Tuesday, October 19, 2021  | 12 Rabiulawal, 1443

وزیراعظم کی خواہش تھی آئی ایس آئی چیف برقراررہیں، عامرڈوگر

SAMAA | - Posted: Oct 12, 2021 | Last Updated: 1 week ago
Posted: Oct 12, 2021 | Last Updated: 1 week ago

آرمی چیف اور وزیراعظم کے تعلقات مثالی ہیں، معاون خصوصی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ افغانستان کی مخصوص صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر برقرار رہیں۔

آئی ایس پی آر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر پشاور مقرر کردیا گیا ہے، ان کی جگہ لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد انجم ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس ہوں گے، تاہم وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے تاحال اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماء عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ آج کے وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے تمام اراکین کو معاملے پر اعتماد میں لیا، ان کا کہنا تھا کہ میرے اور آرمی چیف کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویراعظم نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ افغانستان کی صورتحال مستحکم ہونے تک مزید کچھ ماہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی کے منصب پر برقرار رہیں۔

عامر ڈوگر کا مزید کہنا تھا کہ کل رات وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ایک طویل ملاقات ہوئی تھی، جس میں طے پایا کہ اب قواعد کے مطابق وہاں سے مزید 3 یا 5 نام آئیں گے، جس میں سے وزیراعظم کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کوئی ذاتی پسند یا ناپسند نہیں لیکن شاید طریقۂ کار میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔ عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ جنرل ندیم انجم ایک اچھے جنرل ہیں، مجھے ان کے نام پر کوئی اعتراض نہیں لیکن معاملات کو قواعد کے مطابق ہونا چاہئے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی مخصوص صورتحال کے تناظر میں ہم نہیں چاہتے کہ فوج کا مورال ڈاؤن ہو یا ہم ان کو کم تر سمجھیں۔

عامر ڈوگر نے یہ بھی کہا کہ آج کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم کی باڈی لینگویج مثبت تھی، اپوزیشن کی جانب سے جیسا ماحول بنایا جارہا ہے، ویسا کچھ ہونے والا نہیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ایک ایماندار اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے شخص ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ وہ عوام کے منتخب وزیراعظم اور ملک کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے امریکا کو بھی ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ کہا، جبکہ آرمی چیف کو بھی کہا کہ اس معاملے کو قواعد کے مطابق مکمل کیا جائے۔ عامر ڈوگر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ میں ربڑ اسٹیمپ نہیں ہوں۔

پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے جمہوری سسٹم کو بہت سپورٹ کیا اور یہ مناسب ہوتا کہ بات یہاں تک نہ پہنچتی۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنماء مسلم لیگ ن مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اس اہم معاملے پر وزیراعظم ہاؤس کا خاص قسم کا رویہ ہے، ورنہ فواد چوہدری کو اس معاملے پر پریس کانفرنس کی کیا ضرورت تھی۔

مصدق ملک نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی برقرار رہے تو یہ معاملہ مشاورت سے حل ہونا چاہئے تھا، بات پریس کانفرنس تک نہیں پہنچنی چاہئے تھی۔

ن لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ یہاں مسئلہ عمران خان کی انا کا بھی ہے، انہوں نے کرکٹ میں ماجد خان اور سیاست میں جہانگیر ترین کے ساتھ جو کیا یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے رہنماء پیپلزپارٹی اور سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اییس صورتحال کسی بھی ملک کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتی، تناؤ کی صورتحال ملک کیلئے نقصاندہ ہوگی۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آج سے پہلے حکومت تردید کررہی تھی مگر اب کہا جارہا ہے کہ معاملات جلدی حل کئے جائیں گے، عمران خان عوام کو ریلیف نہیں دے سکے اب وہ لوگوں کی توجہ کسی اور جانب لیجانا چاہتے ہیں مگر اس سے عوام کا مزید نقصان ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube