Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

سیالکوٹ واقعہ پر مفتی طارق مسعود کا موقف 

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 1 month ago

مفتی طارق مسعود نے واقعہ سیالکوٹ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے ایسے کسی غیر مسلم کو قتل کیا جو ہمارے ہاں باقاعدہ قانونی طریقے یا معاہدہ کے تحت آیا ہو وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔ 

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ اس قسم کے زیادہ تر واقعات میں ذاتی بغض کو توہین رسالت کا نام دے دیا جاتا ہے، یہ مشاہدہ کئی مرتبہ کیا گیا ہے۔   

مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کے قانون میں اس بات کی وضاحت ہونی چاہیے کہ توہین کی تعریف ہے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق سیالکوٹ میں سری لنکن شہری نے ایسا پمفلٹ پھاڑ دیا تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اہلبیت کے نام لکھے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہر قوم کے ادب اور بے ادبی کے معیارات مختلف ہوتے ہیں مثلاً سعودی عرب کے کچھ علاقوں میں لوگ قرآن شریف زمین پر رکھتے ہیں کیوں کہ یہ ان کے ہاں برا نہیں سمجھا جاتا تو کیا ہم ایسے افراد کو توہین رسالت کا ملزم قرار دے دیں۔ 

مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ مجھے پکا یقین ہے کہ مقتول سری لنکن شہری کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوگا کہ پمفلٹ پر لکھا کیا ہے کیوں کہ انہیں اردو یا عربی سمجھ نہیں آتی اب اگر بالفرض اس پمفلٹ پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لکھا بھی ہو تو اس صورت میں اس شخص سے اس کی نیت پوچھی جانی چاہیے تھی جو عوام کا نہیں بلکہ عدالت کا کام ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے یہ بات کررہا ہوں کہ یہ جذباتی پن ہمیں نقصان پہنچائے گا اور سیالکوٹ واقعہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی سنگین بدنامی ہوئی۔ 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube