Wednesday, December 8, 2021  | 3 Jamadilawal, 1443

رحیم یارخان:9افراد کا قتل،رکن اسمبلی ممتاز چانگ کی مدعی بننے کی پیشکش

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

مقتولین کےورثاء کوان کے سرداراورمقامی رکن صوبائی اسمبلی بھی چھوڑگئےہیں

رکن پنجاب اسمبلی ممتازچانگ نے پیش کش کی ہے کہ صادق آباد میں 9 افراد کے قتل ورثاء  کاروباری اورشریف لوگ ہیں اور اس لیے کس سے علیحدہ ہوگئے ہیں لیکن میں مدعی بننے کو تیار ہوں۔

رحیم یار خان میں رکن صوبائی اسمبلی ممتازچانگ نے پریس کانفرنس کرتےہوئے بتایا ہے کہ صادق آباد میں جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے قتل کئے گئے 9 افراد میں کوئی مدعی بننے کو تیار نہیں اور خوف کے باعث مظلوم مقتولین کے ورثاء کو ان کے سردار اور مقامی رکن صوبائی اسمبلی بھی چھوڑ گئے ہیں۔

 ممتاز چانگ نے کہا کہ شہر میں ایک ایس ایچ او جرائم پیشہ عناصر سے ملی بھگت کی وجہ سے برطرف ہوکربحال ہوگیا ہے۔عدالت اور ضلعی پولیس کو سیکیورٹی کے لئے دی گئی درخواست انڈھڑ گینگ کے پاس پہنچ گئی اور شرپسند گروہ نے اس درخواست کی دستاویز بمعہ دھمکی بھیجی ہے۔

ممتازچانگ نے کہا کہ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں جرائم پیشہ عناصر سے ملی ہوئی ہیں۔ سالانہ 10 کروڑ روپے ٹیکس دینے کے باوجود پنجاب پولیس سے تحفظ نہیں مل رہا اور مظلوموں کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈھڑ گینگ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

اس سے قبل ایس پی انوسٹی گیشن ارسلان شاہزیب کی جگہ دوست محمد کو نیا ایس پی انوسٹی گیشن رحیم یار خان تعینات کردیا گیا ہے۔

بدھ کو سابقہ ضلع ناظم اظہر لغاری کے کزن کی گاڑی پر اندھڑ گینگ کے ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی۔گاڑی میں سوار ذوہیب لغاری کےوالد سردار منصور لغاری فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے اور ان کے جسم کے نچلے حصے پر زخم آئے۔ فائرنگ سے گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ماہی چوک واقعے کی سی سی ٹی وی:۔

تین روز قبل صادق آباد میں ہونے والی  قتل کی واردات میں مسلح ڈاکوؤں نے پیٹرول پمپ پر دن کے وقت دھاوا بول دیا۔ فوٹیج میں 3 ڈاکو ہاتھوں میں اسلحہ لیے دیکھے جاسکتے ہیں جنھوں نے پہلے پمپ مالکان سے تکرار کی اور جس کے بعد فائرنگ کرکے ان تمام افراد کو قتل کردیا۔

انڈھڑ گینگ کے کارندوں کی فائرنگ سے ہر طرف بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچا کر بھاگتے رہے۔شرپسندوں نے مسجد سے نماز پڑھ  کرآنے والے افراد کوبھی گولیاں ماریں جبکہ راہ گیر بھی فائرنگ کی زد میں آئے۔

رحیم یارخان:9افراد کا قتل،ہڑتال کے بعد ڈی پی او اسد سرفراز تبدیل

فوٹیج میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فائرنگ کے بعد پیڑول پمپ کے اطراف سناٹا چھاگیا اور ڈاکوبا آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مدعی خوف کا شکار

ابتدائی تفتیش کے مطابق  ابھی تک پولیس کی جانب سے کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی جبکہ جس شخص کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اس کو بھی ڈاکوؤں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہونے پر اس نے کیس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔عدم تحفظ کا شکار مقتولین کے ورثاء علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شخص نے بتایا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور وہ اپنا کاروبار کرتے ہیں۔اتوار کی دوپہرعلاقہ مکینوں نے مقتولین کی لاشیں سندھ اور بلوچستان سے پنجاب آنے والی شاہراہ پررکھ کراحتجاج کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی۔

ڈی پی او تبدیل

صادق آباد میں 9 افراد کے قتل کےبعد شہر بھر میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اورمظاہرین کے دباؤ پر ڈی پی او رحیم یار خان اسد سرفراز کو تبدیل کردیا گیا ہے۔نئےڈی پی او کیپٹن ریٹائرڈ علی ضیاء کو چارج سنبھالنے کا حکم جاری کرنے کردیا ہے۔

پیر کوماہی چوک میں جاں بحق 9افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مقتولین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب صادق آباد میں قتل ہونےوالے مقتولین کے ورثاء سے اظہار تعزیت کیلئے جائے ماہی چوک پہنچے اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کی۔ انھوں نے بتایا کہ اس سانحہ پر محکمہ پولیس شرمسار ہےاور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے مقتولین کے ورثاء کو قاتلوں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کروائی۔

صادق آباد:9افراد کا قتل،مدعی کا کیس سے دستبردار ہونےکافیصلہ

وزیراعلی پنجاب عثمان بزادر کے نوٹس کے بعد ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ ظفراقبال اعوان نے متعلقہ ڈی ایس پی سرکل صادق آباد عباس اختر، ایس ایچ اوتھانہ کوٹ سبزل صفدر سندھو اور چوکی انچارج کو معطل کردیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube