Monday, November 29, 2021  | 23 Rabiulakhir, 1443

سعد رضوی اسلام آباد منتقل،خفیہ مقام پر حکومت سےمذاکرات جاری

SAMAA | , , and - Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ملک بھر میں احتجاج کی دھمکی

حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو مذاکرات کیلئے کوٹ لکھپت جیل سے اسلام آباد کے خفیہ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مطابق حکومت اور ٹی ایل پی قیادت میں اسلام آباد کے خفیہ مقام پر مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات کامیاب بنانے کیلئے تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔

حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات کے مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل میں صاحبزادہ حافظ محمد سعد رضوی، مفتی محمد عمیر الازہری اور علامہ غلام عباس فیضی شریک ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان یہ مذاکرات کا چوتھا دور ہے۔

قبل ازیں جمعرات 28 اکتوبر کو ٹی ایل پی کا مارچ کامونکی سے نکل کر چندا قلعہ پہنچا۔ چندا قلعہ آمد سے قبل حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رات گئے نامعلوم مقام پر ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی سے ملاقات اور مذاکرات کے بعد سعد رضوی کی جلد رہائی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے درمیان 2 بار مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایک بار مذاکرات کا یہ تیسرا سلسلہ تھا۔ رات گئے 3 بجے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی جيل سے باہر اہم شخصيت سے ملاقات ہوئی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سعد رضوی کی جلد رہائی کے بعد صورت حال کنٹرول ہوگی۔ کالعدم تنظيم کے دیگر مطالبات کيلئے بھی قانونی راستہ اختیار ہوگا۔

ترجمان ٹی ایل پی

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے روز سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری، باقی مطالبات حکومتی تصادم سے پیدا ہوئے۔ وزیر داخلہ مذاکرات کو عام عوام کے سامنے لائیں اور ہمارا مؤقف بھی سامنے رکھا جائے۔ بھارتی فنڈنگ سے متعلق بیان پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی بھارتی فنڈنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

سرائے عالمگیر

دہشت گرد تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے مارچ اور دھرنے کے باعث سرائے عالمگیر جی ٹی روڈ پر متعدد کنٹینر اور ٹرک پھنس کر رہ گئے۔ گجرات میں چناب پل ٹریفک کیلئے مکمل بند کردیا گیا ہے، جب کہ گجرات سے لاہور آنے جانے والے تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں۔ سرائے عالمگیر جی ٹی روڈ جہلم پل رات گئے تک بند کردیا گیا۔ جس کے باعث اسلام آباد پشاور جانے والی گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔

راول پنڈی سیکیورٹی بڑھا دی گئی

راولپنڈی میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔ مری روڈ کو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ سکستھ روڈ، چاندنی چوک، لیاقت باغ، مری چوک اور کمیٹی چوک پر مزید کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں۔ راولپنڈی میٹرو بس سروس بھی تاحکم ثانی بند ہے۔ علاوہ ازیں راولپنڈی مری روڈ کے اطراف کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔ مختلف علاقوں میں رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسد عمر

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ ریاست نے ایک عرصے تک کالعدم تحریک لبیک کو بات چیت سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس تنظیم نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ شواہد ہیں کہ ٹی ایل پی کی بیرونی مدد بھی کی جارہی ہے، آج جو فیصلے ہوئے ہیں ان میں حکومت کے ساتھ عسکری ادارے بھی شامل ہیں۔

رینجرز طلب

حکومت نے کالعدم تنظيم کے خلاف ايکشن کا فيصلہ کرتے ہوئے پنجاب ميں 2 ماہ کے ليے رينجرز تعينات کرنے کا اعلان کر ديا گيا۔ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ صورت حال سے نمٹنے کيلئے فوج کو بھی تيار رکھا گيا ہے۔ شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے۔ دوسری جانب گوجرانوالہ ميں حالات بدستور کشيدہ ہیں۔ پنجاب میں آرٹيکل 147 کے تحت رينجرز کو 60 دن کيلئے طلب کیا گیا ہے۔ 60 روز کیلئے کراچی کی طرز پر رينجرز حالات سنبھالے گی۔ اس دوران انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب

آئی جی پنجاب پوليس راؤ سردار کا کہنا ہے کہ مریدکے میں پولیس اہلکاروں پر سیدھی گولیاں چلائی گئيں۔ کسی کو قانون ہاتھ ميں نہيں لينے ديں گے۔ ايک گروہ کو ملک يرغمال بنانے کی اجازت نہيں دے سکتے۔ کالعدم تنظیم نے رياستی رٹ چيلنج اور شر پسندانہ رويے کو فروغ ديا۔ ہر شہری کو پرامن ماحول فراہم کرنا ہمارا مشن ہے۔

شہید اے ایس آئی

گوجرانوالہ میں کالعدم تنظیم سے جھڑپ کے دوران شہید ہونے والے اے ایس آئی اکبر کا جسد خاکی نواحی علاقہ پہنچا دیا گیا۔ شہید کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اکبر عاشق رسول تھا۔ اہل خانہ نے مذاکرات سے معاملات حل کروانے کی اپيل کی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ میرا بھائی بہت محبت کرنے والا عاشق رسول تھا۔ اپیل ہے مذاکرات سے معاملات حل کروائے جائیں۔

وزيراعظم عمران خان نے صاف کہہ ديا

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ رياست نے کالعدم تنظيم کے خلاف ايکشن کا فيصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد کے خلاف اور زبردستی کوئی مطالبات نہيں منوا سکتا۔ وزيراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں صاف کہہ ديا کہ پولیس والوں کو مارنا سیاسی کارکنوں کا نہیں دہشت گردوں کا کام ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اب کالعدم ٹی ايل پي سے عسکريت پسند گروہ والا سلوک ہوگا۔

جی ٹی روڈ پشاور بند

دوسری جانب موصول اطلاعات کے مطابق کالعدم جماعت نے جی ٹی روڈ پر پڑاؤ ڈال لیا ہے۔ مارچ کو جہلم سے پہلے روکنے کے ليے پشاور جی ٹی روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ ميں خندقيں بھی تيار کرلی گئی ہیں۔

شیخ رشید

وزير داخلہ شيخ رشيد نے کہا ہے کہ پوليس والوں کے پاس لاٹھياں تھيں مگر ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی گئی۔ کالعدم تنظيم کو عالمی دہشت گرد تنظيم قرار ديا جا سکتا ہے۔ وزير اخلہ نے بتايا کہ فرانس کا سفير پاکستان ميں ہے ہی نہيں۔ مظاہرين کا ايجنڈا کچھ اور ہی ہے۔ اب بھی درخواست کرتا ہوں واپس چلے جائيں۔ وزيراعلی پنجاب نے پرتشدد ظاہروں ميں چار پولیس اہلکار شہید اور دو سو تريپن زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔

قبل ازیں بدھ 27 اکتوبر کو سادھوکی میں کالعدم ٹی ایل پی کارکنان کے پتھراؤ سے پولیس کے 15 اہل کار زخمی ہوگئے، جب کہ تنظیم کے کارکنوں نے 6 پولیس موبائلز کو قبضے میں لے لیا۔ مریدکے میں جھڑپوں کے دوران اسسٹنٹ سب انسپکٹر اکبر جاں بحق ہوگیا۔ پرتشدد مظاہرین نے متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔

سادھوکی،گوجرانوالہ میں شدید جھڑپیں

گوجرانوالہ کے قریب سادھوکی میں پولیس اور کالعدم تنظیم کے کارکنان میں تصادم کے دوران دونوں اطراف سے شیلنگ جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ موبائل اور  انٹرنیٹ سروس معطل کرکے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے سادھوگی کی مارکیٹیں بھی بند کروادی ہیں۔ 7 پولیس اہل کاروں کے سر پر شدید زخم آئے ہیں۔

قبل ازیں سادھوکی آمد پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی پولیس اور رینجرز سے جھڑپوں کے بعد مرکزی سڑک پر ٹریفک معطل ہوگیا۔

کالعدم ٹی ایل پی کا ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کی صبح ہوا، جب کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے پنجاب پولیس نے 15ہزار اہل کاروں کو گوجرانوالہ تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ مریدکے میں قیام کے بعد مارچ کے شرکا اپنی اگلی منزل سادھوکی پہنچ گئے۔ ٹی ایل پی ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کارکنوں پر چاروں جانب سے حملے کر رہے ہیں۔ ٹی ایل پی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے کارکنوں پر شیل مارے جا رہے ہیں۔

کامونکی

کالعدم مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے مارچ کی اگلی منزل کامونکی ہے۔

پورے ملک میں احتجاج کی دھمکی

مارچ کے باعث مریدکے میں کھولی گئی مرکزی روڈ دوبارہ بند ہوگئی ہے۔ سما ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ تصادم حکومت کی طرف سے ہی ہونا ہے ہم نے نہیں کرنا۔ راستے لاہور سے بھی بند تھے مگر ہم یہاں تک پہنچ گئے اور اسلام آباد تک بھی پہنچ جائیں گے۔

دوسری جانب ٹی ایل پی کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور مجلس شوریٰ کے رکن مفتی وزیر علی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کا ناموسِ رسالت مارچ اسلام آباد کی طرف شروع ہوگیا ہے۔ مارچ کے شرکاء پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے ہم نے پوری کوشش کی مذاکرات کامیاب ہوں لیکن حکومت سنجیدہ نہیں۔ حکومت نے مذاکرات کو مذاق بنایا، تاہم ہم ہرگز اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مفتی وزیر علی کا مزید کہنا تھا کہ اگر نہتے لوگوں پر ظلم وبربریت کی گئی تو پورے ملک میں احتجاج کا اعلان کریں گے۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ اسمبلی میں قرارداد لائیں گے ایسے اچانک فیصلے تبدیل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

سادھوگی میں سڑکیں بند

گوجرانوالہ شہر کے دونوں اطراف جی ٹی روڈ آج چھٹے روز بھی بند ہے، سادھوکی کے مقام پر جی ٹی روڈ کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے۔

پولیس نے کنٹینرز کے ساتھ مٹی ڈال کر پیدل گزرنے کے راستے بھی بند کر دیئے ہیں۔ دریائے چناب پل سے پہلے جی ٹی روڈ پر 12 فٹ چوڑی اور گہری خندق بھی کھودی گئی ہے، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

پنجاب پولیس بھی تیار

دوسری جانب مارچ کے شرکا سے نمٹنے کیلئے پولیس نے بھی حکمت عملی تیار کرلی۔ پنجاب پولیس کی جانب سے 15000 اہل کاروں کو گوجرانوالہ بھیجنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نفری کو اسلحہ ساتھ نہ لے جانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ دھرنے سے نمٹنے کيلئے پولیس صرف اینٹی رائٹ کا سامان استعمال کريگی۔ لاہور پولیس کے تمام ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز اور ایس پیز دھرنے کے مقام کیلئے بھجوائے جائیںگے۔

ڈپلومیٹک انکلیو میں سیکیورٹی سخت

اسلام آباد میں تعینات غیر ملکی سفیروں کو کلعدم تحریک لبیک پاکستان کے مارچ کے پیش نظر اپنا خیال رکھنے کی ہدائت کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو کی سیکیورٹی کے لئے اسپیشل انتظامات کئے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ڈپلومیٹک انکلیو کے سیکیورٹی پوائنٹس پر انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ اسپیشل پاس کے بغیر کسی کو بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ سفارتی حلقے کو معلومات موصول ہوئی ہے کہ بدنظمی کا خدشہ ہےاور یہ کہ فرانسیسی سفارت خانے کو زیادہ خدشات لاحق ہیں کیونکہ فرانسیسی ایمبیسی ڈپلومیٹک انکلیو کے داخلی راستے پر واقع ہے۔

پلان بی

سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں مجلس شوریٰ کے رکن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اسلام آباد میں داخل ہونے کیلئے راستہ روکا تو ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے، جس کا اعلان مجلس شوریٰ وقت پر کرے گی۔

میٹرو سروس راول پنڈی

کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج کے تناظر میں صدر تا آئی جے پی اسٹاپ میٹرو بس سروس بند رہے گی، تاہم آئی جے پی سے پاک سیکریٹریٹ تک میٹرو بس سروس آپریشنل ہوگی۔

اسلام آباد / پنڈی ٹریفک

مارچ کے روٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہوں کو دوبارہ سیل کر دیا گیا ہے۔

ٹی ایل پی کو لاہور سے کیوں نکلنے دیا گیا؟

آئی جی پنجاب نے کالعدم تنظیم کے مارچ کو لاہور سے باہر کیوں جانے دینے پر اجلاس کے دوران متعلقہ افسروں کی سرزنش کی۔ حکمت عملی میں ناکامی پر لاہور پولیس میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے سوال کیا گیا کہ وسائل کے باوجود مارچ کے شرکا کو لاہور میں کیوں نہ روکا گیا؟۔

سینٹرل پولیس آفس میں سوال ہوا تو مگر متعلقہ افسران کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

پولیس ناکامی کی وجوہات؟

لاہور میں مارچ کو نہ روکنے پر پولیس کی ناکامی سے متعلق متعدد وجوہات بھی سامنے آگئی ہیں، جس کے مطابق غیر تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعیناتی ناکام کی بنیادی وجہ تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ انسداد ہنگامہ آرائی فورس کے 795 اہلکار مختلف تھانوں میں تعینات ہونے کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے۔ انہیں اب پولیس لائنز طلب کرلیا گیا ہے۔

نئے مقدمات کا اندراج

دوسری جانب پنجاب میں جلاؤ گھیراؤ ، پولیس اہل کاروں کی شہادت اور توڑ پھوڑ پر کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت کے قائدین اور کارکنان کے خلاف 16 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقدمات سرکار، پولیس، پرائیویٹ ٹرانسپورٹر، ڈبلیو ایم سی اور میٹرو انتظامیہ کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔ 4 مقدمات شفيق آباد، 4 نواں کوٹ، 2 شاہدرہ اور 2 انارکلی تھانے میں درج کيے گئے ہیں، جب کہ ساندہ، شاہدرہ اور راوی روڈ سمیت دیگر تھانوں میں بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور وزارت داخلہ (اسلام آباد) میں پیر (آج) کی صبح ہوگا۔

تاہم ٹی ایل پی شوریٰ کے رکن نے دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ نے وزیر اعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے جو کہ اس وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب قبل ازیں اتوار 24 اکتوبر کو وزیر داخلہ کے حکم پر جڑواں شہروں اسلام آباد اور راول پنڈی کی سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون آنے اور جانے کیلئے ایکسپریس چوک بند ہے، شہری متبادل کے طور پر ایوب چوک اور نادرا چوک استعمال کریں۔

واضح رہے کہ کالعدم جماعت ٹی ایل پی کے دھرنے کے باعث حکام نے وفاقی دارالحکومت کے متعدد راستوں کو کنٹینر لگاکر بند کردیا تھا

رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ حکومت اور ٹی ایل پی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت کے بعد کیا گیا تھا۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ کو کنٹینرز ہٹانے کی ہدایت کردی ہے، جب کہ جی ڈی روڈ کے کنٹینرز نہ ہٹانے کا کہا ہے کیونکہ ٹی ایل پی کے احتجاجی شرکاء بدھ تک تحیصل مُرید کے میں موجود رہیں گے۔

لاہور تصادم

قبل ازیں جمعہ 22 اکتوبر کالعدم تنظیم کے لاہور میں مارچ کے دوران مشتعل افراد کے تشدد سے 3 پولیس اہل کار شہید، جب کہ 52 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق زخميوں کو لاہور کے سروسزاسپتال، میو اسپتال، میاں منشی اسپتال، فاروق اسپتال، نواز شریف اسپتال اور کوٹ خواجہ سعید اسپتال منتقل کيا گيا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سروسز اسپتال ميں 15 زخميوں کو لايا گيا، جن ميں سے 8 کو ڈسچارج کرديا گيا، ميو اسپتال ميں 16 زخمیوں میں سے 12 کو گھر بھیج دیا گیا، میاں منشی اسپتال میں 6 زخمی اہلکار زیر علاج ہیں۔

لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی کے مارچ کے شرکاء اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ ناکام ہوگیا تھا۔ حکومت نے مطالبات کی منظوری کیلئے مزید وقت مانگا تھا، جس کے بعد حکومتی مذاکراتی ٹیم اور ٹی ایل پی رہنماؤں کے درمیان دوسرے مرحلے میں مذاکرات ہوئے، جس میں شیخ رشید احمد نے حکومتی کمیٹی کی سربراہی کی۔ اس دوران شیخ رشید کی 2 بار لاہور میں جیل سے باہر ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

مجلس شوریٰ تحریکِ لبیک

قبل ازیں ہفتے کی صبح جاری بیان میں مجلس شوری کے رکن پیر سید سرور حسین شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ مذاکرات کیلئے نیت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے۔ پر امن شرکاء مارچ کو پرتشدد بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ ہم ریاستی جبر و تشدد کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہتے کارکنان کے خون کا حساب دینا ہوگا۔ ہمیں ہمارے آئینی اور قانونی حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا۔ حکومت اپنا قبلہ درست کرے۔ پنجاب پولیس نے ایک بار پھر ظلم کی داستان رقم کی۔

ٹی ایل پی کے مطالبات کیا ہیں؟

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا ہےکہ وہ حکومت سے کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ اُن کے صرف 2 مطالبات ہیں۔ حکومت تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کو رہا کرے اور وعدے کے مطابق پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالے۔

سال 2021 کا احتجاج اور وزیراعظم کا خطاب

پیر 19 اپریل کو قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ جب بھی نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے کہا تھا علما سے کہوں گا کہ وہ میرا ساتھ دیں۔ وزیراعظم نے پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلایا گیا ہے، چار پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بلاک کی گئیں۔ آکسیجن کے سیلنڈر نہیں جا پا رہے تھے کرونا کے مریضوں کی اموات ہوئیں۔

فواد چوہدری کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے رواں سال اپریل میں ہونے والے کامیاب مذاکرات سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور کالعدم تحریک کے درمیان معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے، قراداد بھی پارلیمنٹ میں پیش ہوچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے کالعدم ٹی ایل پی کے گرفتار لوگ رہا کر دیے گئے ہیں اور اس ضمن میں ملک میں احتجاج کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔

الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی

مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد حکومت پاکستان نے اپریل 2021 میں تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر 1997ء کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد جولائی 2021 میں آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کیلئے کالعدم ٹی ایل پی پر آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ 201 کے تحت لگائی گئی۔

ٹی ایل پی پر پابندی کے خلاف تنظیم کی جانب سے وزارت داخلہ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ جس میں موقف اپنایا گیا کہ حکومت کی جانب سے نقص امن و کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر 15 اپریل 2021 کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کی گئی، جو حقائق کے منافی ہے۔

درخواست میں وزارت سے استدعا کی گئی تھی کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان سے پابندی ہٹائے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء کے عام انتخابات میں 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ سندھ اسمبلی میں اس کے 3 اراکین موجود ہیں۔ تنظیم کے نوجوان سربراہ سعد حسین رضوی اپریل سے کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔

سعد حسن رضوی کو تحریک لبیک کا سربراہ ان کے والد خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد بنایا گیا تھا۔

فیض آباد سے فیض حمید تک

سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سال 2017 میں جب ان کی جماعت اقتدار میں تھی اور تحریک لبیک نے فیض آباد پر دھرنا دیا تھا تو لوگوں میں ایک تاثر یہ بھی تھا کہ حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوتا ملک میں فرقہ واریت پھیلنے کا خطرہ تھا۔

واضح رہے کہ 2017 میں حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید شامل تھے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت عمل پہلے کرتی ہے اور سوچتی بعد میں ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بگھتنا پڑتا ہے۔

ٹی ایل پی کے مظاہروں کا آغاز کیسے ہوا؟

تحریکِ لبیک نے گزشتہ سال 2020 میں فرانس میں متنازع خاکوں کی اشاعت کے خلاف راول پنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا، جو 16 نومبر کو حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ختم ہوا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی کی جانب سے حکومت کو دوبارہ رواں سال 16 فروری 2021 کو احتجاج کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ جس میں 16فروری تک فرانس میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے معاملے پر پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ شامل تھا، تاہم اس سے قبل ہی 11 جنوری کو دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے اور معاہدہ ہوا۔ معاہدے میں تحریک لبیک کی نمائندگی کرنے والوں میں غلام غوث، ڈاکٹر محمد شفیق، غلام عباس اور محمد عمیر شامل تھے جب کہ حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیرِ مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی تھی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا تھا کہ جن رہنماؤں یا کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں، وہ فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے۔ معاہدے کی شق کے مطابق رواں سال 20 اپریل تک معاہدے کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور اِن سب باتوں کا اعلان خود وزیرِ اعظم کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 20 اپریل کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا کہا گیا تھا۔ تاہم معاملہ طول پکڑتا گیا اور ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر 19 اپریل کی صبح ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا اور کچھ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر کھلے رہے تو کہیں کہیں ہڑتال کا سماں رہا۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کئی شہروں میں تاجر برادری اور وکلا تنظیموں نے بھی اس ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اتوار 18 اپریل کو یہ احتجاج ایک مرتبہ پھر پرتشدد رخ اختیار کر گیا تھا اور لاہور میں تحریکِ لبیک اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیر کی صبح سحری کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ اتوار کو لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تمام اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئیں۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔

ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے جب کہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر دھاوا بولا جبکہ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت پولیس کے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube