Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

غیرقانونی تعمیرات: سرکاری افسران کیخلاف کارروائی کے سوال پربلاول کاجواب

SAMAA | - Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 1 month ago

بلاول بھٹو زرداری سرکاری افسران کیخلاف حکومت کی کارروائی سے متعلق سماء کے سوال کا جواب گول کرگئے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے سرکاری افسران کیخلاف کارروائی نہ ہونے کی تمام ذمہ داری عدالت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت نہیں دی بلکہ عمارت گرانے کا حکم دیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سماء کے رپورٹر نے جب چیئرمین پیپلزپارٹی سے سوال کیا کہ حکومت ان لوگوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی جو لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور ایس بی سی اے کے افسران ہیں جن کے دستخط سے شہر میں غیر قانونی تعمیراتی ہوتی ہیں۔

سعد صابری نے پوچھا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت بھی شہر میں غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں، چیف جسٹس اور بلڈر کی بات کی جاتی ہے مگر ان افسران کی بات نہیں کی جاتی جن کے دستخط کے بعد یہ غیرقانونی تعمیرات ہوتی ہے۔

سماء کے رپورٹ کے سوال کا گول مول جواب دیتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا اس حوالے سے اسٹانس بہت واضح ہے، ایسے معاشی حالات میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید مشکلات میں کیوں ڈالیں۔

تفصیلی خبر پڑھیں: عوام کو ہماری کارکردگی ميں واضح فرق نظر آرہا ہے،بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعے غریبوں کی کچی آبادیوں کو تحفظ دلانے کے اقدام کو خوش آمدید کہتا ہوں، اگر عدالت کی طرف سے کسی کو سزا دینی چاہئے تھی تو وہ اس عمارت (نسلہ ٹاور) میں رہنے والے افراد نہیں بلکہ انہیں دیتے جو اس غیر قانونی کام میں ملوث تھا، اس وقت لوکل گورنمنٹ کے انچارج مصطفیٰ کمال تھے، ہماری سندھ حکومت بھی رہی ہوگی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کیلئے غلط کام کرنیوالوں کو پکڑا جانا چاہئے، مگر عدالت نے وہ ہدایات نہیں دیں بلکہ عمارت گرانے کا حکم دیا گیا ہے، جو افسوس کی بات ہے۔

اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کراچی لوکل گورنمنٹ کو خود کفیل بنانا چاہتے ہیں، لوکل گورنمنٹ کو زیادہ ذمہ داریاں دے رہے ہیں، ہمارے ادارے لوکل گورنمنٹ کونسل کو جوابدہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پورے کراچی سے ایک ارب روپے پراپرٹی ٹیکس ملتا ہے، اس ایک روپے سے لوکل گورنمنٹ اپنے کام کراسکتی ہے، نئے نظام سے کراچی کو زیادہ ڈیلیور کریں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا کہ عوام کو ہماری کارکردگی میں واضح فرق نظر آرہا ہے، ایم کیو ایم کے 30 سال ایک طرف اور مرتضیٰ وہاب کے 3 تین ماہ ایک طرف ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube