Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

اعظم سواتی نےالیکشن کمیشن سےاپنے بیان پرمعافی مانگ لی

SAMAA | - Posted: Dec 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Dec 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago

وزیراطلاعات فواد چوہدری کے بعد وزیرریلوے اعظم سواتی نے بھی الیکشن کمیشن سے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی کو22 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن میں جمعہ کو وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی کےالزامات پرتوہین عدالت کےکیس کی سماعت ہوئی۔ اعظم سواتی پیش نہ ہوئے۔

الیکشن کمیشن میں ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ اعظم سواتی خودکہاں ہیں؟۔اعظم سواتی کےوکیل بیرسٹرعلی ظفر نے بتایا کہ اعظم سواتی کو اچانک کوئٹہ جاناپڑگیاہے۔ممبر سندھ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی اعظم سواتی نے حاضری سے استثنی مانگا تھا،کیا اعظم سواتی کیس سے راہِ فرار اختیار کررہے ہیں؟۔

اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ آئینی ادارے کے خلاف کوئی غلطی ہوجائے تو معذرت کرنی چاہیے۔ انھوں نے اعظم سواتی کا جواب پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیشہ الیکشن کمیشن کو طاقتور بنانے کی کوشش کی،اگر میری کسی بات سے دل آزاری ہوئی تو معذرت خواہ ہوں۔ کبھی الیکشن کمیشن کو اسکینڈلائز کرنے کی کوشش نہیں کی اور بطور وفاقی وزیر ہمیشہ اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کیا۔ اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کردی۔

ممبر سندھ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنا کام ایمانداری سے کررہا ہے اور تمام اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا آنا چاہیے،اعظم سواتی کوآج کیلئے حاضری سے استثنی دے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی کو22 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ الیکشن کمیشن نےفوادچوہدری کےتحریری معافی نامے پربھی فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ممبر سندھ نے کہا کہ فواد چوہدری کے معافی نامے پر مناسب حکم جاری کرینگے۔

الیکشن کمیشن کے باہراعظم سواتی کے وکیل علی ظفر ایڈوکیٹ نے صحافیوں سے بات کرتےہوئے کہا کہ ریاستی اور آئینی اداروں کی عزت کرنا اور ان کو طاقتور کرنا ہرشہری کا فرض ہے۔ الیکشن کمیشن کا جہموریت کے ساتھ گہرا تعلق ہے اورالیکشن کمیشن کا کام الیکشن کروانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت میں ہوں یا نہ ہوں،الیکشن کمیشن کی مدد کرنی چاہیے اور الیکشن کمیشن کوماں باپ کے درجے پر تصور کرنا چاہیے۔

انھوں نےدہرایا کہ ہمارے کسی عمل کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچا تو اس کے لیے معافی مانگی ہے۔ کسی ادارے سے اگرکوئی ایسی بات ہوجائے تو بہتر قدم ہوتا ہے کہ معافی مانگ لی جائے۔

اکتوبر میں ہونے والی سماعت میں وزیر ریلوے اعظم سواتی نےاپنی پیشی کو الیکشن کمیشن کیلئے باعث وقار قراردیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ خوشی ہے کہ کسی چوری، ڈاکے یا غیر قانونی کیس میں پیش نہیں ہورہا ہوں۔رول آف لاء کے مطابق شوکاز ملا اور اس ادارے کی پاسداری کے لئے پیش ہوا۔

الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی کو شو کاز نوٹس جاری کردیا

الیکشن کمیشن کی جانب سے 16 ستمبر کو جاری نوٹسز میں فواد چوہدری اور اعظم سواتی سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئےالزامات کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

منگل 16 نومبر کوالیکشن کمیشن میں پیش ہوکر فواد چوہدری نے اپنے بیان پر معافی مانگی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ادارے کا بہت احترام ہے اور کسی شوکاز کےچکر میں نہیں پڑنا چاہتا،بطور وزیراطلاعات حکومت اور کابینہ کا ترجمان ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنرکا بہت احترام کرتا ہوں، وکیل ہوں اورکبھی عدالتوں سےجھگڑا نہیں ہوا جب کہ بہت سے بیان میرے نہیں ہوتے۔انھوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن میں تحریری معافی نامہ نہیں دوں گا کیوں کہ ذاتی حیثیت میں معذرت کرچکا ہوں۔ اگر الیکشن کمیشن کوتحریری معافی نامہ چاہیے تو وفاقی کابینہ سے لے لے۔

الیکشن کمیشن پر الزامات، فواد چوہدری کی طلبی کا نوٹس جاری

واضح رہے کہ 3 ماہ قبل حکومت کی جانب سےالیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کے فیصلے اوراس پر اپوزیشن کے ساتھ الیکشن کمیشن کےاعتراضات کے بعد سامنے آنے والا تنازع اس وقت طول پکڑ گیا تھا جب 10 ستمبر کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔

اس ہی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ’اپوزیشن کے آلہ کار‘ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن،اپوزیشن کے ہیڈکوارٹرز میں تبدیل ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعظم سواتی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق بہت سی باتیں صیغہ راز میں ہیں لیکن انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر حکومت کو ’کڑوی گولی‘ کھانی پڑی تاکہ آئینی ادارے کی ساکھ کو بحال رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو تباہی سے بچانا ہوگا، کیا الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے؟۔

فواد چوہدری نےاپنےبیان پرالیکشن کمیشن سےمعافی مانگ لی

واضح رہے کہ وزیرِ ریلوےاعظم سواتی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن پر برہم ہوئے تھے۔ اعظم سواتی نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے کا باعث ہے۔

اعظم سواتی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی کرتا رہا ہے۔ اعظم سواتی کے الزامات پر قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس سے الیکشن کمیشن کے ارکان نے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹسز جاری کر دیئے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
Azam Swati,Election commission,PTI,Fawad Chaudary,اعظم سواتی،الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube