Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ سےرجوع

SAMAA | - Posted: Nov 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Nov 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago

Supreme Court

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

سراج الحق نے پانامہ لیکس پیٹیشن میں ہی متفرق درخواست دائر کی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ پانامہ کے ساتھ پنڈورا لیکس میں شامل افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ پنڈورا پیپرز آئے 50 روز سے زیادہ گزر گئے لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں لی کیونکہ حکومت اور اپوزیشن نے پنڈورا پیپرز کو سنجیدہ نہیں لیا۔

سراج الحق نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے تھا پنڈورا پیپرز پر سپریم کورٹ آتی لیکن حکومت نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم نے پانامہ پیپرز کے خلاف بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن عمران خان نے پانامہ پیپرز پر تمام لوگوں کو چھوڑ کر نواز شریف کو ہدف بنایا جبکہ سپریم کورٹ نے سب کو چھوڑ کر صرف نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا۔

سراج الحق نے کہا کہ آفشور کمپنیاں اندھے کنویں میں ہیں جبکہ احتساب کے ادارے متنازعہ اور جانبدار ہو چکے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اور نیب ان کی جیب میں آ جائیں۔ پی ٹی آئی نے نیب قوانین میں ترمیم کر کے خود کو این آر او دے دیا ہے۔

پانامہ پیپرز میں سمن کی درخواست دائر کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ بار ہا درخواستیں دی ہیں اور ہمارا گلہ یہی ہے کہ سماعت نہیں ہوئی، اب بھی اس لیے آئے ہیں کہ ہماری درخواست پر کارروائی کی جائے۔ یہ سب ایک دوسرے کو چور کہتے ہیں اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ سب سچ کہتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مالم جبہ اور بی آر ٹی سمیت ہر اسکینڈل پر کارروائی چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ 3اکتوبر کو انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ نے پانامہ لیکس کی طرز پر پنڈورا پیپرز جاری کیے تھے، جس میں 700 سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی تھیں۔

وزیراعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کے لیے وزیر قانون کو سیل اور اس کے لیے ٹی او آرز بنانے کا بھی حکم دیا تھا۔

حکومت میں شامل کچھ شخصیات کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں موجود ہیں، جن میں وفاقی وزیر مونس الٰہی، فیصل واؤڈا، علیم خان، شوکت ترین اور خسرو بختیار کے بھائی بھی شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube