Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

چندلوگوں کی خواہش پرتبدیلی کاحکومت،اپوزیشن سب کونقصان ہوگا، وزیراعلیٰ بلوچستان

SAMAA | - Posted: Oct 8, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 8, 2021 | Last Updated: 4 months ago

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا ہے کہ چند لوگوں کی خواہش پر تبدیلی سے اپوزیشن اور حکومت دونوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا، جس کا بلوچستان متحمل نہیں ہوسکتا، اپوزیشن سمیت تمام ممبران کو برابری کی بنیاد پر فنڈز دیئے۔

کوئٹہ میں سینئر صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 3 سالہ دور میں صوبے کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیگر حوالوں سے جو کام کروائے وہ قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سمیت تمام ممبران کو برابری کی بنیاد پر فنڈز دیئے ہیں، پارٹی صدارت اور امور کے حوالے سے مشاورت اور گفت و شنید سے معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں اور نہ ہی بات چیت کیلئے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ جام کمال خان کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کی خواہش پر تبدیلی سے اپوزیشن اور حکومت دونوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا جس کا بلوچستان متحمل نہیں ہوسکتا، میرے دروازے بحیثیت چیف ایگزیکٹو منتخب نمائندوں سمیت سب کیلئے کھلے ہیں، کسی کے دباﺅ میں آکر مستعفی نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمارے اتحادی میرے ساتھ ہیں اور ہم تمام آپشنز استعمال کرتے ہوئے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

جام کمال خان نے مزید کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی قیام سے لیکر اب تک مختلف مسائل سے دو چار رہی ہے اور 2018ء سے ہی اس میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں لیکن ہم نے بلوچستان کی پسماندگی اور لوگوں میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیا اور قلیل مدت میں کامیاب ہوکر برسر اقتدار آئے اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائی کیونکہ ہماری شروع دن سے کوشش رہی ہے کہ تمام معاملات، تحفظات اور خدشات کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے، لیکن کچھ ساتھی ہم سے نالاں رہے ہیں کیونکہ جب کسی کے پاس کوئی منصب یا ذمہ داری ہوتی ہے تو وہ ہر ایک کو خوش نہیں رکھ سکتا، کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی بات پر نالاں رہتا ہے اور گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جس میں قانونی قواعد و ضوابط کو پورا نہیں کیا گیا، جس کے بعد ہماری جماعت کے ساتھی بھی ناراض اراکین کی شکل میں سامنے آئے، میں نے تمام ساتھیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں تاکہ ان کے تحفظات اور خدشات کا جائزہ لے سکوں، کسی کے بھی تحفظات اور خدشات اجتماعی نوعیت کے منصوبوں اور وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہیں تھے بلکہ معمولی نوعیت کے تھے جن کے ذریعے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے ہمارے دوستوں سے جو وعدے کئے گئے اس کے بعد انہوں نے اپنے استعفے گورنر کو پیش کئے، اب ان کی وہ قسم بھی پوری ہوگئی ہے لیکن سمجھ نہیں آرہی کہ ہمارے ساتھی کیسے ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔

جام کمال خان کا کہنا ہے کہ ہمارے ناراض دوست وزارتوں سے مستعفی ہونے کے بعد واپس آسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے جو وعدے کئے تھے، وہ پورے ہوگئے وہ ہمارے بھائی ہیں، صوبے میں کسی بھی منتخب نمائندے کے علاقے میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی کسی غیر منتخب نمائندے کے ذریعے کوئی کام کرایا بلکہ صوبہ بھر میں اجتماعی نوعیت کی اسکیمیں شروع کرائی ہیں جو کسی خاص علاقے یا حلقے میں نہیں بلکہ بلوچستان بھر میں کام کرائے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ سردار صالح بھوتانی کی تجویز کردہ اسکیمیں بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئیں جبکہ میر عبدالقدوس بزنجو نے اپنے حلقے کیلئے کوئی اسکیم نہیں دی اور نہ ہی رابطے میں ہیں، ہم نے بی اے پی کے کسی ناراض رکن کے حلقے میں کبھی کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ انہیں فنڈز دیئے ہیں۔

جام کمال خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت میں 18 ماہ کا عرصہ باقی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے 3 سالہ دور اقتدار کی پی ایس ڈی پی اور ماضی کی حکومتوں کی پی ایس ڈی پی کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ ہم نے اپوزیشن کو کتنے فنڈز دیئے اور انہیں سابقہ دور میں کتنے فنڈز ملے تھے، میری کوشش رہی ہے کہ میں انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کو فروغ دوں تاکہ تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہوکر مسائل کے حل کو ممکن بنا سکوں۔

وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے ہمیشہ برد باری کا ثبوت دیتے ہوئے مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا، انہوں نے حکومت کو مضبوط بنانے کیلئے ہر موقع پر اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube