Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری:مخصوص طبقے کا کھیل ناکام ہوچکا،فواد

SAMAA | - Posted: Oct 14, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Oct 14, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago

وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہوجائے گا، اس حوالے سے مخصوص طبقے کا کھیل ناکام ہوچکا ہے۔

جمعرات کو ٹویٹ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ اس معاملے پر جو کھیل کھیلنا چاہتا تھا وہ ناکام ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نئے ڈی جی آئی ایس آئی کیلئے انٹرویو کریں گےاوران عہدوں پر تعیناتی سے قبل ملاقات ایک عمومی روایت ہے۔ فوادچوہدری نے مزید کہا کہ ایسے عمل کو بھی متنازعہ بنانا انتہائی نامناسب ہے۔

پریس کانفرنس

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری سے متعلق معاملات طے پاچکے ہیں، انشاء اللہ اعتماد کی فضاء میں فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی جلد تقرری ہوگی، سول ملٹری دونوں سائیڈ آن بورڈ ہیں، فوج کا وقار پورے پاکستان کو عزيز ہے۔

گزشتہ روز فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پروزیراعظم اور آرمی چیف کےدرمیان مشاورت کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاک فوج میں نئی تقرری کا طریقہ کارشروع ہوچکا ہے اور ایک بار پھرسول اورفوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کیلئے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں۔

منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے، اس حوالے سے تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ پیر کی رات وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین ایک تفصیلی میٹنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں۔

آئی۔ایس۔آئی چیف کی تقرری کااختیار وزیراعظم کے پاس ہے، وزیراطلاعات

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آرمی چیف ایسا کوئی قدم نہيں اٹھائيں گے جس سے سول سيٹ اپ کی عزت کم ہو جبکہ ويراعظم بھی کوئی ايسا فیصلہ نہیں کریں گے جس سے فوج کی توقیر ميں کمی واقع ہو۔

یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ وزیراعظم آفس ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تاخیر کررہا تھا۔

ڈی جی آئی ایس آئی کےنوٹیفکیشن کےمعاملےکوغلط رنگ دیاگیا،وزیراعظم

آئی ایس پی آر نے 6 اکتوبر کو پاک فوج میں تقرری و تبادلوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کردیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر وزیراعظم آفس کی جانب سے نوٹیفکیشن کے اجراء تک مؤثر نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مبینہ طور پر نوٹیفکیشن میں تاخیر کی گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی کور کمانڈر پشاور تقرری نے انہیں اگلا آرمی چیف بننے کے قریب کردیا ہے۔

سربراہ پاک فوج متوقع امیدواروں میں تجربہ کی بنیاد پر تھری اسٹار جنرل یہ ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، کمانڈر 10 کور، راولپنڈی

لیفٹننٹ جنرل اظہر عباس، چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس)، جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی

نعمان محمود، کمانڈر 11 کور، پشاور

لیفٹننٹ جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس آئی

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube