Monday, November 29, 2021  | 23 Rabiulakhir, 1443

چلغوزہ کہاں کیسے اگتا ہے،کیااس سال قیمت مزید کم ہوگی؟

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago

موسم سرما میں جہاں ہمیں موسم کی سختی سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے وہیں قدرتی طور پر موسم کی شدت سے بچنے کے لیے ایسے پھل بھی ملتے ہیں جن سے ہمیں حرارت اور توانائی میسر آتی ہے۔

یوں تو ہرسال جب ملک میں سردی کا موسم آتا ہے تو خشک میوہ جات کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں لیکن پچھلے سالوں سے چلغوزے کی قیمتوں کا ذکر بطور خاص ہوتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں تو پاکستان میں چلغوزے کی قیمت میں بے پناہ تیزی دیکھنے کو ملی اور خصوصا سوشل میڈیا میں تو اس پر دلچسپ مییمز اور لطائف بھی بنائے گئے۔

چلغوزہ صنوبر کے درخت میں اگنے والے کون میں پایا جاتا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق صنوبر درختوں کی اقسام میں سب سے کم بڑھنے والا درخت ہے۔

چلغوزے کے درخت شمالی پاکستان، افغانستان اور بھارت کے بلند و بالا اور سرد ترین علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں گلگت بلتستان خصوصا ضلع دیامر، خیبرپختونخوا میں چترال اور شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں ژوب میں چلغوزے کے درخت پائے جاتے ہیں۔

چلغوزے کی قیمتیں ایک سال کم اور ایک سال زیادہ رہتی ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ درخت اپنا کون یعنی پھل تو ہر سال ہی پکڑتا ہے لیکن اس کون کو پکنے میں 2 سال کا عرصہ لگتا ہے۔ اس طرح اس میں ایک سال کون زیادہ لگتے ہیں جبکہ اگلے سال درخت کی باقی ماندہ جگہ پر لگنے والے کون یا ان پھلوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر سن 2020 میں دو برس قبل لگائے گئے کون پک گئے اور درخت سے اتار لیے گئے اور وہ درخت کے 75 فیصد حصے پر لگے تھے جبکہ باقی 25 فیصد جگہ پر پھل ایک سال پہلے لگے تھے جنہیں اپنا دو سال کا عرصہ مکمل کرنے میں ابھی ایک سال اور لگے گا اس طرح وہ سن 2021 میں تیار ہوئے۔ اب چوں کہ سن 2021 میں پکنے والے پھل صرف 25 فیصد ہی تھے اس لیے اس سال فصل گزشتہ سال کی نسبت کم ہوئی۔

ایک سال اگر چلغوزے کی پیداوار زیادہ ہے تو اگلے سال اس سے تین گنا کم پھل ملتا ہے اور جس سال پیداوار زیادہ ہوتی ہے اس سال قیمتوں میں استحکام ہوتا ہے مگر اس کے اگلے سال قیمتوں میں پھر اضافہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سن 2019 کے مقابلے میں 2020 میں چلغوزے کی قیمیتیں کافی کم تھیں۔

چند سال قبل اس پھل سے وابستہ تاجروں کی تعداد کم ہوتی تھی کیوں کہ ان کی مطلوبہ جنگلوں تک رسائی بہت کم  تھی مگر جب سے یہ ایک منافع بخش کاروبار بنا تب سے مقامی لوگ بھی اس کاروبار سے منسلک ہوگئے جن کی وساطت سے دور دراز علاقوں میں مقامی لوگوں نے چلغوزے کی جنگلات کی کھوج  لگانی شروع کی جس کے باعث مارکیٹ تک پہنچنے والی مجموعی پیداور میں اضافہ ہوگیا۔

ملک کی بڑی چلغوزہ منڈیاں

پاکستان میں چلغوزے کی تین بڑی منڈیاں ہیں جو بنوں، چلاس اور لاہور میں واقع ہیں۔ تاہم چین کی سرحد کے نسبتاً قریب ہونے کی وجہ سے چلاس کا مال زیادہ تر چین جاتا ہے۔ چلغوزے کی ایک بھاری مقدار افغانستان سے بھی پاکستان کی منڈیوں اور خصوصاً بنوں پہنچتی ہے جس کی وجہ سے لاہور اور چلاس کے مقابلے میں بنوں کی منڈی چلغوزے کی سب سے بڑی منڈی کہلاتی ہے۔

یورپ میں اس وقت چلغوزہ کی ایکسپورٹ کے لیے خاصے مواقع ہیں اور خصوصا اسپین،جرمنی، اٹلی اور فرانس چلغوزہ کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

پچھلے 5 سالوں میں یورپ میں چلغوزے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور کرونا سے قبل یورپ 25 کروڑ ڈالر مالیت کا چلغوزہ منگوا رہا تھا۔

پاکستان میں چلغوزے کی مانگ میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ چین بھجوایا جا رہا تھا لیکن کرونا وبا کے آنے کے بعد چوں کہ عالمی سطح پر پابندیاں لگیں تو وہ سلسلہ تعطل کا شکار ہوا اور اس سال بھی جزوی پابندیوں کےباعث ممکن ہے کہ چلغوزے کی ایکسپورٹ میں کمی کے باعث پاکستان میں اس کی قمیتیں کم ہی رہیں۔

پاکستان میں کرونا سے قبل چلغوزے کی کل پیداور سالانہ 30 ہزار میٹرک ٹن تھی مگر عالمی وبا آنے کے بعد مانگ میں کمی کے باعث پیداور میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔

ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ جب قیمیتں زیادہ ہوتی ہیں تو لوگ دور دارز اور مشکل ترین پہاڑوں تک چلغوزہ لینے کے لیے چلے جاتے ہیں جس کے باعث پیداور میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ماہرین کی تحقیق

تقریباً ایک دہائی پہلے تک چلغوزہ اتنا مہنگا نہیں تھا اور یہ بازار میں ایک ہزار روپے کلو تک بھی مل جایا کرتا تھا لیکن پچھلے چند سالوں میں اس خشک میوے کی مانگ یورپ اور امریکہ میں بڑھنی شروع ہوئی جس کی وجہ اس میوے سے  متعلق دلچسپ تحقیقات تھی۔

ماہرین کے مطابق چلغوزے کا شمار ہائی کیلوریز والی غذاؤں میں ہوتا ہے اور اس میں صحت کے لیے مفید پائیتھو کیمیکلز، وٹامنز، منرلزاور اینٹی آکسیڈینٹس پائے جاتے ہیں جو ہماری صحت پر بیشمار اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

چلغوزے میں خاص طور پر اولیک ایسڈ پایا جاتا ہے جو جسم میں موجود برے کولیسٹرال کو کم کرتا ہے اور ایچ ڈی ایل یعنی اچھے کولیسٹرال کا اضافہ کرتا ہے اور اگر اس میوے کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیا جائے تو اس میں موجود وٹامنز اور منرلز دل کی بیماریوں کے پیدا ہونے کے خدشات کو کم کردیتے ہیں۔

چلغوزے میں شامل منرلز ہمارے جسم کو پرسکون کرتے اور نیند اور یاداشت کو بہتر بناتے ہیں۔ آئرن سے بھرپور ہونے کی وجہ سے چلغوزہ خون کی کمی والے افراد کے لیے بھی ایک بہترین غذا ہے۔

دیگر خشک میوہ جات کی طرح چلغوزے میں بھی وٹامن ای کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو ایک طاقتور لیپڈ سلوبل اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو قوت مدافعت کو توانا کرتا ہے۔

اس سال چلغوزے کی قیمت اور پیداور کیسی رہے گی؟

اگرچہ کرونا پابندیوں میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن چین سمیت یورپی ممالک کو پاکستانی ایکپسورٹ پر سخت چیک رکھا جارہا ہے اور پاک چین سرحد کی اکثر بندش کے باعث بھی اس سال بھی چلغوزے کی ایکسپورٹ بڑھنے کے بجائے کم ہی رہے گا لہذا یہ توقع کی جارہی ہے کہ ملکی سطح پر اس کی قیمتیں کم رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان میں چلغوزہ کی پراسیسنگ اور خرید و فروخت کے لیے لگائی گئی منڈیاں عموما ستمبر سے دسمبر اور اچھےسیزن کی صورت میں جنوری تک جاری رہتی ہیں۔

موجودہ سیزن میں چلاس میں چلغوزے کے کاروبار کا آغاز ہوچکا ہے۔ منڈی کے تاجر قیوم خان کا کہنا ہے کہ ابھی کاروبار شروع ہوا ہے مگر اس سال علاقے میں چلغوزے کی پیداور کم ہونے کی توقع ہے کیوں کہ پچھلے سال پیداوار زیادہ ہوئی تھی۔

قیوم خان کا کہنا ہے کہ  ابھی تو کاروبار کا آغاز ہی ہے اور مقامی افراد اسے جمع کرنے میں مصروف ہیں لیکن اگر چین بارڈر کھل گیا تو قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے بصورت دیگر قمیتیں کم  ہی رہیں گی۔

انہوں نےکہا موجودہ صورتحال کے حساب سے عام صارف کے لیے چلغوزے کی فی کلو قیمت 2500 سے 2800 روپے رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی چلغوزہ منڈی بنوں میں اس کاروبار سے وابستہ حاجی مکمل خان کا کہنا ہے کہ چلغوزہ شمالی وزیرستان اور افغانستان سے بنوں لایا جاتا ہے۔ اگرچہ شمالی وزیرستان میں لوگوں کو فصل اتارنے کی اجازت مل چکی ہے مگر افغانستان کے صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہاں سے مال آنے سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا اور یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ افغانستان چین سے چلغوزہ براہ راست ایکسپورٹ کرنے کے لیے بھی بات چیت کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کرونا سے پہلے جیسے برآمدات کی اجازت مل گئی تو ملک میں قیمتیں سن 2020 کی صورتحال تک پہنچ سکتی ہے لیکن دوسری صورت میں اس سال قیمت 3 ہزار فی کلو سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سال افغانستان میں چلغوزے کی پیداور بہت اچھی ہوئی ہے تاہم پاک افغان بارڈر کی بندش کے باعث تاجر مشکلات کا شکار ہیں۔

افغانستان میں چلغوزہ کے پیداور کے لیے مشہور صوبے ننگرہار کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال چلعوزے کے پیداور 20 فیصد اضافہ کے ساتھ ساڑھے 800 ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube