Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

بھارت کو کلبھوشن کو وکیل فراہم کرنے کا ایک اور موقع

SAMAA | - Posted: Oct 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کلبھوشن کی زندگی کا سوال ہے،عدالت کا وکیل دینا مناسب نہیں،ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نےبھارت کو کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کا ایک اور موقع دے دیا ہے۔

منگل کو کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہمی کی وزارت قانون کی درخواست پر سماعت ہوئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 رکنی بنچ نے بھارت کو وکیل فراہمی کا ایک اور موقع دے دیا۔

دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ 5 مئی کے عدالتی حکم پر بھارت کو پیغام بھجوایا گیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ یہ عدالت کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرے اور وہ اپیل دائر کرے گا، حکومت پاکستان اپنی طرف سے یہ نہیں کرسکتی، عدالت ہی کر سکتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کس قانون کے تحت ہم یہ سب کریں ؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بھارت جب اپیل میں خود آہی نہیں رہا تو ہم کیسے سنیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ہم نے عمل کرانا ہے، جو مؤثر کارروائی سے ہی ہو سکتا ہے،ہم نے ویانا کنونشن کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،کیس میں کلبھوشن کی زندگی کا سوال ہے،ہم نے بھارت کو ہر آپشن دیا، یہ شاید ہمارے لئے مناسب نہیں ہوگا کہ وکیل خود فراہم کریں، ہم اب بھی توقع کرتے ہیں بھارت کلبھوشن کیس میں آگے بڑھے گا۔کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے۔

کلبھوشن عدالت آئیگا توتحفظ کا معاملہ دیکھ سکیں گے،عدالت

اپریل 2021 میں بھارتی سفارتخانے کے وکیل بیرسٹر شاہ نواز نون نے کلبھوشن کیس میں پیروی سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی۔

انہوں نےعدالت میں متفرق درخواست میں بتایا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کیس میں میرے پاس کوئی وکالت نامہ موجود نہیں۔کیس میں بھارت کی جانب سے کوئی بیان نہیں دے سکتا۔

 اس سے قبل 6 اکتوبر 2020 کو سینیر وکلاء مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی تھی۔عدالت عالیہ نے سینیر وکیل عابد حسن منٹو اور مخدوم علی خان کو کلبھوشن کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔ دونوں نے عدالت میں جمع جواب میں یہ ذمہ داری نبھانے سے معذرت کرتے ہوئے جواب عدالت میں جمع کرادیا تھا جس میں عابد حسن منٹو نے خراب صحت اور مخدوم علی خان نے پیشہ وارانہ وجوہات کا جواز بنایا ۔

بھارت کو کلبھوشن یادیو کو کونسل رسائی کاایک اور موقع

عابد منٹو نے مؤقف اپنایا کہ اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں۔ کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر بھی ہوچکا ہوں۔ عدالت معذرت قبول کرے۔

مخدوم علی خان کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے معاون مقرر کیا جانا باعث فخر ہے لیکن پیشہ ورانہ وجوہات کی بنیاد پر معاونت نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ وزارت قانون نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادھوکو3 مارچ 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube