Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

راناشمیم کانام ای سی ایل میں ڈالنےکی درخواست غیرموثرقرار

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکی درخواست غیر موثر قرار دے دی ہے۔

پیر کی صبح سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست غیر موثر قرار دی اور فیصلے سناتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست دائر کرنے والے رائے نواز کھرل ایڈوکیٹ توہین عدالت کیس میں پارٹی نہیں بن سکتے۔

ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ای سی ایل میں  نام ڈالنا حکومت کا کام ہے،عدالت کا نہیں۔ رائے محمد نواز کھرل نے موقف اختیار کیا تھا کہ رانا شمیم ملک سے فرار ہوسکتے ہیں،اس لئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اٹارنی جنرل نے رانا شمیم کو سہولت فراہم کرنے کا خط پیش کردیا۔ یہ خط عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے متفرق درخواست بھی عدالت میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کا سابق چیف جج کو لکھا خط ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

ثاقب نثارپرالزامات،راناشمیم کےاصل بیان حلفی کیلئےاٹارنی جنرل کاخط

خط میں رانا شمیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے ابہام سے بچنے کے لیے وہ اپنا بیان حلفی پاکستانی ہائی کمیشن لندن سربمہر لفافے میں ہائی کمیشن کو بھیجیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن حلف نامہ وزارت خارجہ کے ذریعے رجسٹرار ہائی کورٹ کوبھیجے گا۔

کیس میں پارٹی بننے کی درخواست بھی مسترد:۔

اس کےعلاوہ رائے محمد نواز کھرل ایڈوکیٹ کی توہین عدالت کیس میں پارٹی بننے کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ توہین عدالت کے کیس میں کیسے پارٹی بن سکتے ہیں؟۔ درخواست گزار وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق چیف جسسٹس ثاقب نثار سے متعلق سب معلومات رکھتا ہوں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ  توہین عدالت کیس توعدالت کا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔

اخباری خبر،میرابیان حلفی سےبالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے،رانا شمیم

تیس نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں رانا شمیم نے کیس کی سماعت کے موقع پر بتایا تھا کہ میں نے وہ بیان حلفی ابھی تک نہیں دیکھا اورجو بیان حلفی یہاں جمع ہوا وہ بھی ابھی تک نہیں دیکھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ خبرچھاپنے کے بعد مجھ سے پوچھا گیا اور میرا بیان حلفی سِیل اورصرف میری فیملی کے پاس تھا،مجھے نہیں پتہ وہ بیان حلفی کیسے پبلک ہوگیا۔

جسٹس (ر) رانا شمیم کیخلاف بیان دینے والوں کو نوٹس دینگے،احمد حسن

رانا شمیم سے عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ابھی تک اپنا بیان حلفی نہیں دیکھا؟ خبرچھاپنے والےکہتے ہیں کہ انہوں نے بیان حلفی کی آپ سے تصدیق کی اورآپ نے اخبار کو کوئی بیان حلفی جاری نہیں کیا ؟۔رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وضاحت کی کہ میرا بیان حلفی سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ اگر آپ نے بیان حلفی کوئی دیا ہی نہیں تو تحریری جواب دیں اور اگر بیان حلفی دیا تو بتائیں کہ 3 سال بعد آپ کو کیوں یاد آیا ہے؟۔آپ پہلے بتائیں کہ یہ بیان حلفی آپ نے دیا بھی یا نہیں؟۔رانا شمیم نے جواب دیا کہ مجھےدیکھنا ہوگا یہ کون سا بیان حلفی ہے،اس کو ابھی دیکھا بھی نہیں۔

رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکیلئے دائردرخواست سماعت کیلئےمقرر

اٹارنی جنرل نے رانا شمیم سے سوال کیا کہ کیا آپ نے کوئی بیان حلفی لکھوایا بھی تھا یا نہیں؟ اٹارنی جنرل کو انھوں نے جواب دیا کہ مجھے دیکھنا ہوگا کہ یہ کیا تھا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بہت عجیب صورتحال بن گئی ہے، یہ کوئی دس سال پرانا ڈاکیومنٹ نہیں جو انہیں یاد ہی نہ ہو،اب  ساری ذمہ داری رانا شمیم پر آگئی ہے اور یہ ایک عدلیہ کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش لگتی ہے،رانا شمیم کے بیان کو عدالتی ریکارڈ پر لایا جائے اور رانا شمیم کا بیان لکھا جائے کہ انہیں یاد ہی نہیں کہ بیان حلفی میں کیا ہے،ایک بندہ کہتا ہے کہ پچھلے ماہ کے بیان حلفی میں کیا لکھا وہ یاد نہیں اوراس شخص کے تین سال پرانے بیان پر خبر چھاپ دی گئی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ رانا شمیم کے بیان نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ رانا شمیم نے استدعا کی کہ عدالت مجھے وقت دے،میرے گھر میں دو چالیسویں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رانا صاحب اس عدالت پر لوگوں کا اعتبار آپ نے متاثر کیا، اس عدالت سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں ہے۔

راناشمیم کیخلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کی درخواست چیف جسٹس کوبھجوادی گئی

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب اخبار کا کردارثانوی ہوگیا ہے اور اصل کارروائی اب رانا شمیم کے خلاف ہونی چائیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر اصل بیان حلفی ایسا موجود ہی نہیں تو پھر جنگ اخبار پر بھاری ذمہ داری آئے گی۔

عدالت نے رانا شمیم کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کیلئے 7 دسمبر تک کی مہلت دی ہے۔ رانا شمیم کو آئندہ سماعت پر اصل بیان حلفی سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔انصار عباسی اورمیر شکیل الرحمان کے جوابات کی نقول عدالتی معاونین کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ:۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جاری کردیا ہے۔

تحریری حکم نامے میں درج ہے کہ رانا شمیم کے مطابق ان کا بیان حلفی برطانیہ میں ایک لاکر میں رکھا ہے اور اٹارنی جنرل بیان حلفی منگوانے میں معاونت کیلئے رانا شمیم سے رابطہ کریں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ دفتر خارجہ اور پاکستانی سفارت خانہ بھی اٹارنی جنرل کی معاونت کریں۔ آئندہ سماعت پر بیان حلفی کی عدم پیشی بیان حلفی کی عدم موجودگی کے خیال کو تقویت دے گی۔ رانا شمیم بیان حلفی کے متن سے متعلق بے یقین دکھائی دیئے۔ رانا شمیم چار دن کے اندرشوکاز کا جواب اور اصل بیان حلفی جمع کرائیں۔

رانا شمیم سے متعلق خبر،میر شکیل، انصار عباسی اورعامرغوری کوشوکاز نوٹس جاری

واضح رہے کہ 16 نومبر بروز پیر کو دی نیوز اخبار کی رپورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق متعدد دعویٰ کئے گئےہیں۔اس خبر میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ جب ثاقب نثار سال 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت گئے تو ایک شام ملاقات کے دوران رانا شمیم کے سامنے ثاقب نثار کو رجسٹرار کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ثاقب نثار نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ ایک جسٹس صاحب کے گھر جائیں  اور ان کو فوری طور پر ٹیلی فون کرنے کا کہیں۔ تاہم اس خبر میں جسٹس کا نام نہیں بتایا گیا۔

خبر میں مزید کہا گیا کہ ثاقب نثار نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ میاں محمد نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کسی بھی صورت جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات سے قبل ضمانت پر رہا نہیں ہونے چاہئے۔ ثاقب نثار نے یہ ہائیکورٹ کے جج کو یہ بھی ہدایت کی کہ مسلم لیگ نون کے رہنما انتخابات مکمل ہونے تک جیل میں رہنے چاہئے۔

رانا شمیم کیس کی انکوائری پرسیاسی منظرنامہ تبدیل ہوجائےگا،احمدحسن

خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب ثاقب نثار کو ٹیلی فون پر اس ہدایت کے پورا ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔ ثاقب نثار نے   سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کو یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے سے متعلق انجان بن جائیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube