Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

ہائیکورٹ کا گٹکا،ماواکی فروخت میں ملوث پولیس افسران،اہلکاروں کیخلاف کارروائی کاحکم

SAMAA | - Posted: Oct 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا اور ماوا کے فروخت میں ملوث پولیس اہلکاروں ، افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔

پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں گٹکا، ماوا اور دیگر مضر صحت اشیا کی فروخت کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا اور ماوا کے فروخت میں ملوث پولیس اہلکاروں ، افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ گٹکا اور ماوا کی فروخت میں ملوث افسران کی فہرستیں مرتب کی جائیں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے کہ گٹکے کی فروخت میں پولیس کےاعلی افسران بھی شامل ہیں، ایسے پولیس اہلکاروں اور افسران کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ گٹکا اور ماوا کھانے والوں کو خطرناک بیماریاں لاحق ہورہی ہیں اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر گٹکے کی فروخت ممکن ہی نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ گٹکا اور ماوا کی فروخت پر پابندی یقینی بنائی جائے اور گٹکا اور ماوا کی خرید و فروخت روکنے کے لیے رینجرز کی مدد لی جائے۔عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ اس سلسلے میں رینجرز کو پولیس کی مدد کرنے کی ہدایت کریں گے۔

اس کےعلاوہ عدالت نے مزمل ممتاز ایڈووکیٹ کی فریقین بننے کی درخواست منظور کرلی۔ مزمل ممتاز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایس ایچ او لانڈھی نے گٹکا فروش گرفتار اصل ملزم کو چھوڑ کر دوسرے کی گرفتاری ظاہر کردی۔ عدالت نے ڈی آئی جی سے پولیس افسران کے خلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube