Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

سعدرضوی سےون آن ون ملاقات ہوئی،ٹی ایل پی کےکیسزواپس لے لینگے،شیخ رشید

SAMAA | - Posted: Oct 24, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 24, 2021 | Last Updated: 1 month ago

اگلے سال الیکشن بجٹ دیں گے

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر عائد کیسز منگل 26 اکتوبر تک واپس لے لیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں سعد رضوی سے ون آن ون ملاقات ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ نے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی سے تفصیلی 8 گھنٹے ملاقات کی ہے۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے اعجاز چوہدری ، راجہ بشارت، علی امین گنڈا پور، نور الحق قادری موجود تھے، جب کہ ٹی ایل پی کی جانب سے مجلس شوریٰ کے اراکین تھے۔ ہم منگل یا بدھ تک ان پر عائد کیسز واپس لے لیں گے، اور شیڈول فورتھ کو بھی دیکھیں گے۔ ان کے اعتراض پر میں نے فرانس سے متعلق اپنا بیان بھی دہرایا کہ جو اس وقت خطے اور دنیا کے حالات ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ اس وقت فرانس کے سفیر پاکستان میں نہیں بلکہ یہ فرائض ناظم الامور انجام دے رہے ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعد رضوی سمیت تمام رہنماؤں کی رہائی اور دیگر مطالبات میں مثبت پیش رفت آئے گی۔ یہ بھی بتایا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا ابھی ایک پوائنٹ کلیئر ہونا باقی ہے۔ ٹی ایل پی کو بتا دیا ہے کہ فرانس کے معاملے پر میں نے اور نور الحق قادری نے مطالبات کی فہرست پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کریں گے کہ جلد از جلد اس پر کام ہو سکے۔

انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتراض تھا اور جائز اعتراض تھا کہ اتنے عرصے حکومت کی جانب سے معاہدے سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ پیر 25 اکتوبر کو عنایت اللہ شاہ سمیت دیگر ممبران ٹی ایل پی کے بات چیت کیلئے آئیں گے۔ مذاکرات میں تاخیر کیوں ہوئی، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ میری سعد رضوی سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ون آن ون بھی ہوئی اور مذاکرات میں بھی ہوئی۔

شیخ رشید کے مطابق راول پنڈی اور اسلام آباد میں کنٹینرز ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد کے آئی جی کو کہہ رہا ہوں کہ کنٹینرز ہٹا دو، البتہ جی ٹی روڈ پر کنٹینرز موجود رہیں گے۔  کالعدم جماعت کا پنجاب میں تیسرا بڑا ووٹ بینک ہے، تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔ مذہبی لوگوں سے ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیئے۔ احتجاج ان کا حق ہے، حکومت کا کام ہے کہ لچک رکھے۔ ریاست کا کام ہے کہ صلح کا معاملہ رکھے، حکومت کو جوڈو کراٹے نہیں کرنا چاہیئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube