Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

کراچی:خستہ حالی کی شکایت نےخاکروبوں سےگھر ہی چھین لیے

SAMAA | - Posted: Sep 30, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 30, 2021 | Last Updated: 4 months ago

کے ايم سی نے خاکروبوں کو متبادل جگہ ديئے بغير ہی نارائن پورہ کوارٹرز کی عمارت گرادی جس کےباعث خاکروبوں نے بچوں کے ساتھ ملبے پر رہنے پر مجبور ہوگئے۔

سماء نے اگست میں  کے ایم سی کے خاکروبوں کی سرکاری رہائش گاہ  نارائن پورا سوئپرز کوارٹرز کی خستہ حالی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

رپورٹ میں دکھایا گیا تھا کہ شہر کو سب سے بنیادی سروس دینے والے کس طرح  اپنے جگر گوشوں کے ساتھ کھنڈرات میں  رہ رہے تھے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نارائن پورہ کوارٹرز کے مکینوں کو متبادل جگہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

رپورٹ چلنے کے بعد  جو کچھ ہوا وہ کے ایم سی کے خاکروبوں کے  وہم و گمان میں بھی نہیں تھا متبادل جگہ دیے بغیر ہی ان کھنڈرات سے بھی محروم کردیا گیا اور خاکروبوں کو پوری رات  بچوں کے ساتھ ملبے  پر گزارنی پڑی۔

کے ایم سی کے ایکشن  سے بے گھر ہونے والی انیلا  اب اپنی قلیل تنخواہ کا بڑا حصہ مکان کے کرائے پر خرچ کر رہی ہیں اور  انہیں وہ متبادل جگہ ملنے کے ساتھ نارائن پورہ کوارٹرز کی نئی عمارت میں  رہائش ملنے کی بھی کوئی امید نہیں ہے۔

عمارت کو گرانے کی کارروائی میں حصہ لینے والے  کے ایم سی افسر کا  دعویٰ تھا کہ نارائن پورہ سے بے دخل ہونے والوں کو متبادل جگہ فراہم کردی گئی ہے۔

کے ایم سی افسر کے دعوے  کی تصدیق کے لیے سماء ان علاقوں میں بھی پہنچا جہاں نارائن پورہ کے خاکروبوں کو متبادل جگہ دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر وہاں کھنڈرات سے بے دخل کیے جانے والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ لوگوں سے ہمدری رکھتا ہوں لیکن اگر ان کو وہاں سے شفٹ نہ کیا جاتا تو کل کو کوئی حادثہ بھی ہوسکتا تھا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ان کے نوٹس میں جب معاملہ آیا تو انہوں نے سب سے پہلے یہ دیکھا کہ کیا عمارت کو بحال کیا جاسکتا ہے یا نہیں لیکن پتہ چلا کہ اس کا کچھ نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے پاس کوئی متبادل جگہ نہیں ہے اور نہ ہی متاثرہ افراد کو کوئی فوری ریلیف فراہم کی جاسکتی ہے تاہم مستقبل میں اپنے ریسورسز سے متاثرین کی مدد کی کوشش کریں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube