Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

خاکروب معاشرے کے اچھوت نہیں

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اتوار کے روز صبح صبح معمول سے ہٹ کر جب دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو روز کی طرح گلی اور گھر کے باہر لگا کوڑا دان صاف نہ تھا، یہ دیکھ کر غصہ تو آیا مگر جلدی میں دفترکے لئے نکل گئی۔ دفتر پہنچی تو وہاں بھی یہ ہی صورتحال تھی اور اتوار کے روز صفائی نہیں کی گئی تھی۔ پھر میں نے خود ہی کپڑا اور سرفیس کلینر کی بوتل اٹھائی اور ڈیسک صاف کر ڈالی۔

دن کام میں گزر گیا اور گھر واپسی ہوئی۔ دوسرے روز دفتر کیلئے نکلی تو ہر چیز روز کی طرح ( علاوہ اتوار کے ) چمک دمک، صاف ستھری اور اپنی جگہ پر ملی۔ یہ دیکھ کر میری گزشتہ روز کی خفت اور غصہ ہوا ہوگیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کیا وہ صفائی کرنے والا عملہ انسان نہیں؟ کیا ہفتے میں ایک روز چھٹی کرنا اس کا حق نہیں ؟۔

ہم میں سے کتنے افراد ہیں جوان صفائی کرنے والوں کے ساتھ ملتے اور بیٹھتے ہیں؟۔ اپنے برتن ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں؟ انہیں عزت دیتے اورمان رکھتے ہوئے ان سے حال چال دریافت کرتے ہیں؟ جواب میں ایک دو سے زیادہ لوگ نہیں ہونگے۔

ہمارے ہاں زیادہ ترسینیٹری ورکرز کا تعلق دیگرمذاہب جیسے ہندو، مسیحی برادری سے ہے۔ یہ لوگ ہمارے گھروں اور دفاتر میں کام تو کرتے ہیں، مگر ان کے کھانے اور پانی کیلئے ہم برتن الگ استعمال کرتے ہیں۔

Why is sanitation work reserved for non-Muslim minorities in Pakistan? |  Encore | thenews.com.pk

کراچی میں اتوار 28 نومبر کے روز معاشرے کے اس طبقے سے اظہار یکجہتی کیلئے واک کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ” جسٹس فارجینیٹر” کے نام سے شروع ہونے والی اس مہم کے تحت واک سی ویو کراچی پر منعقد ہوگی، غربت اور غلاظت کے گڑھے سے آزادی کے عنوان سے یہ واک صبح 10 بجے شروع ہوگی، جس میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہونگے۔ اس واک کا اہتمام خاکروب کے حقوق اور ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق آگاہی پھیلانے والے ہم خیال افراد کی جانب سےکیاجارہا ہے۔

گروپ کے سرکردہ ممبر نعیم صادق سے جب سماء ڈیجیٹل نے رابطہ کیا اور اس مہم سے متعلق دریافت کیا تو نعیم صادق کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی سیاسی جماعت یا سوچ سے تعلق نہیں۔ ہم اس طبقے کے حقوق اور انہیں معاشرے میں ایک عزت دار مقام دلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہم نہ کوئی این جی او ہیں اورنہ کوئی ادارہ، ہم نے جس طبقے کو ان کے حقوق دلانے ہیں، ہم یہ مہم ان ہی کے نام سے چلا رہے ہیں۔

اپنی مہم سے متعلق انہوں نے ہمیں بتایا کہ حکومت خود ان کو تنخواہیں اصولوں کے مطابق نہیں دیتی ہے۔ سندھ حکومت کے طے شدہ قانون کے مطابق ماہانہ 25 ہزار روپے تنخواہ مقرر کی گئی تھی، تاہم ان سینیٹری ورکرز کو ماہانہ 15000 روپے ملتے ہیں۔ یہ عارضی ورکرز ہوتے ہیں، جنہیں بعد ازاں کام مکمل ہونے پر نکال دیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کیلئے آواز اٹھائیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ 10 لوگوں کا گروپ ہے، جس میں علاقے کی کوئی بندش نہیں، کسی بھی علاقے سے تعلق رکھنے والا شہری گروپ میں اس مقصد کیلئے شامل ہوسکتا ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ اس مہم کو صرف شہر کی حد تک نہ رکھا جائے بلکہ اسے ملکی سطح تک لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے کہ یہ لوگ جو اکثر نسل در نسل بھی اس کام سے وابستہ ہیں، انہیں ریٹائرمنٹ کےبعد پینشن دی جائے اور دوران کام حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مواقع پر ان کی کوششوں سے خاکروبوں کی تنخواہیں بھی بڑھائی گئی ہیں۔ جیسے ہم نے کنٹونمنٹ کو خط لکھا تھا کہ کراچی کے 6 آرمی کنٹونمنٹ بورڈز میں صفائی کے انتظامات دیکھنے والے سینیٹری ورکرز کی ماہانہ تنخواہ 15 ہزار روپے ہے، جو کہ ان کے کام اور اعلان کردہ قانون کے منافی ہے، جس پر سول ایوی ایشن اور کنٹونمنٹس میں کام کرنے والے خاکروب کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے ) اسلام آباد کے ماتحت کام کرنے والے سینیٹری ورکرز کی بھی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں 6 سال قبل سینیٹری ورکرز کی تعداد 1500 تک تھی، جب کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 1000 سے بھی کم سینیٹری ورکرز تھے جن میں سے محض 111 ورکرز مسلمان تھے۔

Sweeper Service, Cleaning Job Work, Manufacturing Area Cleaning, क्लीनिंग  सेवाएं, क्लीनिंग सर्विस, सफाई सेवाएं in Sec-D Bhagwati Vihar Uttam Nagar,  Delhi , Green Clean Facility Management Services Pvt.ltd. | ID ...

نعیم صادق کے مطابق ہم چاہتے ہیں کہ خاکروب چاہئے ملک کے کسی بھی حصے میں کام کرتا ہو، وہ مستقل ہو، عارضی یا کانٹریکٹ پر ان کی کم سے کم تنخواہ 25 ہزار روپے ہو۔ ان ورکرز کو ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی بھی ملے۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جب یہ لوگ کام کیلئے جاتے ہیں تو ان کو حفاظتی سامان بھی مہیا کیا جائے۔ ایک اور دلچسپ بات انہوں نے یہ بھی بتائی کہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ جو اخبارات میں ان کی ملازمت سے متعلق اشتہارات دیئے جاتے ہیں اس میں غیر مسلم ہونے کی شرط عائد کی جاتی ہے،اس کو بھی ختم کیا جائے۔

سب سے ضروری یہ ہے کہ انہیں گٹرمیں بھیجا ہی نہیں جائے، بلکہ حکومت اپنےغیرضروری خرچوں کو کم کرکے ایسے اقدامات کرے جس سے ہم ایسی مشینری استعمال کرسکیں جو یہ کام کرے اور یہ سینیٹری ورکرز اسے آپریٹ کریں۔

مالا کا تعلق لاہور سے ہے اور اس کی عمر 55 سال ہے۔ سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں مالا نے بتایا کہ وہ ایک نجی ادارے میں کام کرتی ہیں، یہاں اسے ملازمت کرتے ہوئے تقریباً 8 سال ہوگئے ہیں۔ کرونا کے لاک ڈاؤن کے دوران جب دفتر کے تقریباً 80 فیصد لوگ گھروں سے کام کر رہے تھے، تب بھی انہیں روزانہ دفتر آکر صفائی کرنے کے سخت احکامات تھے اور وہ روز دفتر آیا کرتی تھیں۔ اسی دوران ان کے ساتھ کام کرنے والے بعض سوئپرز کو ملازمت سے نکال بھی دیا گیا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ کم اسٹاف اور کم کام کے باعث زیادہ ورکرز کی ضرورت نہیں تھی۔

ایک غیرسرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر طرح کے سینیٹری ورکرز، سوئپرز، کلینرز، سیور مینز اور گھروں میں صفائی و ستھرائی کا کام کرنے والے ورکرز کی تعداد 15 لاکھ تک ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گھروں میں کام کرنے والے اور فارمل جاب کرنے والے ورکرز کی تعداد 12 لاکھ تک ہے۔ پاکستان بھر میں گٹروں اور سڑکوں کی صفائی سمیت انڈسٹریز اور دفاتر میں واش رومز کی صفائی پر مامور افراد میں سے 80 فیصد لوگ غیر مسلم ہیں اور ایسا کام کرنے والوں میں مسیحی اور ہندوؤں کی اکثریت ہے، تاہم کچھ جگہوں پر مسلمان سینیٹی ورکرز کو بھی کام کرتے دیکھا گیا ہے۔

مسلمان خاکروبوں کی جانب سے کام کرنے سے انکار کے حوالے سے ہی سپریم کورٹ نے 2018 میں کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کو حکم دیا تھا کہ تمام مسلمان سینیٹری ورکرز کو ملازمت سے فارغ کیا جائے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک جماعت پر بھی کچھ ایسا ہی الزام ہے کہ اس نے اپنے ورکرز اور لوگوں کو نوازنے کیلئے خاکروب تک کی آسامیوں پر اپنے لوگوں کو بھرتی کیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت نے کچھ عرصہ قبل ایک سرکلر بھی جاری کیا تھا کہ جس کے تحت اشتہارات میں خاکروب کیلئے غیر مسلم ہونے کی شرط ختم کی جائے گی۔

اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے نعیم صادق نے کہا کہ یہ تو صرف وفاق کا حکم تھا تاہم ہم چاہتے ہیں کہ صوبوں کی سطح پر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں۔ نعیم صادق سے جب ان کی تعداد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق کراچی کے 6 آرمی کنٹونمنٹ بورڈز میں صفائی کے انتظامات دیکھنے کیلئے تقریباً 5000 سینیٹری ورکرز کام کرتے ہیں۔ کراچی میں ہی تقریباً سرکاری 10 اسپتالوں میں سو سو کے قریب سینیٹری ورکرز ہوتے ہیں۔

Sindh Solid Waste Management Board – Government of Sindh

کراچی کے 6 ٹاؤنز میں ان سینیٹری ورکرز کی تعداد مختلف ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ضلع وسطی میں سب سے زیادہ سینیٹری ورکرز کام کرتے ہیں، جن کی تعداد 2 سے ڈھائی ہزار ہے،ضلع ایسٹ میں 1200 سے 1500، ضلع جنوبی  1800، غربی یعنی ویسٹ میں یہ تعداد 1000 سے 1200 کے لگ بھگ ہے۔ کیماڑی میں سات سے آٹھ سو اور ملیر میں بھی کم و بیش یہ ہی تعداد ہے۔

پاکستان بھر میں گٹروں اور سڑکوں کی صفائی سمیت انڈسٹریز اور دفاتر میں واش رومز کی صفائی پر مامور افراد میں سے 80 فیصد لوگ غیر مسلم ہیں اور ایسا کام کرنے والوں میں مسیحی اور ہندوؤں کی اکثریت ہے، تاہم  کئی علاقوں میں مسلمان بھی یہ کام کرتے ہیں۔

مذہب، نوکری

یہاں سنہ 2017 مارچ کے ایک واقعہ کا ذکر بھی ضروری ہے، جب خیبر پختونخوا کی حکومت کے ادارے لوکل کونسل بورڈ نے جنوبی ضلع بنوں کی تحصیل کی میونسپل انتظامیہ خاکروبوں کی بھرتی کے لیے ایک اشتہار دیا تھا۔ اس مذکورہ اشتہار میں ہندو اور مسیحی کے ساتھ شیعہ کے لفظ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ واقعہ منظر عامہ پر آنے اور سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد غلطی کرنے پر میونسپل افسر اور آفس سپرنٹنڈنٹ سمیت چار اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے معطل کر دیا گیا تھا۔ معطل ہونے والے افراد میں بنوں ٹی ایم اے کے دو کمپیوٹر آپریٹرز بھی شامل ہیں۔

مقامی طور پر سینیٹری ورکرز کی تنظیم چلانی والی عطیہ کا کہنا تھا کہ یہ سینیٹری ورکرز اپنے اس کام کی وجہ سے پیٹ اورجلد کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کےمطابق سنہ 2011 سے سنہ 2019 کے دوران گٹروں کو کھولنے کی کوشش کے دوران 16 سینیٹری ورکرز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

گندے نالوں میں بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے اتر کر زہریلی گیسوں سے لڑنے والے ان ہیروز کیلئےمقامی سطح پرسوئپرز آر سپر ہیروز کے نام سے سماجی رابطے کی سائٹ پر ایک صفحہ بھی موجود ہے، جوخاکروب کیلئےملکی سطح پر مہم چلانے والوں میں سے ایک ہے۔ ان کا مقصد ان  ہیروز کے ساتھ ہونے والے خوفناک رویوں اور کام کے دوران پیش آنے والے حالات کا خاکہ پیش کرنا اور ان بہادر کارکنوں کے وقار، حفاظت اور سماجی تحفظ کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا ہے۔

ہمارے اطراف اور گلی محلوں میں صفائی ستھرائی کا ماحول برقرار رکھنے کیلئے خاکروب کا کردار نہایت اہم ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ ہمارے معاشرے میں گندگی پھیلانے والے کو نہیں بلکہ لوگوں کی پھیلائی ہوئی اسی گندگی کو صاف کرنے والے سینیٹری ورکرز کو ہی اچھوت سمجھا جاتا ہے

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube