Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

سری لنکن ہائی کمشنر سے معاون خصوصی شہبازگل کی ملاقات

SAMAA | - Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 1 month ago

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام مشکل گھڑی میں مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ سری لنکن عوام کے لیے ہر پاکستانی کے دل میں محبت ہے۔

منگل 7 دسمبر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے منگل 7 دسمبر کو اسلام آباد میں سری لنکا کے ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں شہباز گل نے سری لنکن ہائی کمشنر سے سانحہ سیالکوٹ پر تعزیت کی۔

اس موقع پر واقعہ سے متعلق اب تک کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ سانحہ میں ملوث مرکزی 27 ملزمان سمیت 132 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکن عوام کے لیے ہر پاکستانی کے دل میں محبت ہے۔ پاکستانی عوام مشکل گھڑی میں مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

قبل ازیں سیالکوٹ پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں سکندر، راشد، احمد شہزاد، زوہیب، محمد ارشاد، سبحان اور عمیر علی شامل ہیں، ساتوں ملزمان کو سی سی ٹی وی اور موبائل کالز ڈیٹا کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم سکندر پریانتھاکمارا پر تشدد کیلئے چھت پر لوگوں کو اکٹھا کرتا رہا اور ملزم راشد تشدد کرنے والے ہجوم میں شامل تھا جب کہ ملزم احمد شہزاد ہجوم میں ڈنڈے سے لیس تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم زوہیب تشدد کےلیے اکسانے کی پلاننگ میں ملوث تھا جب کہ محمد ارشاد،سبحان اور عمیر علی بھی ہجوم میں شامل تھے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب کیس کی تحقیقات کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں جب کہ وزیراعلی نے کیس کی پراسیکیوشن کا ٹاسک سیکریٹری پراسکیوشن کو سونپا ہے۔

واقعہ کب پیش آیا؟

واضح رہے کہ 3 دسمبر کو اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔

انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔

بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 1987 سے 2021 کے درمیان پاکستان میں توہین مذہب قوانین کے تحت 1865 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی، صورت احوال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہجومی انصاف کے تباہ کن رجحانات سے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے

سیالکوٹ 2010 کا واقعہ

اس سے قبل 15 اگست 2010 میں سیالکوٹ میں ہی ہجومی انصاف کا واقعہ ہوا، جہاں چوری کے الزام میں 2 نو عمر حافظ قرآن بھائیوں کو ہجومی انصاف کے ذریعے ایک چوک میں سر عام تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعہ میں ملوث 9 ملزم پکڑے گئے اور 8 اپریل 2016 کو 7 ملزموں کو سزائے موت دیدی گئی، پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت توہین مذہب کے 600 کیسز زیر التوا پڑے ہیں۔

یورپی یونین

یورپی یونین اور امریکا نے متعلقہ قانون بدلنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ کوٹ رادھا کشن میں نومبر 2014 میں توہین مذہب پر میاں بیوی شمع اور شہزاد کو ہجومی انصاف کے ذریعے تشدد سے قتل کر کے لاشیں جلا دی گئیں، جس میں 660 افراد کیخلاف مقدمہ درج ہوا ملزم سزا کے انتظار میں ہیں۔ کیس کو کمزور پراسیکوشن اور عدالتوں کو تھریٹس کی بناء پر سنگین جرائم میں ملوث بیشتر ملزمان کو سزا دینے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔

فواد چوہدری

واقعہ پر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کيخلاف ردعمل پاکستان کے آگے بڑھنے کی اميد ہے۔ انتہا پسندی کيخلاف عوام متحد نظر آئی۔ سيالکوٹ واقعہ سے پاکستانيوں کے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔

طاہر اشرفی

نمائندہ خصوصی طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سانحہ سیالکوٹ کی تمام مکاتب فکر کے علماء نے مذمت کی۔

نیشنل ایکشن پلان

نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے شدت پسندانہ رجحانات روکنے اور صبر و تحمل، برداشت رواداری کے فروغ کیلئے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے اہم اقدامات فوری توجہ کا طالب ہیں۔
پشاور میں سانحہ اے پی ایس کےبعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی اور فیصلہ کیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر وفاق اور صوبوں میں ایک ساتھ ترجیحی بنیادوں پر عمل کیا جائیگا ، لمحہ فکریہ ہے کہ 7برس گزرنے کے باوجود مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے 20 میں سے 9 نکات پر عمل نہ ہو سکا

شیریں مزاری

پیر6 دسمبر کو پارلیمانی قومی سلامتی کمیتی میں بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے بات ہوئی اور وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو اعتراف کرنا پڑا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر ایکشن نہ ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیں گے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔ ایکشن پلان کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن ،نفرت انگیز تقریروں و مواد کی تشہیر ،فرقہ وارانہ تعصبات اور نظریات روکنے ،مدارس کی بینکوں کے ذریعے فنڈنگ ،ا نٹر نیٹ اور سوشل کے غلط استعمال کو روکنے کے فیصلہ کن اقدامات کی بات کی گئی تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube