Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2021ء کی منظوری دیدی

SAMAA | - Posted: Oct 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: آن لائن

وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2021ء کی سرکولیشن سمری کے تحت منظوری دیدی، مسودہ صدر مملکت کو ارسال کردیا گیا جن کے دستخط کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق ہوجائے گا۔

نمائندہ سماء کے مطابق وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے نیب آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری دیدی، آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری بھی دی گئی۔

آرڈیننس کا مسودہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوادیا گیا، جن کے دستخط کے بعد آرڈیننس کا اطلاق ہوجائے گا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کی تقرری صدر پاکستان، اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کی مشاورت سے کریں گے، اگر صدرمملکت کی مشاورت کے بعد بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہوتا تو اسپیکر قومی اسمبلی ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے 6، 6 اراکین شامل ہوں گے۔

فروغ نسیم نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کی تجویز کے مطابق نیب عدالتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور پہلے مرحلے میں 30 عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، نیب عدالتوں میں ججوں کی تقرری کیلئے بھی طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے جس کے مطابق موجودہ ضلعی عدالتوں کے جج، ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اور ہائیکورٹس کے جج بھی چیف جسٹس کی مشاورت سے تعینات کئے جائیں گے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے مس کنڈکٹ کی شکایت کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل ہی فورم رکھا گیا ہے اور جب تک نئے چیئرمین نیب کی تقرری نہیں ہوگی موجودہ چیئرمین اپنے مکمل قانونی اختیارات کے ساتھ بدستور فرائض انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین نیب کی کارکردگی سب کے سامنے ہے تاہم یہ ضروری نہیں کہ موجودہ چیئرمین نیب ہی برقرار رکھا جائے بلکہ ان کے ساتھ باقی ناموں پر بھی غور کیا جائے گا۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا پراسیکیوٹر جنرل کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے اور نیب اب کیسز چلانے یا ختم کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل سے آزادانہ رائے لے سکیں گے۔

نیب آرڈیننس میں کیا ہے؟

چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے حکومت کے تیار کردہ آرڈیننس کے بنیادی نکات کے مطابق وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت کی موجودہ شق برقرار رہے گی، نئے چیئرمین نیب کیلئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نام پر بھی غور ہوسکے گا۔

چیئرمین نیب کے معاملے پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت ہوگی، اتفاق نہ ہوا تو بات پارلیمانی کمیٹی میں جائے گی، مذاکرات میں ڈيڈ لاک ہوا تو موجودہ چیئرمین نیب یعنی جاوید اقبال ہی عہدے پر رہیں گے۔

آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا ہوگا، چیئرمین نیب کو توسیع نہ دینے کی شق آرڈیننس کے ذریعے ہٹادی گئی، نیب عدالتوں کو 90 دن سے پہلے ملزم کو ضمانت دینے کا اختیار بھی مل گیا، اب نیب عدالتوں میں ایڈيشنل سیشن جج اور سابق جج صاحبان بھی تعینات کئے جاسکیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube