Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

برطرف جج شوکت عزیزصدیقی کا لائسنس بحال، وکالت کی اجازت

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا لائسنس بحال کردیا گیا، انہیں وکالت کی اجازت مل گئی۔

رپورٹ کے مطابق شوکت عزیز صدیقی جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج بنے تو ان کا وکالت کا لائسنس معطل ہوا تھا تاہم جب انہیں عہدے سے برطرف کیا گیا تو اس کے بعد سے لائسنس بحال نہیں ہوا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اکتوبر 2018ء میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی تھی، جس پر وزارت قانون نے برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف حساس ادارے سے متعلق راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں دیئے گئے متنازع بیان پر انکوائری کی اور انہیں ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

مزید جانیےچیف جسٹس کا جسٹس شوکت صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل

جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی تقریر میں ایک حساس ادارے پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ عدالتی معاملات میں دخل انداز اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

شوکت عزیز صدیقی نے 6 ستمبر کو سپریم کورٹ کی انرولمنٹ کمیٹی کو لائسنس بحالی کیلئے درخواست دی تھی، جس کے سربراہ جسٹس فائز عیسیٰ ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی زیر صدارت سپریم کورٹ کی انرولمنٹ کمیٹی نے شوکت عزیز صدیقی کا لائسنس بحال کرتے ہوئے انہیں وکالت کی پریکٹس جاری رکھنے کی اجازت دیدی۔

شوکت عزیز صدیقی نے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سپریم کورٹ میں متعدد درخواستوں میں مؤقف اپنایا تھا کہ برطرفی کی وجہ سے نہ انہیں پنشن مل رہی ہے اور نہ ہی وہ وکالت کر پارہے ہیں، جس کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان بار کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا کہ ان کا وکالت کا لائسنس بحال کردیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube