Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

پاک ایران 250ریمدان بارڈر کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں معطل

SAMAA | - Posted: Sep 30, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 30, 2021 | Last Updated: 4 months ago

بلوچستان کے ضلع گوادر سے منسلک پاک ایران بارڈر کی بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئیں جبکہ سرحد کے دونوں اطراف تجارتی سامان سے لدھے کنٹینرز اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے پاک ایران 250ریمدان بارڈر کی بندش کے باعث برآمد اور درآمد مکمل طور پر معطل ہے۔ تاجروں کے کروڑوں روپے کے آم، کھجور، انگور، سیب اور دوسرے تازہ پھل و سبزی خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

واضع رہے تفتان بارڈر کراچی، سندھ اور جنوبی پنجاب سے کافی فاصلہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر تجارت گوادر باڈر 250 پر منتقل ہو رہی ہے۔

تاجروں کا الزام ہے کہ حال ہی میں تعینات ہونے والے ایک انسپکٹر نے دونوں اطراف کے ڈرائیوروں کے لیے پاسپورٹ اور ویزا کو لازم قرار دیکر سینکڑوں گاڑیوں کو باڈر پر روک دیا ہے۔ پاک ایران بارڈر ٹرید معاہدے کے تحت بازارچہ یا لوکل مارکیٹ سے آنے والے گاڑیوں کو تفتان، چمن، مند اور پنجگور میں پاسپورٹ ویزا کے حصول سے استثنیٰ حاصل ہے۔

ٹوففٹی سرحد سے ماہانہ 500 ملین سے زائد ٹیکس ایف بی آر کو وصول ہو رہا ہے جبکہ گزشتہ سال ایف بی آر کے ایک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بارڈر ٹریڈ سے حکومت کو ریکارڈ ٹیکس جمع ہو چکا ہے۔

ایف آئی اے گوادر کے اختیارات سے تجاوز کے عمل سے برآمد اور درآمد کے مد میں تاجروں کو کروڑوں روپے کی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ حکومت کو بھی زرمبادلہ کے طور نقصان سامنا کرنا پڑے گا۔

تاجر برادری نے ڈی جی ایف آئی اور ڈپٹی کمشنر گوادر سے فوری طور پر نوٹس لیکر 250 بارڈر کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube