Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

مقتول سری لنکن منیجرکا جسدخاکی لاہور سے وطن پہنچ گیا

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سری لنکن شہری پريانتھا کمارا کا جسدِ خاکی لاہور سے سری لنکا پہنچادیا گیا۔ سری لنکن ہائی کمشنر موہن وجيا وکراما کہتے ہيں کہ قتل ہوا، ہم نے دیکھا کہ پاکستان نے فوری ایکشن لیا، بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرليا گيا، ہمیں کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم دوست ہیں اور رہیں گے، ہمارے تعلقات پر منفی اثرات نہيں ہوں گے۔

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے اسپورٹس ویئر بنانے والی کمپنی کے سری لنکن منیجر کو جمعہ کے روز قتل کرکے لاش کو آگ لگادی گئی تھی۔ ان پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا۔

مقتول سری لنکن شہری کی لاش ہفتے کو پوسٹ مارٹم کے بعد سیالکوٹ سے لاہور منتقل کی گئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پریانتھا کی موت سر پر لگنے والی گہری چوٹ کو قرار دیا گیا تھا، تشدد سے ان کی تقریباً تمام ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اور آگ لگانے سے ان کے جسم کا 90 فیصد حصہ جھلس گیا تھا۔

پریانتھا کمارا کی لاش پیر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے لاہور میں سری لنکن ہائی کمشنر حکام کے حوالے کی، جس کے بعد میت سری لنکا روانہ کی گئی جو وطن پہنچ چکی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے آج ایک بار پھر سیالکوٹ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ سيالکوٹ نے ہمارا سر شرم سے جھکا ديا ہے۔ انہوں نے ملزمان کو سزا یقینی بنانے کی ہدايت کردی۔

سری لنکن ہائی کمشنر موہن وجے وکرما کا میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے ایک شہری کا قتل ہوا جو انتہائی افسوسناک ہے لیکن سری لنکن حکومت کو یقین ہے کہ اس کا تعلق پاکستان سری لنکا تعلقات سے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ پاکستان نے فوری ایکشن لیا، بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ہمیں کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم دوست ہیں اور رہیں گے۔

پولیس کی تفتیشی ٹیم نے موبائل کالز ریکارڈ اور کلوز سرکٹ فوٹیجز کی مدد سے مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا، یہ ملزمان سری لنکن مینجر پر حملے کی منصوبہ بندی اور اشتعال پھیلانے میں ملوث ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اب تک واقعے میں ملوث 131 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں سے 26 کا مرکزی کردار سامنے آیا ہے۔

ویڈیو: سری لنکن منیجرکے قتل کے بعد فیکٹری کے مناظر

اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن لوگوں نے لاش کے ساتھ سیلفیاں بنائیں انہیں بھی پکڑا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس کو ہدایت کی کہ دیگر ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے، ملزمان قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

رپورٹ ميں کہا گيا کہ مار پیٹ کا واقعہ صبح 11 بجے کے قریب شروع ہوااور جب يہ واقعہ رونما ہوا تو فیکٹری مالکان غائب ہوگئے،فوٹیج کی مدد سے مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سیالکوٹ واقعہ،13مرکزی ملزمان گرفتار، آئی جی پنجاب پولیس

رپورٹ کے مطابق غیرملکی وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، اسی سلسلے ميں منيجر نے مشينوں کی مکمل صفائی کا حکم دے رکھا تھا، جن لوگوں نے اشتعال انگیزی میں کردار ادا کیا انہیں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا بیان:۔

لاہور میں ہفتے کووزيرخارجہ  شاہ محمود قريشی نے صحافیوں سے بات کرتےہوئے بتایا کہ سیالکوٹ واقعہ باعث ندامت ہے اوروزیراعظم نے اس واقعے کا نوٹس لےلیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات ہورہی ہیں اور امید ہے کہ 48گھنٹے میں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیاہے۔

شاہ محمودقریشی نے بتایا کہ سری لنکن ہائی کمشنرکےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اورسیالکوٹ واقعےسےسری لنکاکے ساتھ تعلقات متاثرنہیں ہونگے۔

انھوں نے یقین دلایا کہ متاثرہ فیملی سےرابطہ کیا ہے اورجیساوہ چاہیں گےوہی کریں گے۔

وزیراعظم اور سری لنکن سربراہان مملکت:۔

وزيراعظم عمران خان نے سانحہ سيالکوٹ پر سری لنکن صدر سے رابطہ کيا ہے اور انہيں بتايا کہ اس افسوسناک واقعے ميں ملوث 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرليا گيا ہے۔ انہوں نے يقين دہائی کرائی کہ ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل سيالکوٹ واقعے پر سری لنکن وزيراعظم نے بھی ٹويٹ کيا اور لکھا کہ پاکستان ميں سری لنکن شہری کی موت پر افسوس ہے، واقعے پر صدمے ميں ہوں، ہمدردياں اہلخانہ کے ساتھ ہيں، يقين ہے عمران خان ذمہ داروں کو کٹہرے ميں لائيں گے۔

وائرل ویڈیوز:۔

واقعے سے متعلق وائرل ہونیوالے ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پاکستانی فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا مشتعل ہجوم سے جان بچانے کیلئے عمارت کی چھت پر بھاگے، کچھ لوگوں نے بچانے کی کوشش کی مگر ملازمین نہ مانے اور پریانتھا کو قتل کرکے لاش گراؤنڈ فلور پر لائے اور اس کی بے حرمتی کی، وہاں موجود ہجوم تماشائی بنارہا، لوگ ویڈیوز اور سیلفیاں بناتے رہے۔

مقتولہ کی اہلیہ کی اپیل

مقتول سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر معصوم تھے، واقعے کی خبر انٹرنیٹ سے ملی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کردیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube