Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

کراچی: نسلہ ٹاور گرانے کے لیے اخبار میں اشتہار جاری

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago

نسلہ ٹاورکی عمارت کا رقبہ11 سو21 مربع گز ہے۔

کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے کیلئے اخبار میں اشتہار شائع کرادیا گیا ہے۔

بدھ کو جاری اشتہارکمشنرکراچی کی جانب سے شائع کرایا گیا ہے۔ اشتہار میں درج ہے کہ عمارت گرانے کے ماہرادارے کو ترجیح دی جائے گی، جدید طریقے سےعمارت منہدم کرانے والے ادارے3دن میں پیشکش جمع کرائیں۔ پیشکش ذاتی طورپریا ای میل کے ذریعے بھی بھیجی جاسکتی ہے اور تمام پیشکشوں کا جائزہ تیکنیکی قواعد وضوابط کے مطابق لیا جائے گا۔ اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ نسلہ ٹاور کی عمارت کا رقبہ11 سو21 مربع گز ہے۔

چھبیس اکتوبر کو سپریم کورٹ کے حکم پر شاہراہ فیصل پر موجود نسلہ ٹاور کے یوٹیلیٹی کنکشنز منقطع کردیئے گئے۔اس موقع پر مرکزی کنکشن سمیت 100 سے زائد کنکشنز کو منقطع کیا گیا۔ایس ایس جی سی کی ٹیم نے عدالتی احکامات کے بعد کارروائی کی۔ ایس ایس جی سی کواسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے کارروائی کا حکم دیا تھا۔ نسلہ ٹاور کے لیے بجلی کی سپلائی گرڈ سے بند کردی گئی۔

کراچی:عدالتی حکم پرنسلہ ٹاور کےیوٹیلیٹی کنکشنز منقطع

چھبیس اکتوبرکوکمشنر کراچی کے دفتر میں نسلہ ٹاور سے متعلق اجلاس میں پاک فوج کی انجینئرینگ ٹیم سمیت این ای ڈی کی انجینئرینگ ایکسپرٹس نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں ایف ڈبلیواو، ایس بی سی ای،سولڈ ویسٹ منجمنٹ، ڈی سی ایسٹ، ای سی فیروزآباد ، رینجرز اور پولیس کے افسران شامل تھے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ڈیٹونیشن آپریشن کی جو سہولت موجود ہے وہ پہاڑوں کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن نسلہ ٹاور کو گرانے کے لئے ایپلوین تھیوری درکار ہے  جس کے سہولیات پاکستان میں موجود نہیں۔ڈیٹونیشن بلاسٹ کا استعمال زیادہ ترپہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے اور بیرون ممالک میں ( کنٹرولڈ اپلوین تھیوری) کےمطابق عمارت گرائی جاتی ہیں تاہم یہ سہولت پاکستان میں موجود نہیں۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر نسلہ ٹاور گرانے کے لیے ڈیٹونیشن بلاسٹ کیا گیا توبرابر کی عمارتیں کو نقصان پہنچے گا اور عمارت کے سامنے شاہراہ فیصل پر موجود فلائی اوور بھی پھٹ سکتا ہے جبکہ پانی کی لائنوں کو نقصان پہنچے گا۔

اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کنٹرولڈ ایپلوین بلاسٹ ہونے کے لیے دیگر ممالک سے مدد طلب کی جا سکتی ہے تاہم اس میں وقت درکار ہوگا۔ کنٹرولڈ ایمپلوین بلاسٹ کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کے پاکستان میں موجود نمائندوں سے رابطہ کرنے کے لیےخط لکھا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انتظامیہ  نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق دیگر آپشن پربھی غور کرے گی۔

سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور1 ہفتہ میں گرانے کا حکم:۔

پچیس اکتوبر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت میں عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک اس عمارت کو کیوں نہیں گرایا گیا اور کیا ہتھوڑی اور چھینی سےگرائیں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ  نسلہ ٹاور کی عمارت کو گرانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔

اس موقع پرعدالت میں نسلہ ٹاور کے مکینوں نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو عدالت نے نسلہ ٹاور کے مکینوں کو بولنے سے روک دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے  کہ ہمارے نزدیک نسلہ ٹاورختم ہوگیا ہے اور اب صرف گرانے کا مسئلہ ہے۔ عدالت نے عمارت کی بجلی اور پانی کے کنکشن27 اکتوبرتک منقطع کرانے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ کمشنر کراچی ایک ہفتہ میں عمارت گرا کر کر رپورٹ دیں۔

کراچی:نسلہ ٹاورکےالاٹیزکا فلیٹس خالی کرنےسےانکار

بائیس اکتوبر کو نسلہ ٹاور کے باہر عمارت کے مکینوں نے احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے فلیٹ کی قیمت موجودہ مالیت کے اعتبار سے طے کی جائے۔ نسلہ ٹاور گرانے کےعدالتی حکم پرسراپا احتجاج مکین گھرخالی کرنے پر تیار نہیں تھے۔عدالت نے غیر قانونی زمین پر قائم نسلہ ٹاورگرانے کے ساتھ بلڈر کو بھی حکم دیا تھا کہ الاٹیز کو ادائیگی کی جائے۔ قانونی ماہرین نے بھی الاٹیزکو یہی مشورہ دیا تھا کہ فلیٹس مالکان وقت ضائع کرنےکےبجائے رقم وصولی پرزوردیں۔تاہم پروجیکٹ کا بلڈر اصل رقم دینے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔

اکیس اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر شرقی نےعدالتی احکامات پرعمل درآمد سے متعلق آگاہ کرنےکیلئے مکینوں کو اپنے دفترمیں بلایا اور آئندہ کے پروگرام سے آگاہ کیا۔ملاقات میں نسلہ ٹاور کے بلڈرابوبکر کاٹیلا موجود نہیں تھے۔ڈپٹی کمشنر نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو بتایا کہ ٹاور گرانے کا عمل یوٹیلیٹی کنکشنز کاٹنے سے شروع ہوگا۔نسلہ ٹاور کے الاٹیز کا مطالبہ تھا کہ انھیں 110 کروڑروپے ادا کر دیئے جائیں تو وہ فلیٹس خالی کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

کراچی:نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار اخبارات میں شائع

دو ہفتے قبل اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں جاری کئے تھے۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

اشتہار کے مطابق اس سے پہلے بھی نسلہ ٹاورکے بلڈراور رہائشیوں کو2 نوٹسز جاری کیئے جاچکے ہیں۔سپریم کورٹ  میں کمشنر کراچی اورمختارکارفیروز آباد کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں واضح کردیا گیا تھا کہ نسلہ ٹاور کا ایک حصہ شارع فیصل کی سروس روڈ پر بنا ہوا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنےکی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جائےگی۔

سپریم کورٹ کاکمشنرکراچی کونسلا ٹاورمنہدم کرکےرپورٹ پیش کرنےکاحکم

پچھلے ماہ سپریم کورٹ نے نسلا ٹاور گرانے کے خلاف نظرثانی درخواست مسترد کردی تھی۔ کمشنر کراچی کو نسلا ٹاور منہدم کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ الاٹیز کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی  تھی کہ ہمیں بھی سنا جائے۔ اس پر جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ہم نے آپ کو راستہ دیا ہے اور مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پیسےمل جائیں گے،آپ نے اپارٹمنٹ لینے سے پہلے کیوں نہیں دیکھا اورآپ کو نہیں پتا کہ کتنی جعلسازی ہوتی ہے،معائنے کے بغیر کیسے فلیٹ خرید لیتے ہیں۔

کراچی: سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاورگرانے کا حکم دے دیا

سولہ جون کو سپریم کورٹ نے کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے کے عدالتی حکم پر بلڈر کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمارت گرانے کا حکم دیا تھا۔

انیس جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر قائم نسلہ ٹاور کو فوری طور پر گرانے اور الاٹیز کو 3 ماہ کے اندر رقم واپس کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کمشنر کراچی کو ہدایت کی گئی کہ نسلہ ٹاور خالی کراکر اپنی تحویل میں لیں اور فوری طور پر گرانے کی کارروائی شروع کریں۔ سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے مالک کو ہدایت کی ہے کہ 3 ماہ کے اندر تمام الاٹیز کو رقم واپس کی جائے۔

نسلہ ٹاور پر ایکشن کمیٹی قائم، آباد معاملے سے الگ

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ نسلہ ٹاور کی زمین کو غیر قانونی طور پر رہائشی سے کمرشل میں تبدیل اور تعمیر کیلئے سروس روڈ پر بھی قبضہ کیا گیا۔

اس سے قبل آٹھ اپریل کو چیف جسٹس گلزار احمد نے شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پلاٹ کی لیز بھی منسوخ کردی تھی۔ بلڈر کی جانب سے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube