Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

گواہ نہ بھی ہوسزاکیلئےریپ کےمتاثرہ شخص کابیان کافی ہوتاہے،عدالت

SAMAA | - Posted: Nov 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سپریم کورٹ نے ریپ کے متاثرہ افراد کے حق میں ایک اہم حکم صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کو ثابت کرنے کے لیے گواہان کی موجودگی ضروری نہیں بلکہ عدالت کے لیے صرف متاثرہ فریق کا تنہائی میں ریکارڈ کرایا گیا بیان ہی کافی ہوتا ہے کیوں کہ یہ جرم تہنائی میں ہوتا ہے جس کے گواہان کا ملنا زیادہ تر ممکن نہیں ہوتا۔

نوشکی میں 7 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم کی 7 سال سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے تحریری فیصلے میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ریپ کیسز میں گواہ بہت مشکل سے ملتا ہے لہٰذا ایسے میں عدالت متاثرہ شخص کے بیان پر انحصار کرتی ہے اور اس کی روشنی میں ملزم کو سزا دینا کافی سمجھتی ہے۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ریپ کا شکار شخص ایک عام زخمی گواہ کے مقابلے زیادہ اہمیت کاحامل ہوتا ہے کیوں کہ ایک زخمی کو جسمانی طور پر گھاؤ لگتے ہیں جبکہ ریپ کا شکار نفسیاتی و جذباتی لحاظ سے بھی گھائل ہوتا ہے۔

نوشکی کیس میں مجرم زاہد کو ٹرائل کورٹ نے 7 سال سزا اور 5 لاکھ جرمانہ کیا تھا جسے بلوچستان ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ ان فیصلوں کے خلاف مجرم کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مذکورہ فیصلوں کی توثیق کردی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مجرم کا اپنی والدہ اور بچی کی ماں کے درمیان جھگڑے کو مقدمے کی بنیاد قرار دینے کا دفاع ناقابل قبول قرار دیا اور فیصلے میں یہ بھی کہا کہ کوئی بھی اپنی کم سن بیٹی کو جنسی ذیادتی جیسے سنگین مقدمے میں بدنام نہیں کرنا چاہتا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube