Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

نورمقدم قتل کیس:ملزم ظاہرجعفرکی والدہ عصمت کی درخواستِ ضمانت منظور

SAMAA | - Posted: Oct 18, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Oct 18, 2021 | Last Updated: 3 months ago

سپریم کورٹ میں نورمقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت ذاکر کی درخواست ضمانت منظورکرلی گئی ہے۔عدالت نے عصمت ذاکر کو10 لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے ملزمان ذاکرجعفر اورعصمت ذاکر کی ضمانتوں کی درخواست پر سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ نے عصمت ذاکر کو خاتون ہونے کا فائدہ دیتے ہوئے ضمانت منظور کی۔ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے درخواست ضمانت واپس لے لی۔ عدالت نے ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ نورمقدم کے قتل میں ملزم کی والدہ کا کردار ثانوی ہے۔ ملزمان کے وکیل کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرے گی، ٹرائل کورٹ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا پورا حق فراہم کرے۔مقدمے کے فیئر ٹرائل میں کسی صورت کمپرومائز نہیں کیا۔فوجداری مقدمہ 3 دن کا کیس ہوتا ہے۔ دو دو سال سال ٹرائل ہی مکمل نہیں ہونے دیا جاتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی ہدایت کردیتے ہیں۔

 اس سے قبل ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ عصمت ذاکر اور ذاکر جعفر  مرکزی ملزمان نہیں،ملزمان کو قتل چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دینے کا الزام ہے جبکہ قتل چھپانے کے حوالے سے ملزم کا بیان اور کالز ریکارڈ ہی شواہد ہیں۔خواجہ حارث نے بتایا کہ پونے 7 بجے سے 9 بجے تک والد ملزم سے رابطے میں رہا۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ ممکن ہے کہ فون کالز میں والد قتل کا کہہ رہا ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ وہ روک رہا ہو۔خواجہ حارث نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ بیٹا باپ کوسچ بتا ہی نہ رہا ہو۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت جانچنے کیلئے میڈیکل کروایا گیا؟۔ مدعی کے وکیل شاہ خاور نے بتایا کہ ملزم کا صرف منشیات کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے، ملزم کی ذہنی کیفیت جانچنے کیلئے کوئی معائنہ نہیں ہوا۔جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دئیے کہ اگرملزم انکار کرے توذہنی کیفیت نہیں دیکھی جاتی، ذہنی کیفیت کا سوال صرف اقرارِ جرم کی صورت میں اٹھتا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ ٹرائل کی کیا صورت حال ہے؟۔ اس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ ملزمان پرفرد جرم عائد ہوچکی ہے اور8 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ بظاہر ماں کے جرم میں شامل کے شواہد نہیں۔ جائزہ لیں گے کہ پولیس کو بلانے کی بجائے تھراپی کا کیوں کہا گیا۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ ماں نے 2 کالز گارڈ کو کی ہیں۔

نورمقدم کیس:ملزمان کی ڈیجیٹل شواہد فراہمی کی درخواست،مدعی کونوٹس جاری

تین روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد فراہمی کی درخواست پر مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مدعی مقدمہ شوکت مقدم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے20 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نےکمرہ عدالت میں نوٹس وصول کرلیا۔ ٹرائل روکنے کی درخواست پر بھی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا گیا۔

نورمقدم قتل کیس:مرکزی ملزم ظاہرجعفر سمیت12ملزمان پرفردِجرم عائد

درخواست گزار کے وکیل اسد جمال نے استدعا کی ہے کہ ابھی تک اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد فراہم نہیں کئے گئے۔ سیشن کورٹ نے ملزمان پر جمعرات 14 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کردی ہے،بیس اکتوبر کو ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہونگی،اس لئے 20 اکتوبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کریں۔ذاکرجعفر اورعصمت ذاکر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

 واضح رہے کہ جمعرات 14 اکتوبر کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔عدالت میں مرکزی ملزم سمیت 6 ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت پیش کیا گیا۔ ضمانت پر موجود تھراپی ورک کے 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ مرکزی ملزم ظاہرجعفر،ذاکر جعفر،عصمت آدم،افتخار،جمیل،جان محمد پرفرد جرم عائد کی گئی۔ تھراپی ورک کے طاہر ظہور سمیت6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں۔

نورمقدم کیس:ملزمان نےدستاویز فراہمی کا مسترد ہونےوالافیصلہ چیلنج کردیا

دوران سماعت ذاکر جعفر کے وکیل رضوان نے بتایا کہ عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا اوران شواہد کی بنا پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔شوکت مقدم کےوکیل نے بتایا کہ ان شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا کیوں کہ اس وقت فرد جرم عائد کی جا رہی ہے اور سزا نہیں سنائی جا رہی ہے۔

وکیل کے دلائل کے دوران ظاہر جعفر مسلسل مداخلت کرتے رہے۔انھوں نے تھراپی ورکس کے اہلکاروں کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندے میرے گھر داخل ہوئے۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے اور یہ میری جائیداد کا ذکر کررہے ہیں،میری جائیداد سے متعلق یہاں بات نہ کی جائے۔ ملزم ظاہر جعفر نے انکشاف کیا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی اور اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔

ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ میرے زندگی خطرے میں ہے،مجھ  پر رحم کریں۔ظاہر جعفر کا ملازم ملزم افتخار کمرہ عدالت میں رو پڑا اور کہا کہ نور مقدم کا کا دو سال سے آنا جانا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ یہ ہوجائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube