Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

آپ کی چوری یاچھینی گئی125موٹرسائیکل کہاں سے مل سکتی ہے؟

SAMAA | - Posted: Nov 25, 2021 | Last Updated: 6 days ago
SAMAA |
Posted: Nov 25, 2021 | Last Updated: 6 days ago

رواں سال کراچی میں موٹر سائیکل کی چوری اور چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ سٹیزن لائژن پولیس کمیٹی (سی پی ایل سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہر میں موٹرسائیکل کی چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں گزشتہ سال کےمقابلےمیں 85 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں 36 فیصد بڑھ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی 10 ماہ میں کراچی سے 2023 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 28827 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں اور اسی طرح رواں سال اکتوبر تک 3759 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 39383 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔

سی پی ایل سی کے اعداد وشمار کی تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 2023 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 28827 چوری ہوئیں۔ سال 2020ء جنوری میں 181، فروری 202، مارچ 142، اپریل 89، مئی 177، جون 235، جولائی 226، اگست 230، ستمبر 269 اور اکتوبر میں 272 موٹرسائیکلیں چھینی گئی۔

اسی طرح گزشتہ سال جنوری میں 2608، فروری میں 2430، مارچ میں 2376، اپریل میں 2039، مئی میں 2906، جون میں 2744، جولائی میں 2904، اگست میں 3203، ستمبر میں 3948 اور اکتوبر میں 3669 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 3759 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں اور 39 ہزار 383 چوری ہوئیں۔ سال 2021ء جنوری میں 276، فروری 353، مارچ 426، اپریل 379، مئی 302، جون 443، جولائی 328، اگست 396، ستمبر 447 اور اکتوبر میں 409 موٹر سائیکلیں چھینی گئی۔

اسی طرح گزشتہ سال جنوری میں 3649، فروری میں 3369، مارچ میں 3898، اپریل میں 4129، مئی میں 3995، جون میں 4248، جولائی میں 3752، اگست میں 4238، ستمبر میں 4009 اور اکتوبر میں 4096 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔

سی پی ایل سی کے اعداد و شمار صرف چھینی اور چوری کی گئی موٹر سائیکلوں کی تعداد بتارہے ہیں لیکن ان اعداد و شمار میں چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلوں کے مینوفیکچررز اور اسپیڈ کی تفصیلات موجود نہیں لیکن یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ زیادہ تر ملزمان 125 موٹرسائیکل کا ہی انتخاب کرتے ہیں، جس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو 125 موٹر سائیکل کی ساخت اور اسپیڈ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ 125 موٹر سائیکل کے دام بھی اچھے ملتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ 125 موٹر سائیکل مارکیٹ میں موجود موٹر سائیکلوں میں سب سے مہنگی گاڑی ہے بلکہ 125 موٹر سائیکل کی پبلک ڈیمانڈ ہمیشہ سے ہی زیادہ ہے۔

کراچی سے چوری اور چھینی گئی 125 موٹرسائیکل آخر کہاں جاتی ہیں؟

موٹرسائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ کراچی پولیس بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجوہات تلاش کرنے کیلئے تحقیقات کررہی ہے اور اسی ضمن میں ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے ایک خفیہ آپریشن کیا جس میں 125 موٹرسائیکل کی چھینا جھپٹی اور چوری سے لیکر اس کی فروخت تک کہ تمام مراحل کو فلمبند کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل غلام مرتضیٰ تبسم نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہ کارنامہ شاہراہ نورجہاں پولیس نے سرانجام دیا ہے۔ تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس کو مخبر خاص نے بتایا کہ ملزمان کا بین الصوبائی گروہ شہر سے چھینی اور چوری کی گئی موٹرسائیکلوں کو کراچی سے باہر لے جانے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کررہا ہے اور اس غیر قانونی کاروبار میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے جڑے ہوئے تاجر بھی ملوث ہیں۔

ایس ایس پی سینٹرل نے بتایا کہ پولیس نے اس بین الصوبائی گروہ کے سرغنہ سمیت 4 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے، جن کے قبضے سے موٹرسائیکل کے لاک کاٹنے کے آلات اور ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ملزمان میں سرغنہ زاہد، ثاقب قریشی، عمیر حاجی اور رزاق شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان چوری کی گئی 125 موٹرسائیکل کو پہلے کسی بھی اسپتال کی پارکنگ میں کھڑا کردیتے تھے تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہوجائے اور کچھ وقت گزرنے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے روٹ کے مقام پر لے جاتے اور پھر موٹرسائیکل کو گاڑی کی چھت پر رکھ کر بلوچستان پہنچادیتے تھے۔

   ایس ایس پی کے مطابق چوری شدہ 125 موٹرسائیکلوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے ڈیرہ غازی خان پہنچایا جاتا تھا۔ اس غیرقانونی کاروبار میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ملی بھگت کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاڑی کا عملہ چوری شدہ موٹر سائیکل کی منتقلی کیلئے 8 ہزار روپے فی گاڑی وصول کرتا ہے، جس کے عوض ٹرانسپورٹ انتظامیہ چوری شدہ موٹرسائیکل کا این او سی جاری کردیتی ہے۔ این او سی حاصل کرنے کا مقصد راستے میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ متعلقہ موٹرسائیکل مالک نے منتقلی کیلئے گاڑی کی چھت پر رکھی ہے۔

ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ کراچی اور سندھ سے چوری کی گئی 125 موٹرسائیکلیں براستہ کشمور بلوچستان کے علاقے رکھنی بھی منتقل کی جاتی ہیں، جہاں سندھ اور پنجاب سے چوری اور چھینی گئی موٹرسائیکلوں کا باقاعدہ بازار لگتا ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ویدھو اور یارو چوری شدہ 125 موٹرسائیکلوں کے بڑے بیوپاری ہیں اور یہ دونوں افراد بلوچستان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک 125 موٹرسائیکل کے عوض 40 ہزار روپے ادا کئے جاتے ہیں، رقم بینک اکاؤنٹ نہیں بلکہ ایزی پیسہ کردی جاتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube