Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

نسلہ ٹاور کےمکینوں کے پاس کچھ قانونی آپشنزموجود ہیں

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کراچی کے علاقے شارع فيصل پر نسلہ ٹاور گرانے کا کام جاری ہے۔ سپريم کورٹ  کے حکم کے باوجود بلڈرابوبکر کاٹيلا نےالاٹيز کو رقم ادا نہيں کی ہے تاہم الاٹيز کے پاس کچھ  قانونی آپشنز موجود ہيں۔

عدالتی حکم کے تحت کراچی کے مصروف علاقے شارع فیصل پر واقع نسلہ ٹاور کو گرانے کا کام جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے رواں برس اپریل میں نسلہ ٹاور کے بلڈر کو 3 ماہ میں الاٹیز کو رقم واپس کرنے کا پابند بنایا تھا مگراس وقت الاٹیز اپنا نقصان محدود کرنے کے بجائے بلڈرز کی باتوں میں آکر رقم کی واپسی سے گریز کرتے رہے۔بلڈرز نے بھی پورا فلیٹ بچانے کا لالچ دے کر رقم کی ادائیگی کے تقاضوں کو ٹالتا رہا۔

ممتاز ماہر قانون بیرسٹرخواجہ نوید نے کہا ہے کہ نسلہ ٹاور کے الاٹیز کو رقم کی واپسی کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ عمارت کے بلڈرز سے رقم کی واپسی کا دوسرا قانونی راستہ  اسی بینچ کے سامنے  متفرق درخواست دائر کرنا ہے جس میں وکیل کا خرچ بھی کوئی نہیں ہے۔

اس عمارت کے بلڈرابوبکرکاٹیلا نے کہا ہے کہ اس کے پاس الاٹیز کو دینے کے لیئے رقم نہیں ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الاٹیز کوعدم ادائیگی پرعدالت نسلہ ٹاور کی زمین فروخت  کرکے رقم ادا کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

غیرقانونی عمارتوں میں الاٹیز کوبسا کرانہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بلڈرز اور افسر شاہی کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ بیرسٹر خواجہ نوید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم  کی وجہ سے برسوں سے جاری اس پریکٹس پر کاری ضرب لگی ہے۔

غیرقانونی تعمیرات پر سپریم کورٹ اورسندھ ہائیکورٹ سے آنے والے فیصلوں نےبلڈرز کے ساتھ  کراچی کے شہریوں کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دی ہے کہ کسی عمارت میں الاٹیز کا رہائش اختیار کر لینا اس عمارت کو غیر قانونی ہونے کے بعد باوجود  بھی بچا سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube