Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

نورمقدم کیس:ملزمان کی ڈیجیٹل شواہد فراہمی کی درخواست،مدعی کونوٹس جاری

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 15, 2021 | Last Updated: 3 months ago

نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد فراہمی کی درخواست پر مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں عصمت ذاکر اور ذاکر جعفر کی ٹرائل کورٹ کے 7 اکتوبر کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے مدعی مقدمہ شوکت مقدم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے20 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے کمرہ عدالت میں نوٹس وصول کرلیا۔ ٹرائل روکنے کی درخواست پر بھی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا گیا۔

نورمقدم قتل کیس:مرکزی ملزم ظاہرجعفر سمیت12ملزمان پرفردِجرم عائد

درخواست گزار کے وکیل اسد جمال نے استدعا کی ہے کہ ابھی تک اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد فراہم نہیں کئے گئے۔ سیشن کورٹ نے ملزمان پر جمعرات 14 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کردی ہے،بیس اکتوبر کو ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہونگی،اس لئے 20 اکتوبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کریں۔ذاکرجعفر اورعصمت ذاکر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

جمعرات 14 اکتوبر کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔عدالت میں مرکزی ملزم سمیت 6 ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت پیش کیا گیا۔ ضمانت پر موجود تھراپی ورک کے 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ مرکزی ملزم ظاہرجعفر،ذاکر جعفر،عصمت آدم،افتخار،جمیل،جان محمد پرفرد جرم عائد کی گئی۔ تھراپی ورک کے طاہر ظہور سمیت6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں۔

نورمقدم کیس:ملزمان نےدستاویز فراہمی کا مسترد ہونےوالافیصلہ چیلنج کردیا

دوران سماعت ذاکر جعفر کے وکیل رضوان نے بتایا کہ عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا اوران شواہد کی بنا پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔شوکت مقدم کےوکیل نے بتایا کہ ان شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا کیوں کہ اس وقت فرد جرم عائد کی جا رہی ہے اور سزا نہیں سنائی جا رہی ہے۔

وکیل کے دلائل کے دوران ظاہر جعفر مسلسل مداخلت کرتے رہے۔انھوں نے تھراپی ورکس کے اہلکاروں کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندے میرے گھر داخل ہوئے۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے اور یہ میری جائیداد کا ذکر کررہے ہیں،میری جائیداد سے متعلق یہاں بات نہ کی جائے۔ ملزم ظاہر جعفر نے انکشاف کیا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی اور اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔

ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ میرے زندگی خطرے میں ہے،مجھ  پر رحم کریں۔ظاہر جعفر کا ملازم ملزم افتخار کمرہ عدالت میں رو پڑا اور کہا کہ نور مقدم کا کا دو سال سے آنا جانا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ یہ ہوجائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube