Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

اسلام آباد ایئرپورٹ پر طیارے سے پرندہ ٹکرا گیا

SAMAA | - Posted: Dec 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فائل فوٹو

اسلام آباد ایئرپورٹ پر کراچی سے آنے والے نجی طیارے سے پرندہ ٹکرا گیا۔

طیارے میں 150 سے زائد مسافر سوار تھے۔ پرندہ طیارے کے لینڈنگ گیئر سے ٹکرانے کے بعد طیارے کو بحفاظت ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔

نجی ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق پرندہ ٹکرانے سے طیارے کو معمولی نقصان پہنچا جسے انجینیرز ٹھیک کررہے ہیں۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق طیارے کی مرمت کے باعث اسلام آباد کراچی پرواز تاخیر سے روانہ ہوگی۔

واضح رہے کہ ایئرپورٹ کے اطراف میں رہائشی آبادیاں بنانے اور کچرا پھینکنے کے باعث پرندے ہوائی اڈے کے اردگرد اور رن کے قریب پرواز کرتے رہتے ہیں جس کے باعث طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔

تین اکتوبر کو بھی کراچی سے اسلام آباد پہنچنے والی نجی ایئرلائن کی پرواز ای آر 500 سے پرندہ ٹکرا گیا تھا۔

چھوٹا پرندہ بڑا نقصان

طیارے سے پرندہ ٹکرانے کے واقعات کبھی کبھار بڑے حادثات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں کیونکہ اس سے انجن میں خرابی، کینوپی یا وِنڈ شیلڈ میں دراڑ پڑ سکتی ہے جس سے کیبن میں ہوا کا دباؤ بڑھ سکتا ہے جس سے حادثے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

پاکستان سول ایوی ایشن نے ان حادثات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایئرپورٹ کے اندر، ایئرپورٹ سے نزدیک اور ایئرپورٹ سے دور۔

اگر پرندہ ٹکرا جائے تو پائلٹ کیا کرتا ہے؟

لینڈنگ یا ٹیک آف کے وقت پرندے ٹکرانے کی صورت میں دو مختلف قسم کے رد عمل اور اقدامات ہوتے ہیں۔

 ٹیک آف کے دوران اگر پرندہ ٹکراتا ہے تو طیارے کی رفتار اور رن وے کا کتنا حصہ رہ گیا ہے، اس کے مطابق فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ اگر ٹیک آف کے بعد پرندہ ٹکرا جائے تو فوری طور پر غیر معمولی آلات کی دیکھ بال اور ان کی پائیداری کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور اگر کوئی نقص نظر آتا ہے تو طیارے کو واپس اتار لیا جاتا ہے۔

دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

سول ایوی ایشن کے ترجمان کے مطابق پرندوں سے چھٹکارے کے لیے روایتی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جس کے تحت شوٹر ہائر کیے گئے ہیں جو پرندوں کو مار گراتے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بین الاقومی طور پر پرندوں کو مارا نہیں جاتا بلکہ ایسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جیسے طیارہ آ رہا ہو تو پرندے بھاگ جائیں اس کے لیے سائرن لگا کر مختلف آوزایں پیدا کی جاتی ہیں یا پردنوں پر روشنی ماری جاتی ہے۔

شہری ادارے اور عوام کی ذمہ داری

سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے باہر جو ’سالِڈ ویسٹ‘ (کچرا) ہے اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے شہری ادارے وہ نتائج نہیں دے پارہے ہیں جو انھیں دینے چاہییں۔ اتھارٹی کا ایک انوائرمینٹل پروٹیکشن افسر ہوتا ہے جو ان اداروں سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ عوام میں آگاہی کی مہم بھی چلائی جاتی ہے جس میں ایئرپورٹس کی آس پاس کی آبادی میں بینر لگائے جاتے ہیں اور کیبل ٹی وی پر پیغام نشر ہوتے ہیں۔

بڑے ایئرپورٹس کے لیے جدید نظام

سول ایوی ایشن کے سیفٹی اینڈ کوالٹی مینیجمنٹ سسٹم کے ڈائریکٹر کی جانب سے پرندوں کو بھگانے کے لیے جدید نظام کی تنصیب کے لیے ٹینڈر کر دیے گئے ہیں۔ جس کے بعد کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے ایئرپورٹس پر یہ خودکار نظام فعال ہوجائے گا۔

ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ

واضح رہے کہ پاکستان میں اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت 27 کے قریب فعال ایئرپورٹس ہیں، جن میں سے نو کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی ہے، ج بکہ باقی اندرون ملک پروازوں کے لیے مختص ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube