Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

سیالکوٹ:توہین مذہب کاالزام،سری لنکن شہری کوسرعام جلا دیاگیا

SAMAA | - Posted: Dec 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago

سیالکوٹ: ہجوم کا ایک منظر

سیالکوٹ میں مشتعل شہریوں کے ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں اسپورٹس ویئر بنانے والی انڈسٹری کے سری لنکن منیجر کو آگ لگا دی۔ واقعہ آج بروز جمعہ 3 دسمبر کی صبح پیش آیا۔

علامہ طاہر اشرفی

علامہ طاہر اشرفی نے واقعے کو افسوسناک قرار دیدیا، کہا کہ ملزمان نے نہ پاکستان کی خدمت کی اور نہ دین کی۔

پنجاب پولیس

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وزیراعظم، آرمی چیف، وزیر داخلہ، وزیر مذہبی امور سمیت اہم شخصیات نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

واقعہ سیالکوٹ کے علاقے وزیر آباد روڈ پر پیش آیا جہاں مشتعل شہریوں کی بڑی تعداد نے غیر ملکی منیجر کو پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور مرنے کے بعد سڑک کے بیچوں بیچ آگ لگا دی۔

واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں، جس میں ایک جلتی ہوئی لاش کے قریب عوام کے ایک بڑے ہجوم کو کھڑے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے جس میں وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ فیکٹری کے ورکرز ہیں، جہاں غیر ملکی بحیثیت جنرل مینجر فرائض انجام دے رہا تھا۔ فیکٹری ورکرز کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز دیکھا کہ سری لنکن شہری نے کچھ مقدس اوارق کی توہین کی ہے، جس پر وہاں موجود افراد مشتعل ہوئے اور سری لنکن شہری پر حملہ کردیا۔

کچھ ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ مشتعل شہریوں نے سری لنکن شہری کو مارا پیٹا اور اس کے بعد اسے نذرِ آتش کردیا۔ ان ویڈیوز میں اس شخص کی جلتی ہوئی لاش کو دیکھا جاسکتا ہے جس کے اردگرد بڑی تعداد میں لوگ نظر آرہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے غیر ملکی منیجر کو نذرِ آتش کرنے کے بعد نعرے بازی بھی کی گئی۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے سیالکوٹ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں گی، 24 گھنٹے کے اندر مجرموں کی گرفتاری کے احکامات دیئے جاچکے، اس طرح کے واقعات عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باٹ ہیں، غیر ملکی اور غیر مسلموں کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جبکہ اس واقعے کے محرکات کی تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔

سيالکوٹ واقعے پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سيالکوٹ نے وزير قانون پنجاب کی زير صدارت اجلاس ميں ویڈیو لنک کے ذریعے بريفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 110 سے زائد افراد کو گرفتار کرليا گيا ہے۔

راجہ بشارت کہتے ہيں واقعہ کے ذمہ داران کيخلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائيگی۔

وزیر قانون

وزیر قانون نے سیالکوٹ اور گرد و نواح میں گرجا گھروں اور غیرملکی ورکرز کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کردی۔

دوسری جانب پنجاب پولیس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں بتایا ہے کہ واقعے کے مرکزی ملزم فرحان ادریس کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

طاہر اشرفی اور حسان خاور کی پریس کانفرنس

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی اور ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے قتل اور لاش جلانے کے واقعے کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے بتایا کہ پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا، اس واقعے میں انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا، غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں گے، واقعے میں جو بھی ملوث ہوگا اس کیخلاف کارروائی ہوگی۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے نے پاکستان کو بدنام کیا، ایسا کرنے والوں نے پاکستان کی خدمت کی اور نہ ہی دین کی، سی سی ٹی وی کی مدد سے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ واقعے پر تعزیت کیلئے سری لنکن سفارتخانے جائیں گے، جو بھی مجرم ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ملزمان کیخلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔

علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ توہین ناموس رسالتﷺ و توہین مذہب کا قانون موجود ہے، سری لنکن منیجر پر حملہ کرنے والوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے، قاتلوں کا عمل غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے۔

سیالکوٹ واقعے پر وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سمیت دیگر شخصیات نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مشتعل گروہ کا کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن منیجر کو جلانا پاکستان کیلئے ایک شرمناک دن ہے، میں خود تحقیقات کی نگرانی کروں گا، ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی۔

آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سیالکوٹ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری لنکن شہری کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے، مشتعل ہجوم کے ایسے ماورائےعدالت اقدام ناقابل قبول ہیں، ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ہرممکن مدد کی جائے۔

سری لنکن وزارت خارجہ کا بیان

سری لنکن میڈیا کے مطابق وزارت خاجہ نے پاکستان میں پیش آنیوالے افسوسناک واقعے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا توقع کرتا ہے کہ پاکستان سیالکوٹ میں پیش آنیوالے انتہائی سنگین واقعے کی تحقیقات کیلئے مطلوبہ اقدامات اٹھاتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گا۔

سری لنکن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیش آنیوالے واقعے سے متعلق معلومات موصول ہوئی ہیں اور پاکستان میں قائم سری لنکن ہائی کمیشن نے پاکستانی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کی تصدیق کی ہے۔

سری لنکن ہائی کمیشن نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے ٹویٹ کا عکس بھی شیئر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو لبیک یا رسول اللہ کا نعرے لگاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ صبح سے وائرل ان ویڈیوز میں یہ بھی واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد جلتی لاش کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بناتی نظر آرہی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube