Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

عالمی یوم آب کی تھیم ”پانی کی قدر“پر غور

SAMAA | - Posted: Mar 23, 2021 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 23, 2021 | Last Updated: 10 months ago

آج عالمی یوم آب ہے اور اس بار پانی کی معیشت پر وسیع البنیاد اتفاق رائے کا محور”پانی کی قدر“پر مبنی ہے، جس کا مطلب پانی سے ہونے والے معاشی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی تمام فوائد کو سمجھنا اور ان پر غور کرنا ہے۔

پانی کا موضوع ایک زرعی معیشت کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملکی سطح پر پائیدار غذائی تحفظ اور طویل معاشی ترقی کا انحصارملکی آبی ذخائر پر ہوتا ہے۔ کیونکہ ملک کی ایک تہائی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں افرادی قوت کا 40 فیصد زراعت سے وابستہ ہے، اس شعبے کا پانی کی کھپت کے حوالے سے شیئر غیر متناسب ہے۔ کاشتکاری کا شعبہ ملک کی مجموعی قومی آمدن (جی ڈی پی) میں 20 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جب کہ یہ ملکی پانی کے 90 فیصد وسائل کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں سے بھی 50 فیصد پانی آبپاشی کے ناقص طریقہ کار اور فصل کی فرسودہ انتظام کاری کی تکنیک کے سبب ضائع ہوجاتا ہے۔

اسی طرح پانی کی معیشت میں دیہی اور شہری تقسیم ہمیشہ سے قائم ہے،جہاں اس کا جھکاؤ دیہی معیشت کی جانب زیادہ ہوتا ہے کیونکہ یہ غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے، جب کہ شہری زندگی، آبادی میں اضافے اور پانی کی قلت جیسے مسائل کا شکار رہتی ہے۔

ورلڈ بینک کے ایک اندازے کے مطابق گندم، چاول، کپاس اور گنے کی چار بڑی فصلیں 80 فیصد پانی کا استعمال کرکے ملک کی مجموعی قومی آمدن میں محض 5 فیصد کا حصہ ڈالتی ہیں، جو کہ 14ارب ڈالرز سالانہ بنتا ہے، لیکن پھر بھی زیادہ پانی استعمال کرنے والی یہ فصلیں یعنی گندم، چاول، کپاس اور گنا اب تک دیہی آبادی کو غربت سے نکالنے میں ناکام رہی ہیں اور یہ چاہے موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب پگھلتے ہوئے گلیشیرز سے فراہمی میں کمی ہو، یا زراعت ، صنعتوں اور لوگوں کی جانب سے پانی کی بڑھتی ہوئی طلب ہو، پانی بلاشبہ ملک کو درپیش سب سے بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے۔

اس مسئلے کا مرکزی پہلو یہ ہے کہ پانی کی بڑھتی ہوئی طلب، پانی کی فی کس دستیابی میں کمی کا باعث بن رہی ہے، جب کہ دستیاب سپلائی غیر موزوں یا آلودہ ہے۔ موجودہ وقت میں پانی کی قدر کاصحیح تعین کرنے کے لیے تمام شعبوں میں درست فیصلہ سازی کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تما م شعبوں کا قردار اہم ہے۔

فوائد کا ادراک کیا جائے تو پانی ہر جہت فائدہ پہنچاتا ہے،اس وقت نہ صرف تازہ پانی کے وسائل کے تحفظ بلکہ پانی کی مساوی فراہمی اور پائیدار و فائد ہ مند استعمال کیلئے اسٹریکچرل اصلاحات کی نمایاں ضرورت ہے۔

نیسلے پاکستان، پانی کے استعمال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یو این ڈی پی کے ایس ڈی جی 6 صاف پانی اور نکاسی پر بھی عمل پیرا ہے۔ اس سلسلے میں نیسلے نے2017میں کیئرنگ فار واٹر یعنی سی 4ڈبلیو پاکستان میں متعارف کرایا، جو کہ نجی شعبہ میں مشترکہ آبی وسائل کے تحفظ سے متعلق ایک عمدہ مسال ہے۔ اس اقدام کے تحت ملکی آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مجموعی اقدامات کو سمجھا اور اپنایا گیا۔ سی 4 ڈبلیو کے 3 ستون ہیں۔ فیکٹریاں، کمیونیٹیز اور زراعت اور یہ تمام پانی کے بڑے صارف ہیں۔

مجموعی اقدامات کے تحت نیسلے نے شیخوپورہ، اسلام آباد، کبیر والہ اور پورٹ قاسم کی اپنی چاروں سائٹس کیلئے الائینس فار واٹر اسٹیورڈ شپ اسٹینڈرڈ کی سرٹیفکیشن حاصل کی۔

اسی سلسلے میں نیسلے، اپنے آپریشنز ایریاز میں روزانہ 60 ہزار لوگوں کو پینے کا صاف اور محفوظ پانی بھی فراہم کرتی ہے۔

نیسلے نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) اور یونیورسٹی آف ویٹرینری اینڈ انیمل سائنسز کے ساتھ پاٹنرشپ کرتے ہوئے ایسی سائٹس تیار کیں جہاں کاشتکاری کے بہترطریقہ کار اپنائے اور بتائے جاتے ہیں۔

محکمہ زراعت، حکومت پنجاب کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نیسلے نے پنجاب بھر میں ڈرپ اریگیشن سسٹم نصب کیا۔ اپنے پاٹنرز کے ساتھ ملکر نیسلے اب تک 152 ایکڑ اراضی پر ڈرپ اریگیشن سسٹم نصب کرچکا ہے جس سے سالانہ 428 ملین لٹر پانی کی بچت ہوتی ہے۔

نیسلے نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ساتھ مل کر کم لاگت والے واٹر سینسرزمتعارف کروائے ہیں، جو مٹی میں نمی کی جاچ پڑتال کر کے ایسے مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں فصل کو پانی کی ضرورت ہو۔

نیسلے نے وازی اپ (اٹلی کا ایک ادارہ) کے ساتھ مل کر ایک سافٹ ویئر بھی بنایا ہے، جو کاشتکاروں اور تحقیق دانوں کو ان کے موبائل فونز/کمپیوٹر اسکرین پر انفارمیشن فراہم کرتا ہے جس سے کاشتکاروں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ فصل کو کہا اور کتنے پانی کی ضرورت ہے۔

جیسا کہ آج کے دن کی تھیم سے ظاہر ہے کہ پانی کی قدر کا مطلب صرف اس کی مالیاتی قدر نہیں ہے۔ چونکہ پانی ایک عوامی شئے ہے،کچھ لوگوں کو اس کی فراہمی دوسروں کو ہمیشہ اس سے محروم رکھے گی۔اس کی بد انتظامی نہ صرف زراعت کے شعبے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے،بلکہ یہ عوامی صحت کے لیے بھی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پانی ہر صنعت میں تقریباً ہر چیز کی تیاری میں استعمال ہونے والا بنیادی جزہے۔ اس کی عدم دستیابی نہ صرف ماحولیاتی نظام سے منسلک ہے بلکہ پائیدار کاروباری رجحانات کو یقینی بنانے کیلئے بھی اس کی ضرورت ہے۔

کارپوریٹ شعبہ، جو کہ پہلے سے واٹر اسٹیورڈ شپ کے نفاذ میں شامل ہے،اسی ضمن میں دوسرے شعبوں کی کارکردگی سے متعلق اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں زرعی شعبہ میں ابتک روایتی طریقہ آبپاشی پر مبنی ہے۔ اس ضمن میں جیسے اقدامات شعبہ زراعت میں پانی کے استعمال اور ضیاع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

کوئی بھی ادارہ یا کمپنی تنہا اس ضمن میں اہم کردار ادا نہیں کر سکتے،اسی لئے مشترکہ آبی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے کیلئے اجتماعی اقدامت اٹھانے کی اہم ضرورت ہے۔ پانی کی نظام کاری سے متعلق پالیسیوں اور مشاورت میں شرکت کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز پانی کی قدر سے متعلق اس عالمی بحث میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube