Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ڈاؤیونیورسٹی میں خاتون کاکامیاب آپریشن، 3کلو وزنی رسولی نکال لی

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کی لیور ٹرانسپلانٹ سرجنز ٹیم نے ایک 29 سالہ خاتون کے جگر سے 3 کلو گرام سے زیادہ وزنی رسولی کامیابی کے ساتھ نکال لی جبکہ مریضہ کے اہلخانہ کے مطابق شہر کے سرکاری اسپتالوں نے جان کے خطرے کے بپیش نظر آپریشن سے انکار کردیا تھا۔

ڈاکٹر جہانزیب حیدر اور ڈاکٹر محمد اقبال کی قیادت میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کراچی کی ٹرانسپلانٹ سرجن ٹیم نے 29 سالہ خاتون کے پیٹ سے جگر کا ٹیومر نکالا۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مریضہ ثمینہ بی بی 3 کلو گرام سے زائد وزنی ٹیومر کو نکالے جانے کے بعد تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیومر نے مریضہ کے جگر کا 70 فیصد حصہ بھی متاثر کیا تھا اور دوسرے اعضاء میں پھیل چکا تھا۔

پروفیسر سعید قریشی کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل آپریشن تھا لیکن ڈی یو ایچ ایس کی ٹرانسپلانٹ سرجنوں نے نے خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا اور کامیاب سرجری کرلی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مریضہ کینسر کی وجہ سے اپنے جگر کا 70 فیصد حصہ کھو چکی ہیں لیکن ٹیومر نکالنے کے بعد اب وہ ٹھیک ہو رہی ہیں اور امید ہے کہ اس کے بعد وہ نارمل زندگی گزار سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک سرجری تھی لیکن ان کے اسپتال کے ماہر سرجنوں نے خاتون کی زندگی بچالی۔

پروفیسر سعید قریشی نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی ضرورت مند اور مستحق مریضوں کے لیے سندھ حکومت کے خرچ پر جگر کی پیوند کاری کا آغاز کردیا ہے جس کے لیے 20 لاکھ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ضرورت مند اور مستحق مریضوں کے لیے جگر کی پیوند کاری کی تقریباً 50 سرجریز کے لیے ساڑھے 14 کروڑ روپے بنتے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ٹرانسپلانٹ سرجن اور اس آپریشن کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر محمد اقبال اس سال اپریل میں ڈاؤ یونیورسٹی میں ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کے زیر نگرانی ہونے والے جگر کے آٹو ٹرانسپلانٹ کا حصہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 29 سالہ خاتون ایک چھوٹے بچے کی ماں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مریضہ انتہائی تکلیف میں تھیں کیوں کہ ٹیومر ان کے پورے پیٹ میں پھیل چکا تھا جبکہ اس کا 70 فیصد جگر ٹیومر سے متاثر ہو چکا تھا۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ جب یہ مریضہ ہمارے پاس آئیں تو ہمارے کچھ ساتھیوں نے مریضہ کو سرجری کے لیے داخل کرنے سے منع کیا کیوں کہ اس آپریشن کے نتیجے میں مریضہ کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا تھا لیکن جواں سال خاتون کی عمر دیکھتے ہوئے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے جگر کو مکمل طور پر نہیں نکالا بلکہ صرف رسولی نکالی ہے جو گوشت کے ایک بڑے لوتھڑے کی طرح تھی جس کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد جگر کو بھی کاٹنا پڑا کیوں کہ وہ ٹیومر سے متاثر ہوچکا تھا تاہم وہ جگر کے بقیہ حصے پر بھی زندہ رہ سکتی ہیں۔

مریضہ کے شوہر محمد صداقت نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کو شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی اور ضیاء الدین سمیت تمام بڑے اسپتالوں نے کینسر کی ایڈوانس اسٹیج کی وجہ سے علاج سے انکار کردیا گیا لیکن ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا اور رسولی نکال لی۔

انہوں نے بتایا کہ ان تمام استالوں کا کہنا تھا کہ سرجری ہی واحد حل ہے لیکن کوئی بھی ٹیومر کو ہٹانے کے لیے سرجری کرنے کو تیار نہیں تھا تاہم جب میں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے رابطہ کیا تو انہوں نے خطرہ مول لیا اور کامیاب آپریشن کردیا۔

صداقت نے بتایا کہ وہ مانسہرہ کے رہائشی ہیں اور ان کے پاس صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ صحت کارڈ تھا جس کی وجہ سے ان کے لیے ڈی یو ایچ ایس اوجھا اسپتال میں علاج کروانا آسان ہوگیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube