نام میرے لیے بہت ہی مسحور کن تھا۔ مجھے اس نام سے پیار تھا اور یہ میرا بہت ہی پسندیدہ نام تھا۔

جرمن سفیر پاکستان کا مثبت چہرہ متعارف کرانے میں پیش پیش

انہوں نے کہا کہ درحقیقیت یہ ایک نہایت شاندار اور شاعرانہ نام ہے اور میرا مفروضہ تھا کہ یہ ملک بھی اتنا ہی زبردست ہوگا اور میرے اسی مفروضے نے آج تک پاکستان کے بارے میں میرے خیالات کو شکل دی ہے۔یہ سب مجھے اس دن یاد آیا جب میں نے اسلام آباد ائر پورٹ پر ’ویلکم ٹو پاکستان ‘‘ کا بورڈ دیکھا۔ میرے خیال سے یہ یہاں 2 ، 3 سال رہنے کیلئے ایک اچھی بنیاد ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں نئے سفیر نے پیغام دیا کہ میں لوگوں کے ساتھ ملنے، یہاں کے تصورات کو سمجھنے کیلئے اور ان خیالات کو دوبارہ جرمنی کے ساتھ جوڑنے کیلئے پرامید ہوں اور میں اسے اپنا مقصد سمجھتا ہوں۔مجھے یہاں آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے ۔ آپ رابطہ رکھیے گا۔

مارٹن کوبلر بلوچستان کے قالین اور بھنی مکئی کے بھی دلدادہ

یاد رہے کہ اپریل 2019 میں جرمنی واپس جانے والے مارٹن کوبلرسیروسیاحت کے شوقین ہونے کے علاوہ پاکستانی کلچر کے بھی دلدادہ تھے۔ وہ سوشل میڈیا پر سیروتفریح کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات اور مزیدار کھانوں کی تصاویر اپ لوڈ کرتے رہتے تھے۔