Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

سیکریٹری سندھ بارکونسل کاقتل، کچے کے ڈاکو ملوث نہیں، بھائی 

SAMAA | - Posted: Dec 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کراچی : مقتول ایڈووکیٹ عرفان علی مہر

سندھ بار کونسل کے سیکریٹری عرفان علی مہر ایڈووکیٹ کو بدھ کے روز گلستان جوہر کے علاقے میں 2 نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے دن دہاڑے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا لیکن پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں قتل کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔

عرفان علی ایڈووکیٹ قتل کے فوراً بعد پولیس نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ مقتول کو آبائی دشمنی کی بناء پر قتل کیا گیا ہے۔ عرفان علی مہر کا تعلق شکارپور کے علاقے گڑھی یاسین سے تھا، جسے تیغانی قبیلے کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔

سندھ میں کچے کے علاقے میں تیغانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ڈاکوؤں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے حکومت سندھ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملزمان کے سر کی قیمت بھی مقرر کرچکی ہے۔

ماضی میں بھی گڑھی یاسین میں معمولی وجوہات پر قتل و غارت گری معمول ہے۔ لیکن مقتول کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کسی بھی قسم کی دشمنی نہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ قمر رضا جسکانی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں عرفان علی مہر کے قتل کی کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ سیکریٹری ایس بی سی کے اہلخانہ سے بات بھی کی ہے لیکن انہوں نے بھی بتایا ہے کہ مقتول کی کسی سے خاندانی یا ذاتی رنجش نہیں تھی۔

ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ مقتول کا تعلق شکارپور سے تھا اور پولیس آبائی جھگڑے سے متعلق بھی تحقیقات کررہی ہے لیکن تاحال قتل کی کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آسکی۔

انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے تیس بور پستول کے تین خول ملے تھے جنہیں فارنزک کیلئے فارنزک ڈویژن بھجوادیا گیا لیکن تاحال رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ اگر فارنزک رپورٹ میں واقعے میں استعمال ہونیوالے اسلحے کی شناخت ہو جاتی ہے تو ممکن ہے کہ قتل میں ملوث گروہ کی نشاندہی ممکن ہوسکے۔

مقتول کے بھائی رضوان علی مہر نے بھی سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ہوئے ذاتی، آبائی یا خاندانی دشمنی کے عنصر کو مسترد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عرفان علی مہر چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، انہوں نے ابتدائی تعلیم شکارپور کے علاقے گڑھی یاسین، جو کہ مقتول کا آبائی گاؤں بھی ہے، سے حاصل کی اور شکارپور میں واقع کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کراچی آئے تھے اور یہاں گزشتہ 20 سال سے مقیم تھے۔

رضوان نے بتایا کہ عرفان نے 2 شادیاں کر رکھی تھیں۔ مقتول کی ایک بیوی کا تعلق آبائی گاؤں یعنی گڑھی یاسین جبکہ دوسری بیوی کا تعلق کراچی سے ہے۔ عرفان کے 2 بیٹوں اور ایک بیٹی سمیت 3 بچے ہیں۔

مقتول کے بھائی سے جب کچے کے ڈاکوؤں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تیغانی قبیلہ ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بھائی کے قتل میں کچے کے ڈاکوؤں کا ہاتھ نہیں۔ مقتول کے بھائی نے ارباب اختیار سے قاتلوں کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube