Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

سیالکوٹ واقعہ: منیجرکی موت کیسے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی

SAMAA | - Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 1 month ago

سیالکوٹ میں ہجوم کے تشدد سے ہلاک ہونیوالے سری لنکن شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موت کی وجہ سامنے آگئی۔ مقتول کی میت سیالکوٹ سے لاہور منتقل کردی گئی جو سری لنکن ہائی کمیشن کے حوالے کی جائے گی۔

سیالکوٹ میں جمعہ کو مشتعل ہجوم نے اسپورٹس ویئر فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو توہین مذہب کے الزام پر تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا، جس کی لاش کو بعد ازاں آگ لگادی گئی تھی۔

سماء نے سری لنکن شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی حاصل کرلی، جس میں پتہ چلا ہے کہ پرانتھا کی موت دماغ ڈیمیج ہونے کی وجہ سے ہوئی، یہ بھی تصدیق ہوئی ہے کہ ان کے سر کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سری لنکن منیجر کے جسم کا 99 فیصد حصہ مکمل طور پر جل چکا ہے، تشدد سے ان کے بازو، کولہے سمیت تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔

میت لاہور منتقل

پریانتھا کمارا کی میت سیالکوٹ سے لاہور منتقل کردی گئی، جو اسلام آباد میں سری لنکن ہائی کمیشن کے حوالے کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ واقعہ،13مرکزی ملزمان گرفتار، آئی جی پنجاب پولیس

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ 13 مرکزی ملزمان سمیت 120 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا، جن لوگوں نے لاش کے ساتھ سیلفیاں بنائیں انہیں بھی پکڑا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ دیگر ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے، ملزمان قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ مار پیٹ کا واقعہ صبح 11 بجے کے قریب شروع ہوا جب يہ واقعہ رونما ہوا تو فیکٹری مالکان غائب ہوگئے، فوٹیج کی مدد سے مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق غیرملکی وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، اسی سلسلے ميں منيجر نے مشينوں کی مکمل صفائی کا حکم دے رکھا تھا، جن لوگوں نے اشتعال انگیزی میں کردار ادا کیا انہیں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

مزید جانیے: سیالکوٹ میں توہین مذہب کاالزام، سری لنکن شہری کوسرعام جلا دیاگیا

ادھر ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے آئی جی پنجاب کے ہمراہ  نيوز کانفرنس میں واقعے کی تفصیلات بتائیں۔ ترجمان کے مطابق 24 گھنٹوں میں 200 چھاپے مارے گئے، 160 کيمروں سے 12 گھنٹے کی فوٹيج حاصل کی گئی۔

آئی جی پنجاب پولیس نے بتایا کہ 13 مرکزی ملزمان نے اعترافی بیان بھی دیا ہے۔

آئی جی پولیس نے اعتراف کیا کہ وقوعے کے روز پہلے رسپانس ميں پوليس کو معاملے کی حساسيت کا علم نہيں ہوسکا، سڑک بلاک تھی ڈی پی او کو پیدل پہنچنے میں 15 منٹ لگے۔

وزیراعظم اور سری لنکن سربراہان مملکت

وزيراعظم عمران خان نے سانحہ سيالکوٹ پر سری لنکن صدر سے رابطہ کيا ہے اور انہيں بتايا کہ اس افسوسناک واقعے ميں ملوث 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرليا گيا ہے۔ انہوں نے يقين دہائی کرائی کہ ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل سيالکوٹ واقعے پر سری لنکن وزيراعظم نے بھی ٹويٹ کيا اور لکھا کہ پاکستان ميں سری لنکن شہری کی موت پر افسوس ہے، واقعے پر صدمے ميں ہوں، ہمدردياں اہلخانہ کے ساتھ ہيں، يقين ہے عمران خان ذمہ داروں کو کٹہرے ميں لائيں گے۔

وائرل ویڈیوز

واقعے سے متعلق وائرل ہونیوالے ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پاکستانی فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا مشتعل ہجوم سے جان بچانے کیلئے عمارت کی چھت پر بھاگے، کچھ لوگوں نے بچانے کی کوشش کی مگر ملازمین نہ مانے اور پریانتھا کو قتل کرکے لاش گراؤنڈ فلور پر لائے اور اس کی بے حرمتی کی، وہاں موجود ہجوم تماشائی بنارہا، لوگ ویڈیوز اور سیلفیاں بناتے رہے۔

مقتولہ کی اہلیہ کی اپیل

مقتول سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر معصوم تھے، واقعے کی خبر انٹرنیٹ سے ملی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کردیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube