Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

ٹی ایل پی کانام کالعدم جماعت کی فہرست سےنکال دیاگیا

SAMAA | - Posted: Nov 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago

وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کا نام کالعدم جماعت کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کے لیے کالعدم کا اسٹیٹس ختم کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے۔ وزیرداخلہ شیخ رشید نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تصدیق کردی ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سمری وفاقی وزارت داخلہ کو موصول ہوئی تھی۔پنجاب حکومت کی سفارشات کی سرکولیشن سمری کےذریعے منظوری دی گئی۔ سرکولیشن سمری کی منظوری کیلئے مطلوبہ وزراء کی تعداد پوری کرلی گئی۔ 

واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری سمری کے متن کے مطابق ٹی ایل پی نے حکومت پنجاب سے 29 اپریل کو پابندی ہٹانے کے لیے درخواست دے دی تھی۔ سمری میں بتایا گیا کہ اس معاملے پر غور کرنے کیلئے ایک جائزہ کمیٹی (پی آر سی) تشکیل دی گئی تھی اور اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا حکومتی فیصلہ حقائق کی بنیاد پر تھا۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ تنظیم کی جانب سے یقین دہانی کے ساتھ وسیع تر قومی مفاد کی روشنی میں صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے۔ سمری میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے مذکورہ سمری رولز آف بزنس 1973 کے رول 17 ون بی کے تحت کابینہ میں پیش کرنے کی اجازت دی ہے۔

ٹی ایل پی سے پابندی کے خاتمے سے متعلق کہا گیا کہ حکومت پنجاب کی تجویز پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ٹی ایل پی سے پابندی ہٹانے کی منظوری دینے کے لیے کابینہ سے درخواست کی گئی۔

ٹی ایل پی کے مجلس شوریٰ کے اراکین رہا

سمری سے متعلق اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین علامہ غلام غوث بغدادی، علامہ فاروق الحسن اور انجینیر حفیظ اللہ علوی کی انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت منظور ہوگئی۔

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ کارکنان اور رہنماؤں کو صاحبزادہ سعد حسین رضوی کی رہائی کا انتظار ہے۔ تنظیم کے 450 کارکنان کے نام بھی فورتھ شیڈول سے نکال دیئے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سربراہ ٹی ایل پی کی رہائی سے اعتماد مزید بڑھے گا اور معاہدہ پورا ہوگا۔ شرکاء ناموسِ رسالت مارچ اپنے قائدین کے استقبال کے لئے بے تاب ہیں۔

ٹی ایل پی کا احتجاج

ٹی ایل پی سے پابندی ہٹانے کا معاملہ حالیہ احتجاج کے دوران سامنے آیا تھا اور اس پر نظر ثانی کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی تھی۔ ٹی ایل پی نے 20 اکتوبر کو لاہور میں حکومت پنجاب پر اپنے سربراہ مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کیلئے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔

سعد رضوی کو 12 اپریل سے پنجاب حکومت نے امن عامہ کو برقرار رکھنے کیلئے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ تاہم ٹی ایل پی رہنما نے بعد میں کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام تھا جب کہ انہوں نے سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

لاہور میں احتجاج اور دھرنے کے دوران تنظیم کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ 3 روز تک جاری رہیں۔ جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے 22 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ لاہور اور گوجرانوالہ میں مارچ کے دوران تصادم کے دوران 5 پولیس اہلکار شہید اور مارچ کے شرکا اور پولیس دونوں جانب سے بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے۔

بعد ازاں حکومت اور ٹی ایل پی میں معاملات آگے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو تنظیم کی قیادت کے اعلان کے بعد 30 اکتوبر کو مظاہرین نے وزیر آباد میں قیام کا اعلان کیا، جو اب 10 ویں روز تک وہاں موجود ہیں۔

ٹی ایل پی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کی کامیاب بات چیت میں یہ بھی طے ہوا کہ وہ تنظیم کے اکاؤنٹس اور اثاثوں کو غیر منجمد کرے گی اور تنظیم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

فورتھ شیڈول کیا ہے؟

فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی اور فرقہ واریت کے جرم میں مشتبہ افراد کو رکھا جاتا ہے

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube