Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

مریم نوازنےسماٹی وی،اےآروائی کےاشتہارات بند کرنیکااعتراف کرلیا

SAMAA | - Posted: Nov 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں صحافی کی جانب سے جب مریم نواز کی پرانی آڈیو سے متعلق سوال کیا تو اس پر مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہوں گی کہ میری آڈیو کو توڑ جوڑ کر پیش کیا گیا، میں اعتراف کرتی ہوں کہ وہ میری ہی آڈیو ہے اور وہ میں نے ہی کہا تھا۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ میں ن لیگی دور میں ان کا سوشل میڈیا چلا رہی تھی اور میں نے ہی سما ٹی وی اور اے آر وائی کے اشتہارات بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

مریم نواز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کس حیثیت میں ایک ٹی وی چینل کے اشتہارات بند کرنے کا حکم دیا تھا، وہ اپنے آپ کو قوم کی بیٹی تو کہتی ہیں مگر کیا قوم کی بیٹی ایسے ہی فیصلے کرتی ہے ؟۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری ہونی چاہیئے یہ کس حیثیت میں ہدایات دے رہی تھیں۔

واضح رہے کہ ن ليگ کے دور حکومت ميں مريم نواز کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہيں تھا۔ پرويز رشيد اور مريم اورنگزيب اس وقت وزير اطلاعات رہے۔ تو پھر مريم نواز نے کس حيثيت ميں اشتہار بند کرنے کا حکم جاری کيا؟

صرف سما اور اے آر وائی ہی نہیں مریم نواز شریف نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے چینل 24 اور 92 کے اشتہارات بھی بند کرانے کا کہا تھا۔  یہ وہ ہی دور تھا جب سابق دور کے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو ڈان لیکس پر اپنے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے تھے اور ان کی جگہ مریم اورنگزیب کو وزارت اطلاعات کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔

اس وقت کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ڈان نیوز میں شائع ہونے والی خبر قومی مفاد کے منافی تھی، جب کہ موجودہ شواہد کے مطابق وزیر اطلاعات نے کوتاہی برتی۔ اعلامیے کے مطابق آزادانہ تحقیقات کے سلسلے میں وزیر اطلاعات کو اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube