Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد، کس کاپلڑا بھاری؟

SAMAA | - Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago

حتمی فيصلہ اسمبلی ميں ووٹنگ سے ہی ہوگا

بلوچستان ميں سياسی رسہ کشی جاری ہے اور بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی۔

نمبر گيم کی بات کريں تو 65 ارکان پر مشتمل اسمبلی ميں حکومتی ارکان کی تعداد 42 اور اپوزيشن ارکان کی تعداد 23 ہے مگر حکومت اور اتحايوں کے کچھ اراکين کے ناراض ہونے کے بعد منظر نامہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

فی الحال وزيراعلیٰ جام کمال کو بی اے پی کے 8، پی ٹی آئی کے 6، اے اين پی کے 4، ايچ ڈی پی کے 2 اور جے ڈبليو پی کے ایک اور ديگر  6 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

تحريک عدم اعتماد کی کاميابی کے ليے 33 ووٹوں کی ضرورت ہوگی مگر جام کمال کے حمایتی اراکین کی تعداد 27 ہے۔

دوسری طرف مخالف اتحاد ميں ايم ايم اے کے 11، بی اين پی مينگل کے 10 اور بی اے پی کے 11 ارکان شامل ہيں جبکہ پشتونخوا ميپ، تحريک انصاف کے ايک رکن ثناء اللہ زہری اور ديگر5 اراکين بھی جام کمال کی مخالف صف ميں ہيں۔

بظاہر 40 ارکان کے ساتھ جام کمال کے مخالفين کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے مگر حکومت اور اتحاديوں کا دعویٰ ہے کہ وہ بہت سے ارکان سے رابطے ميں ہيں اور وہ ان کے ساتھ ہی ہيں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube