Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

چائلڈپورن شیئرکرنےوالےملزم ضمانت کے مستحق نہیں،سپریم کورٹ

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سپریم کورٹ نے بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز شیئر کرنے والے ایک ملزم کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ چائلڈ پورنوگرافی سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں۔

مقدمے کے ملزم عمر خان کی شکایت براہ راست فیس بک انتظامیہ کی جانب سےکی گئی تھی جس پر ایف آئی اے نے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ملزم کے خلاف سائبر کرائم سرکل ایبٹ آباد میں مقدمہ درج ہے۔

ملزم نے ضانت کی درخواست دائر کی تھی تاہم اسے سپریم کورٹ سے بھی ریلیف نہیں مل سکا۔ سپريم کورٹ نے درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کوکیس کا جلد فیصلہ کرنےکی ہدایت بھی کی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا مواد شیئر کرنا معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا جرم ہے۔ فیصلے میں چائلڈ پورنوگرافی کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی بڑی وجہ بھی قرار دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی غیر اخلاقی فلمیں معاشرے کے لیے تیزی سے پھیلتا ہوا ناسور ہیں جن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ عدالت نے غیراخلاقی مواد کو بچوں کے مستقبل اور اخلاقیات کیلئے خطرہ بھی قرار دیا۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے دلیل دی کہ اس مقدمے میں کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا جسے عدالت نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ مقدمہ بچوں کا غیراخلاقی مواد بنانے کا نہیں شیئر کرنے کا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube