Wednesday, December 8, 2021  | 3 Jamadilawal, 1443

پارلیمانی کمیٹی نے جبراًتبدیلی مذہب کی روک تھام کابل مستردکردیا

SAMAA | - Posted: Oct 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago

مذہب کی جبراً تبدیلی سے اقلیتوں کو بچانے کیلئے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی نے اینٹی فورسڈ کنورژن بل یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ’’قانون بنانے کیلئے حالات سازگار نہیں‘‘۔

اسلام آباد میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سیمینار سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اقلیتی خواتین کے مسائل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، یہ مسائل معاشرتی اور سماجی ہیں، مذہب میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسا بل بننے سے اقلیتوں کے مسائل اضافہ ہوگا اور یہ انہیں مزید خطرے میں ڈال دے گا، اسلام میں جبراً مذہب کی تبدیلی یا شادی کا کوئی تصور نہیں۔

نور الحق قادری کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور ان کا آفس اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 24 گھنٹے کام کررہا ہے، زبردستی مذہب کی تبدیلی کے معاملے سے وزیراعظم ہاؤس، صوبائی حکومتوں اور قومی اسمبلی اسپیکر کے غور کے بعد دیگر اقدامات کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

بین المذاہب ہم آہنگی کونسل ملک بھر میں اقلیتوں کی شکایات کے ازالے کیلئے کام کررہی ہیں، اب تک 160 شکایات حل کی جاچکی ہیں۔

دریں اثنا ، پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ بل کی مخالفت کی جارہی ہے کیونکہ جبری مذہب کی تبدیلیوں کے حوالے سے عمر کی حد مقرر کرنا اسلام اور آئین کے خلاف ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن پارلیمنٹ رمیش کمار کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ کمیٹی ملک بھر میں ہونیوالے مذہب کی جبری تبدیلیوں کے واقعات سے غافل ہے، اس طرح کے فیصلے اقلیتوں کی زندگی جہنم بنا دیں گے۔

رواں سال فروری میں سینیٹ کے ایک پینل نے بھی اس بل کو مسترد کردیا تھا۔ انگریزی روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست میں علماء نے مجوزہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اسے “سازش” اور “مغرب کا جال” قرار دیا۔

جبراً تبدیلی مذہب کے انسداد کا قانون کیا ہے؟

مجوزہ قانون مذہبی اقلیت کے کسی فرد کی جبراً مذہب تبدیلی پر پابندی عائد کرتا ہے۔ ایک غیر مسلم، جو بچہ نہیں ہے اور دوسرا مذہب قبول کرنے کے قابل اور آمادہ ہے، اسے اپنے شہر یا ضلع کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کو تبدیلی مذہب کے سرٹیفکیٹ کیلئے درخواست دینی ہوگی۔

قانون کے مطابق اس شخص کو اپنا شناختی کارڈ، مذہب، عمر، جنس اور اپنے والدین یا شریک حیات کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، سرٹیفکیٹ میں تبدیلی مذہب کی وجہ بھی شامل ہونی چاہئے۔

سرٹیفکیٹ جمع ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج درخواست گزار کے انٹرویو کیلئے ایک تاریخ مقرر کریگا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں لیا گیا۔

مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج غیر مسلموں کو مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور ایڈیشنل سیشن جج کے دفتر واپس آنے کیلئے 90 دن کا وقت دے سکتا ہے۔

مذہب کی جبراً تبدیلی ثابت ہونے پر قانون یہ سزائیں تجویز کرتا ہے۔

جبراً کسی کا مذہب تبدیل کرانے والے کو پانچ سے 10 سال کی قید کی سزا اور ایک لاکھ سے 2 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

کسی کا جبری مذہب تبدیل کرنیوالے کو 100،000 روپے جرمانہ اور/یا تین سے پانچ سال قید کی سزا ہوگی۔

زبردستی کسی کا مذہب تبدیل کرانیوالے کو بھی ایک لاکھ روپے جرمانہ اور یا تین سے پانچ سال کی قید ہوگی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube