Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

نسلہ ٹاور کو دھماکے سے گرانے سے متعلق اجلاس طلب

SAMAA | - Posted: Oct 26, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 26, 2021 | Last Updated: 1 month ago
NASLA KA MASLA OLD 1500 PKG 22-091

فائل فوٹو

کمشنر کراچی نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کے لیے نسلہ ٹاور ڈیٹونیشن آپریشن (دھماکے سے گرانے) سے متعلق اجلاس آج طلب کر لیا۔

کمشنر کراچی اقبال میمن صاحب نے شام 4:30 بجے اعلی سطح کا اجلاس کمشنر دفتر میں طلب کیا ہے، جس میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے پلان بنایا جائے گا۔

اجلاس میں طے کیا جائے گا کہ کنٹرولڈ ڈیٹونیشن کو کس طرح سے استعمال کیا جائے اور کن احتیاطی تدابیروں کو بروئے کار لایا جائے۔

این ای ڈی کے وائس چانسلر، اینجینیرینگ ایکسپرٹ، واٹر بورڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے ایم سی، سولڈ ویسٹ مینیجمینٹ کے حکام و افسران کو بھی اجلاس میں طلب کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ایسٹ آصف جان صدیقی، اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد آسمہ بتول بھی اجلاس میں طلب کی گئی ہیں۔

ڈیٹونیشن کو استعمال کرنے کے لیے پاک آرمی کی اینجینئرینگ ٹیم بھی اجلاس میں کمشنر کراچی کو بریفنگ دیں گی جبکہ آپریشن سے متعلق امن وامان کی صورتحال کے لیے رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام بھی شرکت کریں گے۔

کمشنر کراچی آقبال میمن کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں انتظامی امور تیزی سے جاری ہیں، تمام معملات کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔ نسلہ ٹاور آپریشن مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

سپریم کورٹ کا حکم

پیر 25 اکتوبر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ  نسلہ ٹاور کی عمارت کو گرانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔

اس موقع پر عدالت میں نسلہ ٹاور کے مکینوں نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو عدالت نے نسلہ ٹاور کے مکینوں کو بولنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نزدیک نسلہ ٹاور ختم ہوگیا ہے اور اب صرف گرانے کا مسئلہ ہے۔ عدالت نے عمارت کی بجلی اور پانی کے کنکشن 27اکتوبر تک منقطع کرانے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ کمشنر کراچی ایک ہفتہ میں عمارت گرا کر کر رپورٹ دیں۔

مکینوں کا احتجاج

نسلہ ٹاور کے باہر عمارت کے مکینوں نے 22 اکتوبر کو احتجاج بھی کیا تھا۔ انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے فلیٹ کی قیمت موجودہ مالیت کے اعتبار سے طے کی جائے۔

نسلہ ٹاور گرانے کے عدالتی حکم پر سراپا احتجاج مکین گھر خالی کرنے پر تیار نہیں تھے۔ عدالت نے غیر قانونی زمین پر قائم نسلہ ٹاور گرانے کے ساتھ بلڈر کو بھی حکم دیا تھا کہ الاٹیز کو ادائیگی کی جائے۔

قانونی ماہرین نے بھی الاٹیز کو یہی مشورہ دیا تھا کہ فلیٹس مالکان وقت ضائع کرنے کے بجائے رقم وصولی پر زور دیں۔ تاہم، پروجیکٹ کا بلڈر اصل رقم دینے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔

اس سے قبل 21 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر شرقی نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق آگاہ کرنے کیلئے مکینوں کو اپنے دفترمیں بلاکر آئندہ کے پروگرام سے آگاہ کیا تھا۔ ملاقات میں نسلہ ٹاور کے بلڈر ابوبکر کاٹیلا موجود نہیں تھے۔

ڈپٹی کمشنر نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو بتایا کہ ٹاور گرانے کا عمل یوٹیلیٹی کنکشنز کاٹنے سے شروع ہوگا۔ نسلہ ٹاور کے الاٹیز کا مطالبہ ہے کہ انھیں 110 کروڑ روپے ادا کر دیے جائیں تو وہ فلیٹس خالی کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار

دو ہفتے قبل اسسٹنٹ کمشنر فیروز آباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کا اشتہار مختلف اخبارات میں جاری کیے تھے۔ نوٹس میں بتایا گیا تھا کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

اشتہار کے مطابق اس سے پہلے بھی نسلہ ٹاور کے بلڈر اور رہائشیوں کو 2 نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں

سپریم کورٹ میں کمشنر کراچی اور مختارکار فیروز آباد کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں واضح کر دیا گیا تھا کہ نسلہ ٹاور کا ایک حصہ شارع فیصل کی سروس روڈ پر بنا ہوا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنے کی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube