Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

بلوچستان: قتل،جھگڑے پرنہیں، جنگل،وائلڈلائف پرجرگہ طلب

SAMAA | - Posted: Nov 25, 2021 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: Nov 25, 2021 | Last Updated: 5 days ago

منفرد جرگے میں قبائلی عمائدین، علماء، تمام پارٹیوں کی شرکت

بلوچستان ميں تاريخ ميں منفرد جرگہ  منبعقد ہوا جس میں قتل، لڑائی جھگڑے اور زمين کے تنازع کے بجائے جنگلات اور جنگلی حيات کے تحفظ کے لیے معاملات طے کیے گئے۔

بلوچستان کے نوجوانوں نے سنگيني کا احساس کرتے ہوئے قبائل ميں نئی روح پھونکتے ہوئے ژوب اور شيرانی ميں جنگلات اور جنگلی حيات کے تحفظ کے لیے جرگہ طلب کرلیا جس میں قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور تحريک انصاف سميت تمام جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جرگے میں مشترکہ طور پر 20 نکاتی قرار منظور کی گئی۔ تمام درختوں کی کٹائی اور ہر قسم کے جانوروں کے شکار پر پابندی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کيا گیا۔

تحريک کے روح رواں سالمين اخپلواک نے سماء کے پروگرام نیا دن میں بتایا کہ 10 ارب درخت لگانے کا فيصلہ کيا گیا ہے کیوں کہ گلوبل وارمنگ، اسموگ و دیگر مسائل کے باعث ملک پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بلين سونامی ٹری کا منصوبہ ناکام بنانا چاہتے ہيں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نيشنل ہائی وے پر 10 کلوميٹر تک سڑک کے دونوں جانب 10 سال پہلے جنگلات موجود تھے جو اب نہیں رہے۔

سالمين اخپلواک نے کہا کہ صرف گزشتہ 5 برسوں میں 12 لاکھ چلغوزے  اور 4 لاکھ زيتون کے درخت کاٹ دیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شیرانی سے قلعہ سيف اللہ تک اتنا گھنا جنگل تھا کہ دن کے روشنی ميں چل پھر نہيں سکتے تھے لیکن بدقسمتی سے آج کچھ بھی نہيں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرگے نے پورا سال درخت، بيج اور پودے لگانے کا فيصلہ کيا ہے لیکن شجر کاری مہم کو ناکام بنانے والے رکاوٹ بن رہے ہيں۔انہوں نے مزید کہا کہ جو مافياز اس ميں ملوث ہيں وہ ان کی مخالفت کرتے ہيں اور انہیں کام کرنے سے روکنے کے لیے انہوں نے ساری حديں پار کرلی ہیں۔

سالمین اخپلواک کا کہنا تھا کہ کم از کم 4 ارب درخت لگانے چاہئیں لیکن نرسری اور جنگلات والے انہیں درخت دينے کو تيار تک نہيں ہيں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے سال انہیں صرف 14 ہزار درخت ملے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ايک جانب حکومت کا 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ ہے جبکہ دوسری جانب درختوں کی بے دريغ کٹائی بدستور جاری ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلین ٹری منصوبے کو ناکام بنانے کی سازش میں مصروف تمام عناصر کی حرکتوں کا نوٹس لے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube