Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

ٹیچرز ٹیسٹ: سندھ حکومت نے پاسنگ مارکس میں کمی کردی

SAMAA | - Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سندھ حکومت نے پرائمری اور جونيئر اسکول ٹيچرز کی بھرتی کيلئے امتحان دينے والوں کيلئے پاسنگ مارکس میں کمی کردی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ خواتين اور اقليتوں کيلئے پاسنگ مارکس کی حد 55 فيصد سے کم کرکے 50 اور معذور افراد کيلئے 33 فيصد کردی گئی۔

سندھ حکومت کی جانب سے آئی بی اے ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے رواں سال ستمبر میں پرائمری اور جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹيچرز کی بھرتی کیلئے ٹیسٹ لئے گئے تھے، جس میں 46 ہزار 500 اسامیوں کیلئے 5 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں تاہم تحریری امتحانات میں صرف 1385 (0.78 فیصد) امیدوار کامیاب قرار پائے تھے۔

اب سندھ حکومت نے پرائمری اور جونیئر اسکول ٹیچرز کی بھرتی کیلئے ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کیلئے امتحانات ميں پاسنگ مارکس کی حد کم کردی ہے۔

سندھ کابينہ نے خواتين، خصوصی افراد اور اقليتوں کيلئے پاسنگ مارکس ميں کمی کی منظوری دیدی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ خواتين اور اقليتوں کيلئے تحريری ٹيسٹ کے پاسنگ مارکس کی حد 55 فيصد سے کم کرکے 50 فيصد کردی گئی ہے جبکہ خصوصی افراد کيلئے اب پاسنگ مارکس 33 فيصد ہوں گے۔

سندھ کابینہ نے ٹیچرز کے امتحانات میں ہر مضمون میں 45 فیصد نمبر حاصل کرنے کی شرط بھی ختم کردی ہے، مرد اميدواروں کيلئے پاسنگ مارکس 55 فيصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین، اقلیت اور خصوصی افراد کو سہولت دینے کی کوشش کی، سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے، خصوصی افراد کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو معافی مانگتا ہوں۔

سندھ ميں پرائمری اسکول ٹيچرز کی 32 ہزار 510 خالی اسامياں ہیں جبکہ جونيئر اسکول ٹيچرز کی اساميوں کی تعداد 14 ہزار 39 سے بڑھا کر 17 ہزار کردی گئی ہے۔

سندھ کابينہ نے پرائمری اسکول ٹيچرز یونین کونسل کی بنیاد پر اور جونيئر ايلمنٹری اسکول ٹيچرز تعلقہ بنیاد پر مقرر کرنے کی بھی منظوری دیدی۔

ان کا کہنا ہے کہ وفاق کو اپنی مرضی کے قوانین لانے سے فرصت نہیں، حقیقت پر بات کرنے کے بجائے پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے، اپنے لوگوں کو بھرتی کرنا ہوتا تو ٹیسٹ کیوں لیتے، ٹيچرز کی بھرتی کيلئے ٹيسٹ ميں کچھ مسائل سامنے آئے۔

کم از کم اجرت 25 ہزار

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ حکومت کم از کم اجرت 25 ہزار روپے پر عملدرآمد کرائے گی، يقينی بنائيں گے کہ کم سے کم تنخواہ 25 ہزار دی جائے، عملدرآمد نہ کرنیوالے اداروں سے کٹوتی کی جائے گی، ایسے اداروں کسیخلاف ایکشن بھی لیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ اگر یہی مہنگائی رہی تو آئندہ جون میں 30 ہزار روپے کم از کم تنخواہ رکھیں گے۔

انہوں نے میڈیا سے سے بھی اپیل کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پروگرامز کریں اور ہماری غلطیاں دور کرنے کیلئے ہمارا سہارا بنیں۔

گندم کا بحران

مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی منطق کا مقابلہ نہیں کرسکتا، ان کے دور میں مکمل بدانتظامی ہے، گزشتہ سال بھی کہا کہ گندم کی اسمگلنگ روکیں، رواں سال بھی یہی حال ہے، ہمیں گندم ریلیز کرنے کیلئے 2 ماہ قبل کہا گیا، سندھ بھر ميں آٹا 70 روپے مل رہا ہے، اس حکومت کا کام ہر چیز دوسرے پر ڈالنا ہے، انہیں خود میں خامیاں نظر نہیں آتیں، اللہ کرے وفاق مہنگائی پر قابو پالے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو 433.25 ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی منظوری بھی دیدی۔

ریڈ لائن بس منصوبہ

انہوں نے بتایا کہ ريڈ لائن کا منصوبہ 65 ارب روپے کا ہے، ريڈ لائن و ديگر منصوبوں کيلئے وفاق کے تعاون کی ضرورت ہے، 240 بسيں کراچی کيلئے فائنل اسٹيج پر ہيں، آئندہ سال مارچ، اپريل تک بسیں پہنچ جائيں گی، مجھے کہا گيا 3 ماہ ميں گرين لائن کی بسيں لائيں، ميں نے جواب ديا 3 ماہ کم ہيں، کچھ وقت دے ديں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube