Monday, November 29, 2021  | 23 Rabiulakhir, 1443

کالعدم ٹی ایل پی کے 350 کارکنان رہا کردیئے،شیخ رشید

SAMAA | , , and - Posted: Oct 25, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Oct 25, 2021 | Last Updated: 1 month ago

جی ٹی روڈ پر کنٹینرز موجود

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے کالعدم ٹی ایل پی کے 350 کارکنوں کو رہا کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں طے شدہ شرائط کے مطابق مریدکے میں دونوں اطراف کی سڑکوں کو کھولنے کا انتظار ہے، جس کیلئے ٹی ایل پی کی جانب سے کارکنوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی تھی۔

شیخ رشید احمد کے مطابق مذہبی اور سیاسی جماعت کے 350 کارکنوں کو رہا کردیا گیا ہے، جب کہ دیگر کارکنان کے خلاف کیسز بدھ (27 اکتوبر) تک واپس لے لیے جائیں گے۔

مارچ کو ختم کرنا مطالبات کی منطوری سے مشروط

سما ڈیجیٹل کے رابطہ کرنے پر ٹی ایل پی رہنما کا کہنا تھا کہ فی الحال 350 کی تصدیق نہیں کرسکتے تاہم حکومت کی جانب سے کارکنوں کو رہا ضرور کیا گیا ہے۔ ٹی ایل پی رہنما نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ رہ اکیے گئے کارکنوں کو حراست میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کارکنوں کو بلاجواز بغیر مقدمات درج کیے گئے حراست میں رکھا گیا تھا۔

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ حکومت اگر تمام مطالبات پر سنجیدگی اختیار کرے گی تو مارچ ختم کر کے گھروں کو چلیں جائیں گے۔ مطالبات نہ منظور ہونے کی صورت میں مارچ کے شرکا بدھ کو اسلام آباد کی طرف سفر شروع کریں گے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ فرانسسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی جلد اپنا فیصلہ دے گی، جب کہ سربراہ تحریک لبیک پاکستان اور دیگر قائدین سمیت تمام کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے گا۔

نئے مقدمات کا اندراج

دوسری جانب پنجاب میں جلاؤ گھیراؤ ، پولیس اہل کاروں کی شہادت اور توڑ پھوڑ پر کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت کے قائدین اور کارکنان کے خلاف 16 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقدمات سرکار، پولیس، پرائیویٹ ٹرانسپورٹر، ڈبلیو ایم سی اور میٹرو انتظامیہ کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔ 4 مقدمات شفيق آباد، 4 نواں کوٹ، 2 شاہدرہ اور 2 انارکلی تھانے میں درج کيے گئے ہیں، جب کہ ساندہ، شاہدرہ اور راوی روڈ سمیت دیگر تھانوں میں بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور وزارت داخلہ (اسلام آباد) میں پیر (آج) کی صبح ہوگا۔

تاہم ٹی ایل پی شوریٰ کے رکن نے دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ نے وزیر اعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے جو کہ اس وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب قبل ازیں اتوار 24 اکتوبر کو وزیر داخلہ کے حکم پر جڑواں شہروں اسلام آباد اور راول پنڈی کی سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون آنے اور جانے کیلئے ایکسپریس چوک بند ہے، شہری متبادل کے طور پر ایوب چوک اور نادرا چوک استعمال کریں۔

واضح رہے کہ کالعدم جماعت ٹی ایل پی کے دھرنے کے باعث حکام نے وفاقی دارالحکومت کے متعدد راستوں کو کنٹینر لگاکر بند کردیا تھا

رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ حکومت اور ٹی ایل پی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت کے بعد کیا گیا تھا۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ کو کنٹینرز ہٹانے کی ہدایت کردی ہے، جب کہ جی ڈی روڈ کے کنٹینرز نہ ہٹانے کا کہا ہے کیونکہ ٹی ایل پی کے احتجاجی شرکاء بدھ تک تحیصل مُرید کے میں موجود رہیں گے۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں سے مذاکرات میں پیشرفت اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی ہدایت کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد کے بند راستے کھول دئیے، مری روڈ پر آرچرڈ اسکیم سے فیض آباد آنے اور جانے والے راستے کھل گئے۔

انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد ایکسپریس وے پر کاک پُل پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹادیا گیا، آئی جے پی روڈ کی جانب جانے والا راستہ بھی جلد کھول دیا جائے گا۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں ٹی ایل پی رہنما نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی کامیابی اور مطالبات تسلیم کرنے تک مریدکے میں ہی موجود رہیں گے۔ ٹی ایل پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ وہ منگل تک حکومت کی دی گئی مدت کا انتظار کریں گے اور اس کے بعد جو قیادت فیصلہ کرے گی وہ ہمارا لائحہ عمل ہوگا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ نے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی سے تفصیلی 8 گھنٹے ملاقات کی ہے۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے اعجاز چوہدری ، راجہ بشارت، علی امین گنڈا پور، نور الحق قادری موجود تھے، جب کہ ٹی ایل پی کی جانب سے مجلس شوریٰ کے اراکین تھے۔ ہم منگل یا بدھ تک ان پر عائد کیسز واپس لے لیں گے، اور شیڈول فورتھ کو بھی دیکھیں گے۔ ان کے اعتراض پر میں نے فرانس سے متعلق اپنا بیان بھی دہرایا کہ جو اس وقت خطے اور دنیا کے حالات ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ اس وقت فرانس کے سفیر پاکستان میں نہیں بلکہ یہ فرائض ناظم الامور انجام دے رہے ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعد رضوی سمیت تمام رہنماؤں کی رہائی اور دیگر مطالبات میں مثبت پیش رفت آئے گی۔ یہ بھی بتایا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا ابھی ایک پوائنٹ کلیئر ہونا باقی ہے۔ ٹی ایل پی کو بتا دیا ہے کہ فرانس کے معاملے پر میں نے اور نور الحق قادری نے مطالبات کی فہرست پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کریں گے کہ جلد از جلد اس پر کام ہو سکے۔

انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتراض تھا اور جائز اعتراض تھا کہ اتنے عرصے حکومت کی جانب سے معاہدے سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ پیر 25 اکتوبر کو عنایت اللہ شاہ سمیت دیگر ممبران ٹی ایل پی کے بات چیت کیلئے آئیں گے۔ مذاکرات میں تاخیر کیوں ہوئی، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ میری سعد رضوی سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ون آن ون بھی ہوئی اور مذاکرات میں بھی ہوئی۔

شیخ رشید کے مطابق راول پنڈی اور اسلام آباد میں کنٹینرز ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد کے آئی جی کو کہہ رہا ہوں کہ کنٹینرز ہٹا دو، البتہ جی ٹی روڈ پر کنٹینرز موجود رہیں گے۔  کالعدم جماعت کا پنجاب میں تیسرا بڑا ووٹ بینک ہے، تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔ مذہبی لوگوں سے ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیئے۔ احتجاج ان کا حق ہے، حکومت کا کام ہے کہ لچک رکھے۔ ریاست کا کام ہے کہ صلح کا معاملہ رکھے، حکومت کو جوڈو کراٹے نہیں کرنا چاہیئے۔

 اس قبل اتوار کی صبح سما سے خصوصی گفتگو میں وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ شیخ رشید نے مزید بتایا کہ ان کے تین مرکزی مطالبات تھے، فرانسیسی سفیر سے متعلق، عائد مقامات اور گرفتار رہنماؤں کی رہائی۔ ہم فرنچ سفارت خانے سے متعلق ٹی ایل پی کے مطالبات کو پارلیمان کی کمیٹی میں لے کر جائیں گے۔ کچھ لوگوں کی گرفتاریاں بغیر وجہ کے ہیں اور شیڈول فورتھ میں شامل نام ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ کل شام تک اس کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ لوگ منگل تک احتجاج میں بیٹھیں گے تاہم دونوں اطراف کی ٹریفک کھلی ہوگی۔ اچھے حالات اور ماحول میں گفتگو اور مذاکرات ہوئے ہیں اور مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے اوپر جو کیسز ہیں انہیں ختم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے پہلے سے دیئے گئے مطالبات میں مزید مطالبات کا اضافہ بھی کیا ہے۔ سعد رضوی سمیت تمام رہنماؤں کی رہائی کیلئے بات چیت جاری ہے۔

ڈپلومیٹک انکلیو میں سیکیورٹی سخت

اسلام آباد میں تعینات غیر ملکی سفیروں کو کلعدم تحریک لبیک پاکستان کے مارچ کے پیش نظر اپنا خیال رکھنے کی ہدائت کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو کی سیکیورٹی کے لئے اسپیشل انتظامات کئے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ڈپلومیٹک انکلیو کے سیکیورٹی پوائنٹس پر انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ اسپیشل پاس کے بغیر کسی کو بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ سفارتی حلقے کو معلومات موصول ہوئی ہے کہ بدنظمی کا خدشہ ہےاور یہ کہ فرانسیسی سفارت خانے کو زیادہ خدشات لاحق ہیں کیونکہ فرانسیسی ایمبیسی ڈپلومیٹک انکلیو کے داخلی راستے پر واقع ہے۔

ٹی ایل پی کا مارچ، ڈپلومیٹک انکلیو میں سیکیورٹی سخت

قبل ازیں ہفتہ 23 اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی سربراہی میں حکومتی ٹیم اور علمائے اہلسنت کے وفد کے درمیان مذاکرات میں لائحہ عمل تبدیل کیا گیا۔ حکومتی ٹیم کے بجائے علمائے اہلسنت کا وفد حکومتی پیغام کالعدم ٹی ایل پی سربراہ سعد حسین رضوی تک پہنچائے گا۔

دوسری جانب حکومت نے مارچ روکنے کیلئے گوجرانوالہ میں تیاریاں شروع کردیں۔ سڑک پر ’’خندق‘‘ بھی کھود دی گئی ہے جب کہ جگہ جگہ کنٹینرز لگا دیئے گئے۔ شہر میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی ہدایت اور صوبوں سے 30 ہزار پولیس اہلکار مانگ لئے گئے ہیں۔

دوسری جانب لانگ مارچ کے شرکاء مریدکے پہنچ گئے، جہاں انہوں نے رات بھر قیام کیا۔

ذرائع کے مطابق گوجرانوالہ ميں کالعدم ٹی ایل پی کا لانگ مارچ روکنے کی تيارياں جاری ہیں۔ دريائے چناب کے قريب جی ٹی روڈ پر خندقیں کھود دی گئی ہیں۔ ٹریفک کی روانی شديد متاثر ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزارت داخلہ نے لاہور اور گجرات کے درميان جی ٹی روڈ پر انٹرنيٹ سروس بند کرنے کی ہدایت کردی۔

راولپنڈی ميں بھی سيکيورٹی ہائی الرٹ اور جگہ جگہ رکاوٹيں کھڑی کردی گئيں۔

وزارت داخلہ نے صورت حال سے نمٹنے کيلئے صوبوں سے 30 ہزار پولیس اہلکار مانگ لئے۔

وزارت داخلہ نے بھی اسلام آباد میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ممکنہ دھرنے سے نمٹنے کیلئے ایکشن پلان تیار کرلیا۔

وزارت داخلہ نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو پولیس کی بھاری نفری کیلئے مراسلہ لکھ دیا۔

وفاقی دارالحکومت میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے پولیس کی 10، 10 ہزار کی نفری مانگی گئی ہے۔ آزاد کشمیر سے بھی 10 ہزار پولیس اہلکار طلب کئے گئے ہيں۔ وزارت داخلہ نے مراسلے کی کاپیاں متعلقہ آئی جیز کو بھی ارسال کر دیں۔

 وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی زیر صدارت لاہور میں اہم اجلاس ہوا، جس میں کالعدم ٹی ایل پی کے مارچ سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

لاہور سے کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کا ’لانگ مارچ‘ ہفتے کی شام مرید کے پہنچا۔ جہاں سے وہ اسلام آباد کی جانب دوبارہ سفر شروع کریں گے۔ دھرنے کے شرکاء سے نمٹنے اور انہیں مزید پیش قدمی سے روکنے کیلئے مختلف علاقوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے، جبکہ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی بھاری نفری تعینات کی گئی۔

ترجمان لاہور پولیس

قبل ازیں کالعدم تنظیم کے مارچ میں شامل مشتعل افراد کے تشدد سے زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد 52 ہوگئی۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق زخميوں کو لاہور کے سروسزاسپتال، میو اسپتال، میاں منشی اسپتال، فاروق اسپتال، نواز شریف اسپتال اور کوٹ خواجہ سعید اسپتال منتقل کيا گيا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سروسز اسپتال ميں 15 زخميوں کو لايا گيا، جن ميں سے 8 کو ڈسچارج کرديا گيا، ميو اسپتال ميں 16 زخمیوں میں سے 12 کو گھر بھیج دیا گیا، میاں منشی اسپتال میں 6 زخمی اہلکار زیر علاج ہیں۔

انٹرنیٹ سروس کی بحالی

دوسری جانب تازہ اطلاعات کے مطابق لاہور شہر ميں لگائی گئی رکاوٹيں ہٹا دی گئی ہیں اور ٹريفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے، مختلف علاقوں میں بند کی گئی انٹرنيٹ سروس بھی بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔

اہم شخصیات کا لاہور میں پڑاؤ

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کو کراچی سے لاہور طلب کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب دورے پر روانگی سے قبل نور الحق قادری سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجود صورت حال پر بات چیت کی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر نور الحق قادری کراچی سے لاہور پہنچے۔

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو بھی لاہور پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی ٹیم نے لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کیے۔ وفاق کی مذاکراتی ٹیم میں علی امین گنڈاپور بھی شامل ہیں۔ پنجاب حکومتی کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے وفاقی حکومت کی ٹیم کو صورت حال پر بریفنگ دی۔ وزیر قانون پنجاب راجا بشارت نے ٹی ایل پی مارچ پر اب تک کی پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا۔

کالعدم ٹی ایل پی کی مذاکراتی ٹیم کا اعلان

ہفتہ 23 اکتوبر کو کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کیا۔ کمیٹی میں مفتی محمد وزیر علی، علامہ غلام عباس فیضی، مفتی محمد عمیر الظاہری شامل ہیں۔ مفتی محمد وزیر علی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ ترجمان ٹی ایل پی کے مطابق حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو بات ہوسکتی ہے۔

شیخ رشید وطن واپس پہنچ گئے

قبل ازیں ملک کی موجودہ امن و امان کی صورت حال دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ہفتہ 23 اکتوبر کی صبح وطن واپس پہنچے۔ وہ پاک بھارت ٹی 20 میچ دیکھنے گزشتہ روزہ دبئی روانہ ہوئے تھے۔ وہ نجی ایئر لائن ایئر بلیو کی پرواز 213 سے شارجہ سے اسلام آباد پہنچے۔

مجلس شوریٰ تحریکِ لبیک

قبل ازیں ہفتے کی صبح جاری بیان میں مجلس شوری کے رکن پیر سید سرور حسین شاہ سیفی کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ مذاکرات کیلئے نیت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے۔ پر امن شرکاء مارچ کو پرتشدد بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ ہم ریاستی جبر و تشدد کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہتے کارکنان کے خون کا حساب دینا ہوگا۔ ہمیں ہمارے آئینی اور قانونی حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا۔ حکومت اپنا قبلہ درست کرے۔ پنجاب پولیس نے ایک بار پھر ظلم کی داستان رقم کی۔

کنٹینر

جھڑپیں، آنسو گیس اور ہلاکتیں

قبل ازیں جمعہ 22 اکتوبر کو رات گئے 2 بجے تحریک لبیک پاکستان کا ناموسِ رسالت مارچ داتا دربار پہنچا۔ جہاں مارچ کے شرکا 4 گھنٹے تک داتا دربار پر رکے۔ گزشتہ روز مارچ کے شرکا نے جب اسلام آباد کی جانب آغاز کیا تو پولیس اور کارکنان میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں جمعہ 22 اکتوبر کی شب پولیس اہلکار جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے۔ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنان کے جاں بحق یا زخمی ہونے سے متعلق کوئی سرکاری بیان سامنے نہ آسکا۔ جھڑپوں اور مظاہرے کے دوران ایک گاڑی کی ٹکر سے بھی 2 ہولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔ پولیس مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیلز، ہوائی فائرنگ اور لاٹھی جارچ کا استعمال کرتی رہی۔

لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی کے مارچ کے شرکاء اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ ناکام ہوگیا۔ حکومت نے مطالبات کی منظوری کیلئے مزید وقت مانگا تاہم ٹی ایل پی رہنماؤں نے مزید وقت دینے سے انکار کردیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے لاہور سے اسلام آباد کی جانب ناموس رسالتؐ مارچ کا آغاز بعد نماز جمعہ ہوا۔ پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کو اسلام آباد کی جانب سے مارچ سے روکنے کے سلسلے میں رہنماؤں سے مذاکرات کئے، تاہم مارچ کے شرکاء اور انتظامیہ کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ دوسری جانب لاہور انتظامیہ نے صورت حال سے نمٹنے کیلئے رینجرز کی مدد بھی حاصل کرلی ہے۔

ترجمان کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مطابق مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنے اور شرکاء کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی جارہی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ شیلنگ اور پتھراؤ کے نتیجے میں کئی کارکنان زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے ٹی ایل پی سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی تک مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب پولیس

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کالعدم تنظیم سے انتظامیہ کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔، مارچ کے شرکاء کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کے نتیجے میں 10 اہلکار زخمی ہوگئے۔

محمد عارف کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے مارچ کے موقع پر کچہری چوک پر ڈیوٹی انجام دینے والے دو پولیس اہلکار ایک گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہوگئے، جن کی شناخت پولیس کانسٹیبل ایوب اور خالد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کالعدم تنظیم کے کارکنوں کے تشدد سے پولیس اہلکار کی شہادت اور گاڑیوں کی ٹکر سے 2 پولیس اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا رتبہ پایا۔ وزیراعلی پنجاب نے قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کيخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ قانون کی عملدراری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

لانگ مارچ کے تناظر میں لاہور کے علاقے شاہدرہ چوک کو گوجرانوالہ جانيوالی ٹريفک کيلئے بند کرديا گيا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سگیاں پل سے ڈبل سڑکاں جانيوالے راستے پر بھی کنٹينر لگا ديئے گئے۔ بیگم کوٹ سے شاہدرہ جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی ہے۔

مارچ کا فیصلہ

کالعدم تحريک لبيک پاکستان نے سربراہ سعد حسین رضوی کی عدم رہائی اور مطالبات نہ ماننے پر آج بروز جمعہ 22 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ کالعدم ٹی ایل پی جلوس کی شکل میں اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہی ہے۔

کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے کارکن 2 روز سے يتيم خانہ چوک پر دھرنا دیئے بيٹھے ہيں۔ مرکزی شوریٰ نے مطالبات منظور نہ ہونے پر جمعرات 21 اکتوبر کو 'ناموسِ رسالت مارچ' کا اعلان کيا تھا۔

اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کرتے ہوئے تحریکِ لبیک کی مجلسِ شوریٰ نے کہا  تھا کہ وہ حکومت کو ایک اور موقع دیتے ہیں کہ وہ 20 گھنٹوں کے اندر مطالبات تسلیم کرلیں ورنہ پھر مارچ ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رواں سال اپریل میں ٹی ایل پی سربراہ سعد حسین رضوی کو حراست میں لیا گیا اور تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

ٹی ایل پی کے مطالبات کیا ہیں؟

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا ہےکہ وہ حکومت سے کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ اُن کے صرف 2 مطالبات ہیں۔ حکومت تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کو رہا کرے اور وعدے کے مطابق پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالے۔

مذاکرات کا آغاز

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں ٹی ایل پی کی مجلس شوریٰ کے رکن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ پنجاب حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں۔

نماز جمعہ سے قبل شوریٰ اراکین پنجاب حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ موبائل اور انٹر نیٹ سروس بھی اس علاقے میں بند ہے، تاہم نقل و حرکت پر کارکنان کے پابندی نہیں، مرکز سے باہر اندر آ جا سکتے ہیں۔

پلان بی

سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں مجلس شوریٰ کے رکن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اسلام آباد میں داخل ہونے کیلئے راستہ روکا تو ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے، جس کا اعلان مجلس شوریٰ وقت پر کرے گی۔ جمعہ کی نماز کے بعد اسلام آباد کی جانب ناموس رسالت مارچ کا آغاز ہوگا۔

میٹرو سروس راول پنڈی

کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج کے تناظر میں صدر تا آئی جے پی اسٹاپ میٹرو بس سروس بند رہے گی، تاہم آئی جے پی سے پاک سیکریٹریٹ تک میٹرو بس سروس آپریشنل ہوگی۔

اسلام آباد / پنڈی ٹریفک

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ممکنہ لانگ مارچ کے تناظر میں راولپنڈی مری روڈ کنٹینرز لگا کر مکمل بند کردی گئی ہے۔ جب کہ فیض آباد انٹر چینچ بھی مکمل بند ہے۔ راول پنڈی سے اسلام آباد جانے والے راستے بند کردیئے گئے ہیں۔

ترجمان پنجاب حکومت

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے جمعرات 21 اکتوبر کو سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون کے دائرے میں چلنے والا ہمارے لئے مسئلہ نہیں، حکومت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، حکومت قانون اور آئین کے دائرے میں قدم اٹھائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مطالبات کے حق میں پُرامن احتجاج میں کوئی حرج نہیں، کوئی قانون کو ہاتھ ميں لے گا تو يہ منظور نہيں، حکومت مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

انٹرنیٹ اور موبائل سروس

لاہور کے علاقے داتا دربار، شاہدرہ اور نیا و پرانا راوی پل کے علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

لاہور میں جماعت کے مرکز یتیم خانہ چوک میں مسجد رحمت العالمین کے اطرف میں کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔

سے ملحقہ علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے جب کہ اس علاقے کے کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تاحکمِ ثانی بند رہے گی۔

لاہور میں حالیہ احتجاج اور صورت حال

لاہور میں ملتان روڈ پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا کئی روز سے جاری احتجاج دھرنے میں تبدیل ہوگیا، جماعت کی مرکزی شوریٰ نے حکومت کو مطالبات پر عملدرآمد کیلئے 2 روز کا الٹی میٹم دیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

لاہور میں احتجاج کیلئے ملتان روڈ پر کالعدم ٹی ایل پی کے مرکز کے سامنے اسٹیج بنایا گیا ہے، جہاں سیکڑوں کی تعداد میں ٹی ایل پی ورکرز موجود ہیں، جس کے نتیجے میں اطراف کی کئی سڑکیں ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند ہیں۔ ٹی ایل پی کی شوریٰ اور اراکین اور کارکنان اسی مقام سے اسلام آباد کی جانب آج مارچ کا آغاز کریں گے۔

قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بھی کئی سڑکوں کو کنٹینر اور ٹرک لگا کر بند کردیا ہے، جن میں یتیم خانہ چوک سے بند روڈ، سوڈیوال اسٹاپ، تھانہ نواں کوٹ والی گلی، مین ملتان روڈ اور مرکز کے اطراف کی تمام محلقہ گلیاں شامل ہیں۔

شیخ رشید

ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی کے لیے حکومت کو 21 اکتوبر کی شام تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ تاہم پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے پاکستان کو یورپی یونین سے نکال دیا جائے گا۔

پولیس کا کریک ڈاؤن

ٹی ایل پی کے کارکنوں سے نمٹنے کیلئے پولیس نے حکمتِ عملی مرتب کرلی ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور، راولپنڈی، پاکپتن، قصور، ملتان، شیخوپورہ، چکوال، ڈیرہ غازی خان، گجرات اور جہلم سمیت کئی شہروں سے ٹی ایل پی کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ٹی ایل پی نے ملتان رورڈ پر کنٹینر کھڑے کر کے سڑک بند کر رکھی ہے جب کہ اطراف کی گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کر رکھے ہیں۔ جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے سعد رضوی اپنے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ جو رواں برس اپریل سے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ اُن کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

ٹی ایل پی کے خلاف مقدمات

پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے اب تک 2 درجن کے قریب ٹی ایل پی کے کارکنوں کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں اُن کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

واضح رہے عدالتِ عالیہ لاہور نے یکم اکتوبر 2021 کو سعد رضوی کی نظر بندی ختم کرنے کے لیے احکامات جاری کیے تھے تاہم اطلاعات کے مطابق نقصِ امن میں خدشات کے پیشِ نظر تاحال اُن کی رہائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

اپریل معاہدہ ، کیا ہوا تھا؟

اپریل میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے منگل 20 اپریل کی صبح ویڈیو پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان طویل مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ہم آج ہی 20( اپریل) کو قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے جب کہ ٹی ایل پی کی جانب سے مسجد رحمت اللعامین ﷺ سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کر دیے جائیں گے۔

شیخ رشید کے مطابق بات چیت کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا اور جن کے خلاف مقدمات درج ہیں بشمول فورتھ شیڈول، ان کا بھی اخراج کیا جائے گا۔

سال 2021 کا احتجاج اور وزیراعظم کا خطاب

پیر 19 اپریل کو قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ جب بھی نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے کہا تھا علما سے کہوں گا کہ وہ میرا ساتھ دیں۔ وزیراعظم نے پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلایا گیا ہے، چار پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بلاک کی گئیں۔ آکسیجن کے سیلنڈر نہیں جا پا رہے تھے کرونا کے مریضوں کی اموات ہوئیں۔

فواد چوہدری کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے رواں سال اپریل میں ہونے والے کامیاب مذاکرات سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور کالعدم تحریک کے درمیان معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے، قراداد بھی پارلیمنٹ میں پیش ہوچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے کالعدم ٹی ایل پی کے گرفتار لوگ رہا کر دیے گئے ہیں اور اس ضمن میں ملک میں احتجاج کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔

الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی

مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد حکومت پاکستان نے اپریل 2021 میں تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر 1997ء کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد جولائی 2021 میں آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کیلئے کالعدم ٹی ایل پی پر آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ 201 کے تحت لگائی گئی۔

ٹی ایل پی پر پابندی کے خلاف تنظیم کی جانب سے وزارت داخلہ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ جس میں موقف اپنایا گیا کہ حکومت کی جانب سے نقص امن و کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر 15 اپریل 2021 کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کی گئی، جو حقائق کے منافی ہے۔

درخواست میں وزارت سے استدعا کی گئی تھی کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان سے پابندی ہٹائے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء کے عام انتخابات میں 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ سندھ اسمبلی میں اس کے 3 اراکین موجود ہیں۔ تنظیم کے نوجوان سربراہ سعد حسین رضوی اپریل سے کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔

سعد حسن رضوی کو تحریک لبیک کا سربراہ ان کے والد خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد بنایا گیا تھا۔

فیض آباد سے فیض حمید تک

سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سال 2017 میں جب ان کی جماعت اقتدار میں تھی اور تحریک لبیک نے فیض آباد پر دھرنا دیا تھا تو لوگوں میں ایک تاثر یہ بھی تھا کہ حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوتا ملک میں فرقہ واریت پھیلنے کا خطرہ تھا۔

واضح رہے کہ 2017 میں حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید شامل تھے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت عمل پہلے کرتی ہے اور سوچتی بعد میں ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بگھتنا پڑتا ہے۔

ٹی ایل پی کے مظاہروں کا آغاز کیسے ہوا؟

تحریکِ لبیک نے گزشتہ سال 2020 میں فرانس میں متنازع خاکوں کی اشاعت کے خلاف راول پنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا، جو 16 نومبر کو حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ختم ہوا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی کی جانب سے حکومت کو دوبارہ رواں سال 16 فروری 2021 کو احتجاج کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ جس میں 16فروری تک فرانس میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے معاملے پر پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ شامل تھا، تاہم اس سے قبل ہی 11 جنوری کو دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے اور معاہدہ ہوا۔ معاہدے میں تحریک لبیک کی نمائندگی کرنے والوں میں غلام غوث، ڈاکٹر محمد شفیق، غلام عباس اور محمد عمیر شامل تھے جب کہ حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیرِ مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی تھی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا تھا کہ جن رہنماؤں یا کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں، وہ فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے۔ معاہدے کی شق کے مطابق رواں سال 20 اپریل تک معاہدے کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور اِن سب باتوں کا اعلان خود وزیرِ اعظم کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 20 اپریل کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا کہا گیا تھا۔ تاہم معاملہ طول پکڑتا گیا اور ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر 19 اپریل کی صبح ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا اور کچھ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر کھلے رہے تو کہیں کہیں ہڑتال کا سماں رہا۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کئی شہروں میں تاجر برادری اور وکلا تنظیموں نے بھی اس ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اتوار 18 اپریل کو یہ احتجاج ایک مرتبہ پھر پرتشدد رخ اختیار کر گیا تھا اور لاہور میں تحریکِ لبیک اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیر کی صبح سحری کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ اتوار کو لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تمام اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئیں۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔

ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے جبکہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر دھاوا بولا جبکہ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت پولیس کے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube