Monday, November 29, 2021  | 23 Rabiulakhir, 1443

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مارچ 2022 تک بڑھتی رہیں گی،اوگرا

SAMAA | - Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago

اوگرا نے ملک میں مہنگائی کے جاری طوفان میں مزید شدت کی پیشگوئی کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کو بتایا ہے کہ اگلے 5 ماہ تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور اوپر جائیں گی۔

چیئرمین اوگرا نے بریفنگ میں بتایا  کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مارچ 2022 تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی ڈیزل بندرگاہ پر109 روپے فی لٹر پڑتا ہے اور دیگر اخراجات اور ٹیکسز ادئیگی کے 25 روپے اس کے علاوہ ہیں۔

کمیٹی نے بریفنگ مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ملک میں 22 دن تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے تو قیمتیں ہر 15 دن بعد کیوں بڑھائی جاتی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے اوگرا کو مافیاز کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ  کے لیے اپنا استحقاق ضرور استعمال کریں گے۔ انہوں نے اوگرا ڈیزل، پٹرول پر فی لیٹر اخراجات اور کمپنیز مارجن کی تفصیلات بھی مانگ لیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

واضح رہے 16 اکتو بر کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول 10.49 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 12.44 روپے فی لیٹر مہنگا کیا۔

اوگرا نے 14 اکتوبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری حکومت کو ارسال کی تھی، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کی سفارش کی تھی۔

نئی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کو کرنا تھا، رد و بدل کی صورت میں نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اکتوبر سے ہونا تھا۔ وزارت خزانہ نے وزیراعظم کی مشاورت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 10.49 روپے اضافے سے 137.79 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ بھی 12.44 روپے فی لیٹر بڑھ گئے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 134.48 روپے ہوگئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق مٹی کا تیل 10.95 روپے اضافے کے بعد 110.26 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل 8.84 روپے اضافے سے 108.35 روپے کا ہوگیا تھا۔

پیٹرولیم ڈویژن: پیٹرول پر سبسڈی دینے کی تجویز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے کچھ روز بعد پیٹرولیم ڈویژن حکام نے 10 سے 20 روپے فی لیٹر پیٹرول پر سبسڈی بینک اکاؤنٹ یا فیول کارڈ سے دینے کی تجویز دی ہے۔

پیٹرولیم ڈویزن کے مطابق سستا پیٹرول ماہانہ 35ہزار روپے سے کم آمدنی والوں کے لیے ہونا چاہیے جس کے لیے آمدنی، رہائش اور خاندان کا ڈیٹا نادرا سے لیا جائے۔

پیٹرولیم ڈویژن حکام نے تجویز دی ہے کہ 35 سال سے زائد عمر والے افراد سبسڈی کے اہل ہونے چاہیں نہ ہی کمرشل بائیکس شامل ہوں، ملک میں پونے دو کروڑ موٹر سائیکلز ہیں جن کے ليے فیول سبسڈی 20 سے 40 ارب روپے ہوگی۔

سبسڈی دینے کی سفارشات کی منظوری وزیراعظم عمران خان سے لی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube