Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

اٹارنی جنرل نےثاقب نثارکی مبینہ آڈیو تحقیقات کوپراکسی پٹیشن قراردےدیا

SAMAA | - Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 8, 2021 | Last Updated: 1 month ago

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست کو اٹارنی جنرل نے “پراکسی پٹیشن” قرار دے دیا۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ قانونی سوال پراٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ پراکسی درخواست ہے جو کسی اور کیلئے دائر کی گئی۔ سارا معاملہ گھوم پھر کر اسی ہائیکورٹ میں زیرالتوا ایک اپیل تک پہنچتا ہےاور بڑی گیم کھیلی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ من گھڑت آڈیو،ویڈیو اور دستاویزات سے عدلیہ کو بدنام اور ہراساں کرنے کا سیزن جاری ہے۔

اٹارنی جنرل نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار یہ استدعا بھی کریں کہ ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی تو دوسروں کو جلاوطنی کی سہولت کیوں دی گئی؟ بریف کیس بھر کر رقم کون دیتا رہا اورچیف جسٹس سجادعلی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا؟ آپ صرف ایک شخص کے لیے ہی کیوں عدالت آئے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی بھی آڈیو یا ویڈیو بنائی جاسکتی ہے؟ آپ کو تو آڈیو کے مستند ہونے کا خود یقین نہیں توکس بنیاد پرکمیشن بنائیں،۔

انھوں نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پروپیگنڈے کی تصاویردکھا کراستفسار کیا کہ کیا اب میں اس کی بھی تحقیقات کرنے بیٹھ جاؤں؟۔ کیس کی  مزید سماعت 24 دسمبر کو ہوگی۔

رانا شمیم کا توہین عدالت شوکازنوٹس پر تحریری جواب:۔

 سات دسمبر کو گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے توہین عدالت شوکاز نوٹس پر تحریری جواب  عدالت میں جمع کرادیا۔ رانا شمیم نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے تحریری جواب میں لکھا ہے کہ عدلیہ کی توہین کا ارادہ ہوتا تو پاکستان میں بیان حلفی ریکارڈ کراتا اورپاکستان میں بیان حلفی میڈیا کو جاری کرتا۔ رانا شمیم نے بتایا کہ لندن میں ریکارڈ بیان حلفی سربمہر لفافے میں پوتے کو دیا اوران کو واضح ہدایت کی کہ بیان حلفی کھولا جائے نہ پبلک کیا جائے۔ تحریری جواب میں رانا شمیم نے بتایاہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ رپورٹرکو بیان حلفی کس نے جاری کیا اورنوٹری پبلک لندن بیان حلفی کی کاپی ریکارڈ کیلئے اپنے پاس بھی رکھتا ہے۔

اس سے قبل منگل کواسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جج گلگت بلتستان کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔رانا شمیم،اخبار کے ایڈیٹر عامر غوری،صحافی انصار عباسی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نےمنگل کوحکم دیا تھا کہ رانا شمیم پیر 13 دسمبر تک اصل بیان حلفی جمع کرائیں ورنہ فرد جرم عائد کردیں گے۔ عدالت نے رانا شمیم کو بیان حلفی لینے خود بیرون ملک جانے دینے کی استدعا مسترد کردی تھی۔

 کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رانا شمیم صاحب آپ نے جواب جمع کرایا؟۔ رانا شمیم نے جواب دیا کہ میں نے وکیل کوجواب دیا ہے اور وہ جمع کرادیں گے۔عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ رانا شمیم جواب دے نہیں رہے ہیں تو کیا راستہ کیا ہے؟۔ معاون وکیل نےعدالت کو بتایا کہ رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی عدالت میں پہنچ کر جواب جمع کروائیں گے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ لطیف آفریدی اس عدالت کی جانب سے بھی معاون ہیں۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پی ایف یو جے کے وکیل سے کہا کہ رانا شمیم نے پچھلی سماعت پرکہا تھا کہ انہوں نے اخبار کو بیان حلفی نہیں دیا، رپورٹنگ کے اصول کیا ہیں اورکیا ایسے کوئی خبرچھپ سکتی ہے؟۔ ایک ایسی خبرچھپی جس نے اس عدالت پر حرف اٹھایا۔

عدالت نےعدالتی معاونین سے بھی رپورٹنگ اصول سے متعلق جواب مانگا۔فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے کہا کہ کسی ڈاکومنٹ کو شائع کرنے کیلئے تمام متعلقہ افراد کا مؤقف ضروری ہے، اس خبر میں رجسٹرار کا مؤقف نہیں لیا گیا،خبر کو شائع کئے جانے والی ٹون بھی دیکھنی ہے۔

چیف جسٹس نے رانا شمیم کے وکیل سے کہا کہ ہم جج پریس کانفرنس نہیں کر سکتے،ہمارے خلاف ایک بیانیہ بنایا گیا کہ ہم پر دباؤ ڈالا گیا، کہا گیا کہ ایک شخص کوالیکشن سے پہلے باہرنہ نکالنے کا دباؤ ڈالا گیا،ایک شخص تین سال بعد ایک بیان حلفی دے رہا ہے اور ایک ایسے جج کا نام لیا گیا جو ان دنوں چھٹی پر تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اپیلیں سننے والے ایک بنچ کی سربراہی میں نے بھی کی، بیان حلفی کی خبر پر جائیں تو کیا ہم سب کسی کے زیر اثر یہ فیصلے کر رہے تھے؟ تین سال بعد لندن میں بیان حلفی کیا محض ضمیر جاگنے پر دیا گیا؟ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی اس ہائیکورٹ کے جج پر اثرانداز ہوکر دکھائے،اس ہائیکورٹ کے کسی جج نے کسی کیلئے دروازہ نہیں کھولا اورہمیں یہ غرض نہیں کہ سابق چیف جسٹس پاکستان کےخلاف کیا کہا گیا بلکہ یہ الزامات اس عدالت کے ججوں پر لگائے گئے ہیں۔

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بیان حلفی جمع کرانے کے لیے پیر تک کا وقت کم ہے،رانا شمیم نے کہا ہے کہ وہ بیان حلفی کے متن پر قائم ہیں۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ گزشتہ سماعت پرانہوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔ عدالت نے لطیف آفریدی کی زیادہ مہلت دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت پیر13 دسمبر تک ملتوی کردی۔

عدالت نے رانا شمیم کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کیلئے 7 دسمبر تک کی مہلت دی تھی۔ رانا شمیم کو آئندہ سماعت پر اصل بیان حلفی سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔انصار عباسی اورمیر شکیل الرحمان کے جوابات کی نقول بھی عدالتی معاونین کو دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کا چیف کمشنر کو خط:۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے چیف کمشنر کو خط لکھ دیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا ہے کہ رانا شمیم توہین عدالت کیس کا سامنا کررہے ہیں،ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکی کارروائی شروع کی جائے کیوں کہ رانا شمیم کے بیرون ملک چلے جانے سے کیس پر سنگین اثرات ہونگے۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

ای سی ایل میں نام ڈالنے کی درخواست غیرموثر قرار:۔

چھ دسمبر کواسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکی درخواست غیر موثر قرار دی تھی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فیصلے سناتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست دائر کرنے والے رائے نواز کھرل ایڈوکیٹ توہین عدالت کیس میں پارٹی نہیں بن سکتے۔ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ای سی ایل میں  نام ڈالنا حکومت کا کام ہے،عدالت کا نہیں۔ رائے محمد نواز کھرل نے موقف اختیار کیا تھا کہ رانا شمیم ملک سے فرار ہوسکتے ہیں،اس لئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے۔

اخباری خبر،میرابیان حلفی سےبالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے،رانا شمیم

تیس نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں رانا شمیم نے کیس کی سماعت کے موقع پر بتایا تھا کہ میں نے وہ بیان حلفی ابھی تک نہیں دیکھا اورجو بیان حلفی یہاں جمع ہوا وہ بھی ابھی تک نہیں دیکھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ خبرچھاپنے کے بعد مجھ سے پوچھا گیا اور میرا بیان حلفی سِیل اورصرف میری فیملی کے پاس تھا،مجھے نہیں پتہ وہ بیان حلفی کیسے پبلک ہوگیا۔

جسٹس (ر) رانا شمیم کیخلاف بیان دینے والوں کو نوٹس دینگے،احمد حسن

رانا شمیم سے عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ابھی تک اپنا بیان حلفی نہیں دیکھا؟ خبرچھاپنے والےکہتے ہیں کہ انہوں نے بیان حلفی کی آپ سے تصدیق کی اورآپ نے اخبار کو کوئی بیان حلفی جاری نہیں کیا ؟۔رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وضاحت کی کہ میرا بیان حلفی سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ اگر آپ نے بیان حلفی کوئی دیا ہی نہیں تو تحریری جواب دیں اور اگر بیان حلفی دیا تو بتائیں کہ 3 سال بعد آپ کو کیوں یاد آیا ہے؟۔آپ پہلے بتائیں کہ یہ بیان حلفی آپ نے دیا بھی یا نہیں؟۔رانا شمیم نے جواب دیا کہ مجھےدیکھنا ہوگا یہ کون سا بیان حلفی ہے،اس کو ابھی دیکھا بھی نہیں۔

رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکیلئے دائردرخواست سماعت کیلئےمقرر

اٹارنی جنرل نے رانا شمیم سے سوال کیا کہ کیا آپ نے کوئی بیان حلفی لکھوایا بھی تھا یا نہیں؟ اٹارنی جنرل کو انھوں نے جواب دیا کہ مجھے دیکھنا ہوگا کہ یہ کیا تھا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بہت عجیب صورتحال بن گئی ہے، یہ کوئی دس سال پرانا ڈاکیومنٹ نہیں جو انہیں یاد ہی نہ ہو،اب  ساری ذمہ داری رانا شمیم پر آگئی ہے اور یہ ایک عدلیہ کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش لگتی ہے،رانا شمیم کے بیان کو عدالتی ریکارڈ پر لایا جائے اور رانا شمیم کا بیان لکھا جائے کہ انہیں یاد ہی نہیں کہ بیان حلفی میں کیا ہے،ایک بندہ کہتا ہے کہ پچھلے ماہ کے بیان حلفی میں کیا لکھا وہ یاد نہیں اوراس شخص کے تین سال پرانے بیان پر خبر چھاپ دی گئی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ رانا شمیم کے بیان نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ رانا شمیم نے استدعا کی کہ عدالت مجھے وقت دے،میرے گھر میں دو چالیسویں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رانا صاحب اس عدالت پر لوگوں کا اعتبار آپ نے متاثر کیا، اس عدالت سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں ہے۔

راناشمیم کیخلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کی درخواست چیف جسٹس کوبھجوادی گئی

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب اخبار کا کردارثانوی ہوگیا ہے اور اصل کارروائی اب رانا شمیم کے خلاف ہونی چائیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر اصل بیان حلفی ایسا موجود ہی نہیں تو پھر جنگ اخبار پر بھاری ذمہ داری آئے گی۔

توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ:۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جاری کردیا ہے۔

تحریری حکم نامے میں درج ہے کہ رانا شمیم کے مطابق ان کا بیان حلفی برطانیہ میں ایک لاکر میں رکھا ہے اور اٹارنی جنرل بیان حلفی منگوانے میں معاونت کیلئے رانا شمیم سے رابطہ کریں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ دفتر خارجہ اور پاکستانی سفارت خانہ بھی اٹارنی جنرل کی معاونت کریں۔ آئندہ سماعت پر بیان حلفی کی عدم پیشی بیان حلفی کی عدم موجودگی کے خیال کو تقویت دے گی۔ رانا شمیم بیان حلفی کے متن سے متعلق بے یقین دکھائی دیئے۔ رانا شمیم چار دن کے اندرشوکاز کا جواب اور اصل بیان حلفی جمع کرائیں۔

رانا شمیم سے متعلق خبر،میر شکیل، انصار عباسی اورعامرغوری کوشوکاز نوٹس جاری

واضح رہے کہ 16 نومبر بروز پیر کو دی نیوز اخبار کی رپورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق متعدد دعویٰ کئے گئےہیں۔اس خبر میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ جب ثاقب نثار سال 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت گئے تو ایک شام ملاقات کے دوران رانا شمیم کے سامنے ثاقب نثار کو رجسٹرار کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ثاقب نثار نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ ایک جسٹس صاحب کے گھر جائیں  اور ان کو فوری طور پر ٹیلی فون کرنے کا کہیں۔ تاہم اس خبر میں جسٹس کا نام نہیں بتایا گیا۔

خبر میں مزید کہا گیا کہ ثاقب نثار نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ میاں محمد نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کسی بھی صورت جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات سے قبل ضمانت پر رہا نہیں ہونے چاہئے۔ ثاقب نثار نے یہ ہائیکورٹ کے جج کو یہ بھی ہدایت کی کہ مسلم لیگ نون کے رہنما انتخابات مکمل ہونے تک جیل میں رہنے چاہئے۔

رانا شمیم کیس کی انکوائری پرسیاسی منظرنامہ تبدیل ہوجائےگا،احمدحسن

خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب ثاقب نثار کو ٹیلی فون پر اس ہدایت کے پورا ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔ ثاقب نثار نے   سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کو یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے سے متعلق انجان بن جائیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube