Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

جنوبی افریقاسمیت6ممالک اورہانگ کانگ سے مسافروں کے پاکستان آنے پرپابندی

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

 پاکستان نے کرونا وائرس کی نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد جنوبی افریقہ سمیت 6 ممالک اور ہانگ کانگ سے مسافروں کے پاکستان آنے پر پابندی لگادی۔ ان ممالک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کیلئے بھی کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ اور ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔

جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آئی ہے جس کے متعلق سائنسدانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، سائنسدان اس کے ممکنہ مضمرات کو سمجھنے کیلئے کام کر رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ نئی قسم نے اپنی ساخت کو کئی بار بدلا ہے۔

مزید جانیے: جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی قسم سامنے آگئی

جنوبی افریقہ میں سامنے آنیوالی کرونا وائرس کی نئی قسم کے باعث امریکا، برطانیہ، سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے افریقی ملکوں سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگادی ہے۔

سربراہ این سی او سی اسد عمر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم سے بچاؤ کیلئے پاکستان نے 6 افریقی ممالک اور ہانگ کانگ سے مسافروں کے پاکستان آنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی پابندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں جنوبی افریقہ، موزمبیق، نمیبیا، بوٹسوانا، لیسوتھو اور ایسواٹینی شامل ہیں۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی اور خطرناک قسم سامنے آنے پر ویکسینیشن اور بھی ضروری ہوگئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: کرونا پیکیج میں 40ارب روپےکی بے ضابطگیوں کا انکشاف،آڈٹ رپورٹ

این سی او سی کے مطابق جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان سے واپس آنے والے پاکستانیوں کو ملک میں داخلے کی مشروط اجازت ہوگی، ایسے شہریوں کے پاس کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ اور ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے واپس آنیوالے پاکستانیوں کا وطن پہنچنے پر ٹیسٹ کیا جائیگا، نیگیٹو رپورٹ کیساتھ آنیوالوں کو 3 روز قرنطینہ میں رہنا ہوگا، پابندی والے ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو 5 دسمبر تک واپس آنے کی اجازت ہوگی۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت ( ڈبليو ايچ او) نے جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی اور خطرناک قسم سامنے آنے پر انتباہ جاری کردیا۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محقيقن کو وائرس کی نئی قسم کے اثرات سمجھنے ميں وقت لگے گا۔

سائنس دانوں نے کرونا کے نئے جنوبی افریقی ویرینٹ کو ’’اومیکرون‘‘ کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ يہ ويکسينز کے مقابلے ميں بھی زيادہ مزاحمت کرسکتی ہے۔

این سی او سی کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 28 ہزار 704 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ مصدقہ مریضوں کی تعداد 12 لاکھ 83 ہزار 886 ہے جن میں سے 12 لاکھ 41 ہزار 589 صحت ہوچکے ہیں، اب بھی 935 مریض تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔

پاکستان میں رواں سال فروری میں شروع ہونیوالی کرونا ویکسینیشن مہم کے دوران 4 کروڑ 98 لاکھ افراد کو مکمل ویکسین لگائی جاچکی ہے، 7 کروڑ 99 لاکھ 3 ہزار سے زائد افراد کرونا کی پہلی ڈوز لگواچکے ہیں۔

کرونا وائرس کی نئی جنوبی افریقی قسم ’’اومیکرون‘‘ منظر عام پر آنے کے بعد کرکٹ کے کئی مقابلے بھی منسوخ کردیئے گئے، آئی سی سی نے زمبابوے میں جاری ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ منسوخ کردیا جبکہ جنوبی افریقا اور نیدرلینڈز کے درمیان 3 ون ڈے میچز کی سیریز بھی ختم کردی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube