Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

سری لنکن شہری پاکستانی برآمدات کوبڑھانے میں کیسے مددکرتے ہیں

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 1 month ago

سیالکوٹ میں جمعہ کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل سری لنکن شہری کی لاش کو سڑک پر گھسیٹا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی، وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان کی برآمدات بڑھانے کیلئے کام کر رہے تھے، اس ملک میں ان جیسے کئی اور بھی ہیں۔

پاکستانی آجر انہیں (سری لنکنز کو) ایک خاص وجہ سے ترجیح دیتے ہیں: انہوں نے پاکستانی تیار کردہ سامان اور بین الاقوامی خریداروں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کیا ہے۔

پریانتھا کمارا ایک دہائی قبل پاکستان آئے تھے، انہوں نے 2013ء میں راجکو انڈسٹریز میں شمولیت سے قبل فیصل آباد کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کیا۔

راجکو انڈسٹریز پاکستان کرکٹ ٹیم سمیت اہم کھیلوں کی ٹیموں کیلئے تربیتی کٹس تیار کرتی ہے اور ملک کیلئے ریونیو جنریٹ کرتی رہی ہے۔

پریانتھا کمارا سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع راجکو انڈسٹریز میں منیجر ایکسپورٹ کے عہدے پر فائز تھے۔

ان کی ذمہ داری پاکستان میں کام کرنیوالے اپنے دیگر دوسرے ہموطنوں کی طرح بین الاقوامی معیار کے مطابق سامان تیار کرنا تھی تاکہ اس سامان کو آسانی سے برآمد کیا جاسکے۔

مینوفیکچررز اور خریداروں کے درمیان پل

سری لنکا کے بہت سے دیگر شہری بھی ملک کی مختلف مینوفیکچرنگ یونٹوں بالخصوص کراچی میں اسی طرح کے عہدوں پر ملازمت کررہے ہیں۔

کراچی میں ٹیکسٹائل برآمد کرنے والی ایک معروف کمپنی کے ایڈمن منیجر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سری لنکا کے شہریوں کو مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ٹاپ پوزیشن پر رکھنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ تکنیکی طور پر مضبوط ہونے کے علاوہ بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔

ایڈمن منیجر نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، انہوں نے اپنے ساتھ ہی فیکٹری میں مینوفیکچرنگ یونٹ میں کام کرنیوالے سری لنکن شہریوں کی ایک کہانی شیئر کی، انہوں نے بتایا کہ ’’ہمارے پاس ایک سری لنکن ہے، جو پیشے کے لحاظ سے ایک صنعتی انجینئر ہے اور اسے یونٹ میں مشینری کی تنصیب کا کام سونپا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’’ہمارے پاس ایک اور سری لنکن شہری ہے جو ہمارے واشنگ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی کررہا ہے کیونکہ سری لنکم واشنگ تراکیب سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کے ایک اور یونٹ میں تیسرا سری لنکن شہری سیمپلنگ ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی کررہا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کمپنی کی مصنوعات بین الاقوامی خریداروں کو اپنی طرف راغب کریں۔

ایڈمن منیجر، جو سائٹ ایریا کے صنعتی علاقے میں دیگر فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگوں کو بھی جانتے ہیں، کہتے ہیں کہ بہت سے دیگر ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ یونٹس نے سری لنکا کے شہریوں کو کلیدی عہدوں پر رکھا ہوا ہے۔

کچھ فیکٹریوں میں وہ (سری لنکن) سلائی کے محکموں کی سربراہی کررہے ہیں کیونکہ وہ مطلوبہ فنشنگ کوالٹی جانتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ مصنوعات بیرون ملک معیار کے مطابق ہوں۔

پاکستانی کارکنوں کی تربیت

کئی صنعتکار پاکستان میں کام کرنیوالے سری لنکنز کی پیشہ ورانہ مہارت اور ملک کی برآمدات میں ان کے کردار کی گواہی دیں گے۔

کراچی بزنس گلڈ کے صدر فراز الرحمان کا کہنا ہے کہ سری لنکن دنیا میں تکنیکی ترقی سے باخبر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی آجروں کیلئے وہ ترجیحی انتخاب ہیں۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ  دوسرے ممالک کے منیجرز کے مقابلے میں ان (سری لنکنز) کی خدمات حاصل کرنا بھی کم مہنگا ہے۔

فراز احمد کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے کچھ لوگوں کو دو یا تین ماہ کی تربیت کیلئے سری لنکا بھیج کر تجربہ کیا، لیکن ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے۔  اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، بہت سے مینوفیکچررز نے ملازمین کو تربیت دینے اور تکنیکی شعبوں کے سربراہ کیلئے سری لنکا کے صنعتی انجینئرز کی خدمات حاصل کیں۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے سابق سینئر نائب صدر فراز الرحمان نے کہا کہ تقریباً 700 غیرملکی شہری، جن میں سے زیادہ تر سری لنکن ہیں، صرف کورنگی صنعتی علاقے میں مختلف صنعتی یونٹوں میں کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کے بعد وہ ان کی سلامتی کیلئے متفکر ہیں انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

تجربہ کار بزنس مین نے مزید کہا کہ غیرملکیوں خصوصاً سری لنکن باشندوں کی موجودگی نے پاکستانیوں کیلئے روزگار کے زیادہ مواقع کو یقینی بنایا ہے کیونکہ انہوں نے ملک کی برآمدات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سخت منیجر اور ملازم تعلقات

سیالکوٹ سے تازہ ترین رپورٹس بتاتی ہیں کہ پریانتھا کمارا کے قتل کے واقعے کے پیچھے ممکنہ مقصد کام کے معیار پر اصرار ہے۔ اس نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ زیادہ محنت کریں اور اس کے درمیان دشمنی ہوگئی۔

سینئر پولیس حکام کے مطابق کراچی میں مینوفیکچرنگ یونٹس کے کئی منیجرز اور مالکان نے کارکنوں کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات کی شکایت کی ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) فیصل عبداللہ چاچڑ کسی زمانے میں کورنگی ضلع کے پولیس سربراہ تھے جہاں بڑی تعداد میں صنعتی یونٹس موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان بتاتے تھے کہ انہیں ملازمین سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

فیصل عبداللہ چاچڑ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کئی فیکٹری مالکان میرے پاس آتے تھے اور شکایت کرتے تھے کہ ان کے مینوفیکچرنگ یونٹس میں مزدوروں کا ایک مخصوص گروپ انہیں بلیک میل کررہا ہے۔

ملازمین انہیں تفویض کردہ کام مکمل نہیں کریں گے اور جب دباؤ ڈالا جائے گا تو وہ ہڑتال پر جانے کی دھمکی دیں گے۔

سابق ایس ایس پی نے پہلے مالکان کو بتایا کہ وہ تعمیل نہ کرنے والے کارکنوں کو برطرف کرسکتے ہیں لیکن اس تجویز پر مالکان گھبرا گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کارکنوں کو نکالنے سے ردعمل، مظاہرے اور مکمل ہڑتال ہوگی۔

فیصل چاچڑ کا کہنا ہے کہ آخر کار پولیس نے فیکٹری مالکان کی مدد کرنا شروع کردی۔

ہر فیکٹری کارکن لاوارث یا سنگدل نہیں ہوتا۔ تازہ ترین ویڈیوز میں انکشاف ہوا ہے کہ راجکو انڈسٹریز کے کارخانوں میں کچھ ایسے افراد تھے جنہوں نے پریانتھا کمارا کو ہجوم سے بچانے کی کوشش کی۔

پاکستان میں سری لنکن منیجرز

حکام کے مطابق پاکستان میں کام کرنیوالے سری لنکن شہریوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ صرف کراچی میں 2 ہزار سری لنکن ہیں، جن میں سے زیادہ تر صنعتی یونٹس میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

حالیہ برسوں میں پنجاب میں خاص طور پر گوجرانوالہ ڈویژن بشمول سیالکوٹ، منڈی بہاء الدین، گجرات، نارووال اور حافظ آباد اضلاع میں انڈسٹریل یونٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

سیالکوٹ واقعے کے بعد گوجرانوالہ ڈویژن کی پولیس کو گرجا گھروں اور غیرملکی شہریوں کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی سخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube