Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی،چیف جسٹس

SAMAA | - Posted: Nov 30, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 30, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی۔فوج کے تمام رولز اور قوانین کا آئین کے تحت  جائزہ لیں گے۔

سپریم کورٹ میں کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی امین نے کیس کی سماعت کی۔

چيف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کوچھوڑ دیا تو باقی کیسے گرائیں گے،اٹارنی جنرل صاحب فوج کو قانون کون سمجھائے گا۔

سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں سے متعلق سیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی ہے۔اٹارنی جنرل کی استدعا پرعدالت نے رپورٹ واپس لینے کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا سنیما،شادی ہال، اسکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟ کراچی میں تمام غیرقانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیرقانونی تعمیرات کو چھوڑدیں۔

دفاعی مقاصدکیلئےمختص زمینوں کی حیثیت کی تبدیلی قوانین کےخلاف ہے،سپریم کورٹ

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کارساز میں سروس روڈ بھی بڑی دیواریں تعمیر کرکے اندر کردی گئیں، کارساز اور راشد منہاس روڈ پر اشتہارات کیلئے بڑی بڑی دیواریں بنادی ہیں، کنٹونمنٹ زمین کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ کالا پُل کے ساتھ والی دیوار اورگرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ فیصل بیس پر اسکول اور شادی ہال بھی بنے ہوئے ہیں، کوئی بھی شادی کا مہمان بن کررن وےپربھاگ رہا ہوگا،ایئربیسزبند کرکے کمرشل سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔

جسٹس گلزارنے ریمارکس دئیے کہ کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصدپوراہونےپرحکومت کوواپس کرناہوتی ہے اورحکومت زمین انہیں واپس کرےگی جن سےلی گئی ہوں۔ کوئٹہ اورلاہورمیں بھی دفاعی زمین پرشاپنگ مالزبنےہوئےہیں اور سمجھ نہیں آرہی کہ وزارت دفاع کیسے ان سرگرمیوں کوجاری رکھےگی؟۔ چیف جسٹس نے دو ٹوک کہا کہ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فوج ملک کے دفاع کیلئے ہوتی ہے،کاروبار کرنے کیلئے نہیں۔

ملٹری لینڈپرکمرشل سرگرمیاں،سپریم کورٹ کاپالیسی پیش کرنےکا حکم

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دئیے کہ فوج کو معمولی کاروبار کیلئے اپنے بڑے  مقاصد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، فوج کواپنے ادارے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے۔ فوجی سرگرمیوں کیلئے گیریژن اور رہائش کیلئے کنٹونمنٹس ہوتے ہیں، سی ایس ڈی پہلے صرف فوج کیلئے تھا اب وہاں ہر بندا جا رہا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی۔فوج کی تمام رولز اور قوانین کا آئین کے تحت  جائزہ لیں گے۔ سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع سے 4 ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی ہے۔ 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube